Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کی تنقیدوں کا جواب نہیں دوں گا : کودنڈا رام

وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کی تنقیدوں کا جواب نہیں دوں گا : کودنڈا رام

نقادوں کی زبان عوامی نہیں ہے ، اسٹرینگ کمیٹی اجلاس میں تنقیدوں کا جائزہ

حیدرآباد۔ 8۔ جون  ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام نے اعلان کیا کہ وہ وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے ان پر کی جارہی تنقیدوں کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو قائدین ان پر تنقید کر رہے ہیں ، وہ ان کی زبان میں جواب نہیں دے سکتے کیونکہ تنقید کرنے والوں کی زبان عوامی زبان نہیں ہے ۔ تلنگانہ جے اے سی کی اسٹیرنگ کمیٹی کا آج حیدرآباد اجلاس منعقد ہوا جس میں وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام پر کی جارہی تنقیدوں کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے۔ اجلاس میں جے اے سی قائدین نے پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی کارکردگی کے بارے میں ظاہر کردہ ان کے خیالات کی تائید کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین اور وزراء جے اے سی کے وجود کو چیلنج کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جے اے سی موجود نہیں ہے تو پھر ریاستی وزراء جواب کیوں دے رہے ہیں۔ کودنڈا رام نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی تلنگانہ عوام کی بھلائی اور ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے واضح کردیا کہ جے اے سی کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ، ان کی تکمیل ہو۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ جس زبان میں ان پر تنقیدیں کی جارہی ہیں ، اس زبان میں جواب نہیں دے سکتے۔ کودنڈا رام نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ، بقایہ جات کی ادائیگی اور ہیلت کارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی زندگی کو بہتر بناتے ہوئے عوام کی زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ کودنڈا رام نے بتایا کہ مختلف مسائل پر نمائندگی کے سلسلہ میں جب چیف منسٹر سے ملاقات کا وقت مانگا گیا تو وقت نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جے اے سی کی تجاویز بہتر ہیں تو حکومت کو اسے قبول کرنا چاہئے ۔ برخلاف اس کے کہ تنقیدوں کا آغاز کیا جائے ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو ریاست کے مواضعات کے سطح پر مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوامی مسائل پر جدوجہد تیز کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں کئی مسائل ہیں جن کیلئے جلد اجلاس طلب کیا جائے گا ۔ کودنڈا رام نے خانگی تعلیمی اداروں پر پولیس کے ذریعہ دھاوؤں کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مختلف پراجکٹس کیلئے اراضیات کے حصول کا طریقہ کار مرکزی قانون کے خلاف ہے۔ مرکزی قانون کے تحت اراضی کے حصول کیلئے جو رہنمایانہ خطوط مقرر کئے گئے ہیں، ریاستی حکومت اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر جے اے سی اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے کام کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں کودنڈا رام نے کہا کہ جے اے سی کے قیام کے وقت طئے کیا گیا تھا کہ ریاست کے قیام کے بعد ہی جے اے سی عوامی بھلائی کیلئے کام کرے گی۔ کودنڈا رام نے کہا کہ عوامی بھلائی جے اے سی کا ایجنڈہ ہے اور جے اے سی کے ساتھ عوام ہیں۔ انہوں نے جے اے سی کے پس پردہ اپوزیشن جماعتوں کے رول سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ تلنگانہ میں جن صنعتوں کو بند کر دیا گیا ہے ، ان کے احیاء کی جدوجہد کی جائے گی ، جن میں نظام شوگر فیکٹری، ہندوستان کے پلس جیسے ادارے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر نہ ہونے کے سبب کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں اور حکومت طلبہ کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی تقسیم کیلئے تلنگانہ ایڈوکیٹس کی جانب سے جاری جدوجہد کی تائید کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT