Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل کے پارلیمانی ضمنی انتخابات میں 67 فیصد رائے دہی

ورنگل کے پارلیمانی ضمنی انتخابات میں 67 فیصد رائے دہی

دیہی علاقوں میں شہر سے زیادہ ووٹنگ ، پہلی مرتبہ رائے دہندوں کا گلدستہ سے خیر مقدم
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حلقہ لوک سبھا ورنگل کے لیے آج منعقدہ رائے دہی کا اوسط بحیثیت مجموعی 67 فیصد رہا ۔ جب کہ رائے دہی انتہائی پرامن ہونے کے علاوہ کہیں سے کسی قسم کے کوئی ناخوشگوار واقعات پیش آنے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ۔ ریاستی چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ و آندھرا پردیش مسٹر بھنور لال نے آج شب سکریٹریٹ میں اس بات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ حلقہ لوک سبھا ورنگل کے سات حلقہ جات اسمبلی کے منجملہ حلقہ اسمبلی پالاکورتی میں رائے دہی کا اوسط 77 فیصد حلقہ اسمبلی پرکال میں رائے دہی کا اوسط 71 فیصد حلقہ اسمبلی وردھنا پیٹ میں رائے دہی کا اوسط 71 فیصد حلقہ اسمبلی بھوپال پلی میں رائے دہی کا اوسط 70 فیصد حلقہ اسمبلی گھن پور میں رائے دہی کا اوسط 68 فیصد حلقہ اسمبلی ورنگل ( مشرقی ) میں رائے دہی کا اوسط 62 فیصد اور حلقہ اسمبلی ورنگل ( مغربی ) میں رائے دہی کا اوسط 48 فیصد رہا ۔ اس طرح سات حلقہ جات اسمبلی کے منجملہ حلقہ اسمبلی پالا کورتی میں رائے دہی سب سے زیادہ 77 فیصد ریکارڈ رہی درج کی گئی جب کہ حلقہ اسمبلی ورنگل ( مغربی ) میں سب سے کم 48 فیصد رائے دہی درج کی گئی ۔ مسٹر بھنور لال نے بتایا کہ رائے شماری ( ووٹوں کی گنتی ) 24 نومبر کو صبح 8 بجے سے اگریکلچر مارکٹ یارڈ ورنگل میں کی جائے گی ۔ انہوں نے پرامن رائے دہی پر رائے دہندوں عہدیداروں ، سیاسی جماعتوں اور شعبہ صحافت سے بھی اظہار تشکر کیا ۔ ورنگل لوک سبھا ضمنی انتخاب میں 67 فیصد رائے دہی منعقد ہوئی ۔ رائے دہندوں نے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ کردیا ۔ 24 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔ سوائے چند واقعات کے رائے دہی پرامن رہی ۔ سیکوریٹی کے تحت انتظامات کئے گئے ۔ کانگریس کے امیدوار سروے ستیہ نارائنا نے رائے دہی مرکز پر عوام سے ووٹ طلب کرتے ہوئے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ۔ الیکشن کمیشن نے پہلی مرتبہ رائے دہی کے تناسب میں اضافہ کرنے کے لیے پہلے رائے دہندے کا گلدستہ پیش کر کے خیر مقدم کیا ۔ شہری علاقوں کے بہ نسبت دیہی علاقوں میں رائے دہی کا تناسب زیادہ دیکھا گیا ۔ نوجوانوں میں بھی جوش و خروش کی کمی دیکھی گئی ۔ حلقہ لوک سبھا ورنگل میں جملہ 15,09,671 لاکھ رائے دہندے ہیں ۔ 23 امیدواروں نے مقابلہ کیا تھا ۔ رائے دہی کے لیے 1778 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر ونئے کمار کے علاوہ دوسرے اہم قائدین صبح ابتداء میں ہی اپنے ارکان خاندان کے ساتھ پہونچکر اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر آنند بھاسکر اپنے ارکان خاندان کے ساتھ پہونچ کر حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ترور منڈل کے ٹکیا تانڈہ کے عوام نے گاؤں میں بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کا الزام عائد کرتے ہوئے رائے دہی کا بائیکاٹ کیا ۔ اسٹیٹ الیکشن کمشنر مسٹر بھنور لعل نے بھی ٹیلی فون پر رائے دہندوں سے تبادلہ خیال کیا تاہم عوام نے کلکٹر کی جانب سے ترقیاتی کاموں کا وعدہ کرنے پر ہی رائے دہی سے استفادہ کرنے کا اعلان کیا ۔ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک 1778 پولنگ مراکز پر پرامن رائے دہی منعقد ہوئی 5 بجے سے قبل پولنگ مراکز میں داخل ہونے والے تمام رائے دہندوں کو ووٹ دینے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ پہلی مرتبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر امیدواروں کی تصاویر رکھی گئی جس سے رائے دہندوں کو اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے میں کافی آسانی ہوئی ۔ دھرما ساگر رائے دہی مرکز پر ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل پی راجیشور ریڈی کو ووٹنگ شناختی کارڈ نہ رکھنے پر پولیس نے رائے دہی مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ کئی مقامات پر صبح میں الکٹرانک ووٹنگ مشین ناکارہ ہوگئے ہے جس سے رائے دہی کے عمل میں خلل پیدا ہوگیا ۔ عہدیداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 20 منٹ میں الکٹرانک ووٹنگ مشین تبدیل کردئیے ۔ وردھنا پیٹ پولنگ مرکز پر کانگریس کے امیدوار سروے ستیہ نارائنا نے رائے دہندوں سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں (کانگریس ) کو ووٹ دینے کی اپیل کی جس پر ٹی آر ایس کے کارکنوں نے احتجاج کیا

TOPPOPULARRECENT