Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم، دنیا کو متحد کرنے کی کوششوں کے بجائے ہندوستان پر توجہ مرکوز کریں

وزیراعظم، دنیا کو متحد کرنے کی کوششوں کے بجائے ہندوستان پر توجہ مرکوز کریں

نواز شریف کے ساتھ ایک کپ چائے کے بدلے ہمارے سات سپاہی شہید ہوگئے، حکومت پر شیوسینا کی تنقید
ممبئی ؍ نئی دہلی ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی ایک اہم حلیف جماعت شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کیلئے ان (مودی) کی ’’لاہور ڈپلومیسی‘‘ کو موردالزام ٹھہرایا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ (مودی) دنیا کو متحد کرنے کی کوشش کے بجائے ہندوستان پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ اس دوران پاکستان سے متعلق نریندر مودی کی پالیسی پر کانگریس اور بی جے پی کے ترجمان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ شیوسینا نے جو اپنی سینئر حلیف سے دشوارگذار اتحاد برقرار رکھی ہوئی ہے کہا کہ ’’نواز شریف کے ساتھ (مودی کی) ایک کپ چائے کے بدلے ہمارے ساتھ سپاہی شہید ہوگئے‘‘۔ شیوسینا نے کہاکہ وہ پہلے ہی مودی کو خبردار کرچکی تھی کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہ کریں۔ مودی نے 25 ڈسمبر کو لاہور کا اچانک اور حیرت انگیز دورہ کرتے ہوئے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان مرہٹی روزنامہ ’’سامنا‘‘ میں انتہائی سخت ادارہ میں لکھا کہ ’’وزیراعظم گذشتہ ہفتہ اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے مہمان کی حیثیت سے لاہور میں تھے اور اسی وقت ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان پر بھروسہ نہ کیا جائے‘‘۔

دیکھئے آج ہمیں کس طرح دھوکہ دیا گیا‘‘۔ شیوسینا نے مزید لکھا کہ اگر آج کانگریس برسراقتدار رہتی تو یہ مطالبے کئے جاتے کہ شہید سپاہیوں کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان پر حملہ کیا جائے لیکن پٹھان کوٹ میں انڈین ایرفورس کے اڈہ پر ہوئے دہشت گرد حملہ کے بارے میں اب ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ شیوسینا نے انتہائی سخت لب و لہجہ کے ساتھ طنز کیا کہ ’’اب صرف ایک ہی سب سے بڑی خدمت یہ کی گئی کہ سپاہیوں کی موت پر (سوشیل نٹ ورکنگ سائٹ) ٹوئیٹر پر تعزیتی پیامات جاری کئے گئے لیکن یہ سپاہی آخر کیوں ہلاک ہوئے؟۔ مودی ساری دنیا کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کیلئے وقت آ گیا ہیکہ اب ہندوستان پر توجہ مرکوز کریں‘‘۔ اس دوران کانگریس نے مودی پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی بدل دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ ’’نتائج کے بجائے خیالوں‘‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کانگریس کے ایک ترجمان آنند شرما نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان سے آخر وہ کیا تیقنات حاصل ہوئے تھے کہ انہیں اچانک لاہور کا حیرت انگیز دورہ کرنا پڑا تھا۔ شرما نے مودی کے دورہ لاہور کو ’’ڈرامائی حربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ آنند شرما نے جو مملکتی وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں کہا کہ ’’یو پی اے حکومت اور اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے امید اور خیالات پر نتائج کو ترجیح دی تھی لیکن اب نتائج پر امیدوں کو ترجیح دی جارہیہے۔ امیدیں لاہور میں دیکھی گئی…‘‘۔ انہوں نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیراعظم کو اب یہ بتانا ہوگا کہ کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم اگرچہ مذاکرات کی تائید کرتے ہیں اور اس کے ساتھ  یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری سلامتی و یکجہتی کے سوال پر کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی‘‘۔ بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور الزام عائد کیا کہ کانگریس کے بیانات ان افراد کے حوصلہ بلند ہوں گے جو ملک دشمن ذہنیت حاصل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT