Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل پارلیمانی حلقہ سے کانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی

ورنگل پارلیمانی حلقہ سے کانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی

لنکو ہلز میں فرزند کے ڈائرکٹر رہنے کی تردید، محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل کا بیان
حیدرآباد /20 نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ورنگل میں کانگریس کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو یقینی قرار دیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ورنگل کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس، بی جے پی اور تلگودیشم کے درمیان خفیہ ساز باز ہو چکا ہے، اس کے باوجود عوام مرکز کی بی جے پی اور تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومتوں کی کار کردگی سے ناراض ہیں، لہذا عوام کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر مودی اور کے سی آر کو سبق سکھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام نے مختلف طریقوں سے حکمراں ٹی آر ایس کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کانگریس قائدین کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی جانب سے ان پر اور کانگریس پر تنقید اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے گزشتہ 50 سال کے دوران کوئی اقدامات نہ کرنے کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ پورا نہ کرنے کا کے سی آر پر الزام عائد کیا۔ جس پر محمد محمود علی نے حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے ان (محمد علی شبیر)، ان کے فرزند اور کانگریس پر بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ انھوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اقلیتی بہبود کانگریس دور حکومت (1993ء) میں انھوں نے ریاستی اقلیتی بہبود کا محکمہ قائم کیا اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کو 4 فیصد مسلم تحفظات حاصل ہوئے، جس سے تعلیم اور ملازمتوں میں اب تک دس لاکھ مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے سی آر کی چاپلوسی کرتے ہوئے ان پر وقف جائدادوں کی تباہی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جب کہ سال برائے 2000 تا 2003ء تلگودیشم حکومت نے منی کنڈا ولیج کی 735.35 ایکڑ اراضی، انفوسس، اردو یونیورسٹی، وپرو اور انڈین اسکول آف بزنس کے علاوہ دیگر اداروں کے حوالے کی۔ انھوں نے بتایا کہ 2005ء میں اے پی آئی آئی سی نے جب عالمی ٹنڈر طلب کرتے ہوئے 108 ایکڑ اراضی لنکو کے حوالے کی تو وہ نہ وزیر مال تھے اور نہ وزیر اقلیتی بہبود، اس وقت محمد فرید الدین وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے، جو آج حکمراں ٹی آر ایس کا حصہ بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2006ء میں وقف بورڈ نے اس اراضی کو وقف اراضی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جب کہ وہ 2007ء میں وزیر برقی اور وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ انھیں وزارت اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ لنکو ہلز اور وقف بورڈ اس اراضی پر اپنا اپنا دعویٰ کر رہے ہیں، محمد محمود علی وزیر مال ہیں، لہذا وہ اس مسئلہ کو ایک گھنٹہ میں حل کرسکتے ہیں۔ اگر وہ سپریم کورٹ میں تحریری درخواست داخل کرکے اس اراضی سے محکمہ مال کے ادعا سے دست برداری اختیار کرلیں تو یہ اراضی وقف بورڈ کی ملکیت بن جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے درگاہ اسحاق شاہ مدنی سے متعلق 5000 ایکڑ وقف اراضی کے معاملے میں محکمہ مال کے ادعا کو ختم کراتے ہوئے یہ اراضی وقف بورڈ کے حوالے کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے فرزند تو بہت دور ہیں، لنکو ہلز میں کوئی مسلم ڈائرکٹر آج بھی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT