Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ورنگل کو ’’ فری سلم سٹی ‘‘ بنایا جائے گا: چیف منسٹر

ورنگل کو ’’ فری سلم سٹی ‘‘ بنایا جائے گا: چیف منسٹر

300کروڑ روپئے سے ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں گے، ملک کے سب سے بڑے ٹیکسٹائیل پارک کے قیام کا بھی تیقن

ورنگل۔/6جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ورنگل کی ترقی کیلئے اسپیشل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی بنائی جائے گی۔ تاریخی کلکٹریٹ عمارت کو توڑ کر چھ منزلہ کلکٹریٹ کی تعمیر کی جائے گی۔ سنٹرل جیل اراضی پر ایجوکیشن ہب تعمیر کیا جائے گا۔ قدیم دفاتر اور مدارس کی عمارتوں کو توڑ کر نئی عمارتوں کی تعمیر ہوگی۔ ورنگل میں بے مثال ترقیاتی کاموں کو انجام دیا جائے گا جس کیلئے خصوصی ٹیم سے سروے کیا جائے گا۔ سابق فوجیوں کے گھروں کا ٹیکس معاف کیا جائے گا۔ ورنگل کیلئے 20ہزار گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نندنا گارڈن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے جرنلسٹ کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ضلع ورنگل میں ایک ماڈل جرنلسٹ کالونی تعمیر کی جائے گی۔ تمام سہولیات سے لیس اس کالونی کے تعمیراتی کاموں کی چیف منسٹر خود نگرانی کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد کے بعد ریاست تلنگانہ کا سب سے بڑے ضلع ورنگل کو خصوصی طور پر ترقی دینے کیلئے اسپیشل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے تحت 300کروڑ روپیوں سے ترقیاتی کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ ملک کا سب سے بڑا ٹکسٹائیل پارک قائم کیا جائے گا،

یہاں پر کاٹن سے گارمنٹ تک تمام اقسام ایک ہی مقام پر تیار کئے جائیںگے اس کے لئے 200تا300ایکڑ اراضی درکار ہے، اس کیلئے 100کروڑ منظور کئے گئے ہیں۔ اس پارک کے قیام سے شہر کی آبادی میں مزید 4 تا5 لاکھ آبادی میں اضافہ کا امکان ہے۔ 85کیلو میٹر کی سڑکوں کی تعمیر آر اینڈ بی کے تحت کی جائے گی۔ ضلع کے تمام تالابوں کو ترقی دی جائے گی۔ آئندہ 365 دنوں میں ورنگل کے کسان اور عوام کو پانی کی سربراہی ہوسکے اس کے لئے کاکتیہ مشن کے تحت کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ تلنگانہ میں ایچ ایم ڈبلیو ایس اسکیم کے تحت ضلع ورنگل کے جنگاؤں اسٹیشن گھن پور، پالا کورتی، نلگنڈہ، آلیر بھونگیر، رنگاریڈی، گجویل، سدی پیٹ و دیگر علاقوں میں 130کروڑ سے کاکتیہ تالابوں کی مرمت کی جائے گی۔ ورنگل کے کسانوں کو آنے والے ماہ جون سے کاکتیہ کنال کے تحت بھیم گھن پور، بھوپال پلی، پانی سربراہی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

دیوادولہ لفٹ ایریگیشن اسکیم کے تحت بیاریج کے تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ ورنگل کو ایک نالج ایجوکیشن ہب بنایا جائے گا۔ ہیلتھ یونیورسٹی کیلئے عمارت تعمیر کی جائے گی۔ دہلی پبلک اسکول، حیدرآباد پبلک اسکول کے علاوہ انٹرنیشنل اسکول، ویٹرنری کالج، اگریکلچر کالج قائم کیا جائے گا۔ کاٹن ریسرچ سنٹر کے علاوہ ٹرائیبل یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی تاکہ اطراف کے اضلاع ورنگل، کھمم، نلگنڈہ ، کریم نگر کے ٹرائیبلس یہاں تعلیم حاصل کرسکیں۔ ورنگل میں 20ترکاری مارکٹ تعمیر کئے جائیں گے۔ نان ویج مارکٹ کی الگ سے تعمیر ہوگی، 50ہزار عوام کی سہولیات درکار ہوں گی۔ انٹر نیشنل پلان کے تحت تعمیری کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 20کمیونٹی ہال کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی جو تمام مذاہب کے لوگ استعمال کرسکیں گے۔ ورنگل کلکٹریٹ اور میونسل آفس کی قدیم عمارتوں کے علاوہ قدیم مدارس اور دفاتر کو توڑ کر نئی عمارتوں کی تعمیر کی جائے گی۔ ورنگل ڈی آئی جی آفس اراضی پر 12 منزلہ پولیس کمشنریٹ تعمیر کیا جائیگا جس کا خود وہ آکر سنگ بنیاد رکھیں گے۔ شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ ورنگل میں پہلے سے ہی ایک دواخانہ ایم جی ایم موجود ہے

لیکن ایک اور تمام عصری سہولیات سے لیس ایک اور ملٹی اسپیشل ہاسپٹل تعمیر کیا جائے گا۔ ورنگل شہر میں موجود سنٹرل جیل کو دوسرے مقام منتقل کرکے اس اراضی پر ایجوکیشن ہب تعمیر کیا جائے گا۔ ماہ فبروری یا اپریل ان نئے کاموں کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ شہر میں میوزک ڈانس سنٹر قائم کیا جائے گا۔ ورنگل اور ہنمکنڈہ میں الگ الگ 5تا6کروڑ کی لاگت سے شادی خانہ تعمیر کئے جائیں گے۔ اوٹر رنگ روڈ کیلئے 40فیصد بجٹ آر اینڈ بی کو منظور کیا جائے گا۔ شہر میں انڈر گراؤنڈ ڈرینج نظام کے تحت تعمیری کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ورنگل شہر کو فری سلم سٹی بنایا جائے گا۔ آئندہ تین سالوں میں انہوں کہاکہ 7ہزار ایکڑ اراضی حکومت کے پاس ہے ضرورت پڑنے پر مزید اراضی کی خریدی کی جائے گی۔ ضلع ورنگل میں 30ہزار ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی جس کو بھی گھر نہیں ہے اس کو مکان دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ 10فیصد پولیس، آرمی، ہوم گارڈ، سابق سینک کو محفوظ کیا جائے گا۔ ان میں سے 2فیصد سابق فوجیوں کیلئے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں سابق فوجیوں کے گھروں کا ٹیکس معاف کیا جارہا ہے، آج انہوں نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ورنگل میں جرنلسٹ کیلئے ایک عصری ماڈل کالونی کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔

یہاں پر مارکٹ پارک، انٹرنیٹ و دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کالونی کی تیاری کی ذمہ داری میری ہی ہوگی، اس کے لئے 50تا60 ایکر اراضی کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے ایک ٹیم کو روانہ کیا جائے گا۔ کوڈا اور گریٹر میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کے ساتھ سروے کرکے ماسٹر پلان بنایا جائے گا تاکہ ورنگل کو عصری طریقہ سے ترقی دی جاسکے۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری، ضلع پریشد چیرپرسن پدما، ڈاکٹر راجیا، رکن اسمبلی ورنگل کونڈا سریکھا، ورنگل ویسٹ رکن اسمبلی ڈی ونئے بھاسکر، ایم ایل سی راجیشور ریڈی، مدھو سدن چاری، ار رمیش و دیگر موجود تھے۔ قبل ازیں چیف منسٹر نے نندنا گارڈن میں ضلع کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں ضلع کلکٹر وائی کرونا، جوائنٹ کلکٹر پرشانت جے پاٹل، میونسپل کمشنر سرفراز احمد، محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT