Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل میں ٹی آر ایس کی کامیابی کادعویٰ : ہریش راؤ

ورنگل میں ٹی آر ایس کی کامیابی کادعویٰ : ہریش راؤ

اپوزیشن جماعتوں کی مخالف حکومت مہم کا کوئی اثر نہیں، کانگریس شکست سے خوفزدہ
حیدرآباد۔ /19نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے ریمارک کیا کہ ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ٹی آر ایس امیدوار پی دیاکر کو ووٹ دینا لوکل کال کرنے کے مماثل ہے کیونکہ وہ مقامی قائد ہیں جو عوام کی خدمت کیلئے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ اس کے برخلاف کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کو ووٹ دینا ایس ٹی ڈی کال کرنے کے برابر ہے کیونکہ وہ غیر مقامی ہیں جبکہ بی جے پی امیدوار کو ووٹ دینا آئی ایس ڈی کال کرنا ہے کیونکہ وہ امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ورنگل کے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس امیدوار کو بھاری اکثریت سے منتخب کریں جو ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی میدان میں اُتارنے کیلئے مقامی امیدوار دستیاب نہیں ہوا لہذا انہیں دوسرے مقامات سے امیدوار کو درآمد کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سروے ستیہ نارائنا جو اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی جانب سے مسترد کئے جاچکے ہیں انہیں ورنگل کے عوام کس طرح قبول کریں گے۔ اگر انہوں نے عوام کی بہتر طور پر خدمت کی ہوتی تو وہ دوبارہ لوک سبھا حلقہ ملکاجگری سے منتخب ہوجاتے۔ کانگریس نے عوام کی جانب سے مسترد کردہ شخص کو میدان میں اُتارا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی جے پی کو ہندوستان میں کوئی امیدوار دستیاب نہیں ہوا لہذا امریکہ سے امیدوار کو لایا گیا۔ مقامی مسائل کی یکسوئی بیرون ہند مقیم شخص سے کس طرح ممکن ہوگی جو مقامی مسائل سے تک واقف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی اپنی شکست سے خوفزدہ ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کے درمیان دوسرے مقام کیلئے مقابلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی یقینی ہے اور مقامی اور عام کارکن ہونے کے باعث ورنگل کے رائے دہندے پی دیاکر کو بھاری اکثریت سے منتخب کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ٹی آر ایس کی تائید کا پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی مخالف حکومت مہم کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT