Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ورنگل کے عوام ٹی آر ایس کو مسترد کردیں گے‘‘

’’ورنگل کے عوام ٹی آر ایس کو مسترد کردیں گے‘‘

’’غیرمقامی‘‘کے ریمارک پر کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کا اظہار ِبرہمی
حیدرآباد ۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا ورنگل کے ضمنی انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے امیدوار کو باشعور عوام یقینا مسترد کردیں گے۔ ورنگل میں بھی بہار انتخابات کی طرح صورتحال پیدا ہوگی اور عوام ایسی تمام قوتوں کو مسترد کردیں گے جو صرف وعدوں پر انحصار کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ کانگریسی امیدوار مسٹر سروے ستیہ نارائنا نے آج انتخابی مہم کے اختتام سے قبل یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل ضمنی انتخابات ٹی آر ایس شکست کے دور کا آغاز ثابت ہوں گے اور برسراقتدار جماعت کو انتخابی نتائج کے بعد اپنا محاسبہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ورنگل کے رائے دہندوں نے جس طرح سے ٹی آر ایس امیدوار اور قیادت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ ریاست تلنگانہ میں اب ٹی آر ایس کا مستقبل باقی نہیں ہے۔ مسٹر سروے ستیہ نارائنا نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے قیام میں کانگریس پارٹی اور مسز سونیا گاندھی کا کلیدی رول رہا ہے اور اب ریاستی کابینہ میں شامل وزراء اس بات سے انکار کررہے ہیں۔ کانگریس امیدوار نے انہیں ’’غیرمقامی‘‘ قرار دیئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر کو اس طرح کی بچکانہ گفتگو نہیں کرنی چاہئے۔ وزیر کے اس بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی پارٹی کے امیدواروں سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا نظام آباد میں مسز کے کویتا مقامی تھیں اور سابق میں خود صدر ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ محبوب نگر سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں، کیا وہ مقامی تھے؟ مسٹر سروے ستیہ نارائنا نے کہا کہ برسراقتدار جماعت اپنے امیدوار کو مقامی و غیرمقامی کے مسئلہ پر کامیاب کروانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ اقتدار میں رہتے ہوئے لڑے جانے والے ضمنی انتخابات میں کارکردگی پیمانہ ہوتی ہے۔ سابق مرکزی وزیر و کانگریس امیدوار نے کہا کہ حلقہ لوک سبھا ورنگل میں ٹی آر ایس امیدوار کی شکست ’’سنہرے تلنگانہ‘‘ کے دور کا آغاز ثابت ہوگی چونکہ 2014ء عام انتخابات میں ٹی آر ایس نے اپنی کامیابی کو سنہرے تلنگانہ سے تعبیر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے ٹی آر ایس کا اقتدار ضروری ہے لیکن اندرون دو برس یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ٹی آر ایس صرف تحریک چلا سکتی ہے اور حکومت چلانے کی اہلیت اس میں نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT