Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل میں وزراء کو انتخابی مہم کے دوران عوامی ناراضگی کا سامنا

ورنگل میں وزراء کو انتخابی مہم کے دوران عوامی ناراضگی کا سامنا

وعدوں کی تکمیل کے بارے میں سوالات، مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس قائدین لاجواب
حیدرآباد۔/13نومبر، ( سیاست نیوز) ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخابات میں ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کو انتخابی مہم کے دوران جگہ جگہ عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کسانوں، طلباء اور اقلیتوں کی جانب سے حکومت کے وعدوں کی تکمیل کے بارے میں استفسارات کئے جارہے ہیں جس کا موثر جواب دینے سے ٹی آر ایس قائدین قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم میں مصروف ریاستی وزیر ہریش راؤ اور ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی کو ضلع  ورنگل علاقہ میں عوام کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی طرح وردھنا پیٹ منڈل کے سنگارم علاقہ میں رکن پارلیمنٹ ونود کمار کو مقامی افراد نے وعدوں کی تکمیل کے بارے میں استفسارات کئے۔ کڑپی کنڈہ علاقہ میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کے خلاف ایم آر پی ایس کے کارکنوں نے سیاہ پرچموں کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ ریاستی وزراء اور قائدین کو اقلیتی آبادی والے علاقوں میں مسلم تحفظات کے وعدے پر عمل آوری سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسے جیسے انتخابی مہم شدت اختیار کررہی ہے رائے دہندوں نے اپنے مقامی مسائل اور حکومت کے وعدوں کی عدم تکمیل پر قائدین کی سرزنش کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی دیہی علاقوں میں عوام نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی عدم کارکردگی کی کھلے عام شکایت کی اور ٹی آر ایس کے جلسہ میں رکاوٹ پیدا کردی۔ عوام کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے وزراء کو مداخلت کرنی پڑی اور رائے دہندوں کو سمجھا منا کر کسی طرح علاقہ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ورنگل کے شہری علاقوں میں پارٹی کی انتخابی مہم کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو طلب کیا گیا ہے اور وہ 19 نومبر تک مسلم اکثریتی علاقوں میں انتخابی مہم چلائیں گے تاکہ اقلیتوں کی تائید حاصل ہوسکے۔ ورنگل لوک سبھا حلقہ میں اقلیتی رائے دہندوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 90ہزار ہے اور وہ بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں۔12فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر پیدا شدہ بیداری سے ٹی آر ایس پریشان ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر اور دیگر اقلیتی قائدین کے ذریعہ مسلم رائے دہندوں کو منانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کو کسانوں اور مسلم رائے دہندوں کو سمجھانے میں کافی دشواری ہورہی ہے کیونکہ صرف وعدوں پر بھروسہ کرنے کیلئے رائے دہندے تیار نہیں۔ اس صورتحال کا کانگریس پارٹی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور اس نے ٹی آر ایس حکومت کے وعدوں کی تفصیلات پر مبنی پملفٹس کی تقسیم کا آغاز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس نے عملاً ساری حکومت کو ورنگل لوک سبھا حلقہ میں انتخابی مہم میں جھونک دیا اور یہ حلقہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT