Sunday , May 28 2017
Home / اداریہ / وزارت عظمیٰ کا پاس و لحاظ نہیں

وزارت عظمیٰ کا پاس و لحاظ نہیں

کہنے کی بات ہی سہی لیکن میں کیا کہوں
دل مبتلائے گردشِ دوراں بھی تو ہے
وزارت عظمیٰ کا پاس و لحاظ نہیں
وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم پارلیمانی اقدار کے گھٹتے وقار پر چار چاند لگانے کاکام کررہی ہے تو آنے والے دنوں میں پارلیمانی تقدس کا کیا حال بنادیا جائے گا، یہ سوچ کرہی سینئر باوقار سیاستداں کا دم گھٹنے لگا ہوگا۔ راجیہ سبھا میں وزیر اعظم مودی نے صدر جمہوریہ کے خطاب پر پیش کردہ تحریک تشکر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے تعلق سے غیر اصولی ریمارک کئے۔ ان کے جارحانہ تیور پر کانگریس نے خبردار کیا کہ وہ جب تک منموہن سنگھ کے ان کے ناقابل قبول تبصرہ کے لئے معذرت خواہی نہیں کریں گے پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نریندر مودی نے منموہن سنگھ کے دور میں ہونے والی دھاندلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی ناک کے نیچے بدعنوانیوں کو فروغ دیا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وزیر اعظم نے خود اپنے پیشرو کا مذاق اُڑایا ہو اور ان کی تذلیل کی ہو۔ اس طرح مودی نے پارلیمنٹ اور قوم کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ مودی نے سابق وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو یہ بات ڈاکٹر منموہن سنگھ سے سیکھنی چاہیئے کہ رین کوٹ ( برساتی ) پہن کر باتھ روم میں کس طرح نہاتے ہیں۔ منموہن سنگھ نے اگرچیکہ ایوان میں وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا جواب نہیں دیا، لیکن کانگریس کے تمام سینئر قائدین نے اس مسئلہ پر مودی کو نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم نے ایک ایسی زبان استعمال کی جو خلافِ توقع سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک تلخ جملہ ہے اس پر ہر کوئی ناراض اور برہم ہوسکتا ہے۔ کانگریس کے ارکان نے مودی  کے طنزیہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزارت عظمیٰ کی جس کرسی پر نریندر مودی بیٹھے ہیں اس کرسی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ حقیر سوچ کے ساتھ طنزیہ ریمارک کریں۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے مشترکہ ایوان سے صدر جمہوریہ کے خطاب پر معمول کے مطابق تحریک تشکر پر مباحث ہوتے ہیں، اس مرتبہ نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں جب صدر جمہوریہ کا خطاب ہوا تو اس پر تحریک تشکر و بحث میں اہم موضوعات  ہی زیر بحث آئے لیکن وزیر اعظم مودی نے اپنی جارحانہ تقریر اور سخت تیور کے ذریعہ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکامی، رشوت ستانی کے خاتمہ سے قاصر حکومت کی خرابیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ کالا دھن کے خلاف کارروائی کے نام پر نوٹ بندی کا خطرناک فیصلہ عوام کے حق میں کوئی بڑا راحت کا موجب نہیں بن سکا۔ وزیر اعظم مودی 8نومبر کو کئے گئے اپنے اعلان کے حق میں کیا فوائد حاصل ہوئے ہیں یہ واضح کرنے سے قاصر رہے۔ مودی نے ملک بھر میں سوچھ بھارت مہم شروع کی لیکن اس کے نتائج ہنوز غیر واضح ہیں۔ مختلف گوشوں اور موقعوں پر اس مسئلہ پر بات چیت کے باوجود یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر سوچھ بھارت کا مثبت نتیجہ کیا نکلا۔نوٹ بندی کے بعد حکومت کالا دھن کے خلاف کارروائی کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئی، اس نوٹ بندی سے ملک کی معیشت کا کتنا نقصان ہوا، نوٹ بندی سے قبل بی جے پی کے قائدین نے غیر قانونی طور پر زمینات کس طرح خریدیں یہ واضح نہیں کیا جاتا تو پھر بدعنوانیوں کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کے دعوے سب کھوکھلے نظر آئیں گے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنی تمام ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اب اپوزیشن کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔ایوان میں اصل موضوع پر بیان دینے کے بجائے وہ پارلیمنٹ کے سینئر قائدین کو نشانہ بنارہے ہیں۔ منموہن سنگھ پر طنز کرنے کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ گذشتہ سال پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں منموہن سنگھ نے مودی کی نوٹ بندی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو عوام کا پیسہ منظم طریقہ سے لوٹ کر اسے جائز قرار دینے کا عمل قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے الفاظ دہرا کر تلخ اور حقیر زبان کا استعمال کیا تو اسے پارلیمانی اقدار کے مغائر کہا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا منتخب ارکان کی بیمار ذہنیت اس ملک کو حقیقی خوشحالی اور ترقی دلاسکے گی۔ پارلیمانی اقدار کو ملحوظ رکھنا وزارت عظمیٰ کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو نہ بخشنے کا عہد کیا ہے تو پارلیمانی تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر اپنے پیشرو کے خلاف غیراصولی طنز کرکے اپنی ناکامیوں کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس قائدین نے اپنے سینئر لیڈر کے خلاف کئے جانے والے طنزیہ ریمارک کے جواب میں صرف اتنا کہا ہے کہ وزیر اعظم کی کئی نازیبا حرکتوں کو وہ محض پارلیمانی اقدار کے احترام میں نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوری ملک کے منتخب عوامی نمائندوں کے طور پر اچھا رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT