Tuesday , October 17 2017
Home / اداریہ / وزیراعظم برطانیہ کا دورۂ ہند

وزیراعظم برطانیہ کا دورۂ ہند

کچھ اپنی حسرتوں کو میرے سپرد کردو
پھر میری حسرتوں کو تم پائمال کرنا
وزیراعظم برطانیہ کا دورۂ ہند
دنیا کا ہر ملک اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ برطانیہ بھی اس سلسلہ میں پہلے سے زیادہ محتاط اور چوکس ہوگیا ہے ۔یوروپی یونین سے علحدگی کے بعد برطانیہ کی معاشی پالیسیاں اور پونڈ کی قدر کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے نے ملک کی پالیسیوں پر خاص توجہ دی ہے ۔وزیراعظم کی حیثیت سے ان کا پہلا دورہ ہندوستان اور ہند۔ برطانیہ تعلقات کے بارے میں ان کی پالیسیوں کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہیکہ ویزا پالیسیوں کے تعلق سے ان کا موقف سخت ہے ۔ برطانیہ نے حال ہی میں اپنی ویزا پالیسی کو مضبوط بنایا ہے جس سے ہندوستانی طلباء اور دیگر پروفیشنلس کے لئے برطانیہ میں مواقع کم ہوگئے ہیں۔ دیگر ملکوں سے سرمایہ کاری کی توقع کرنے والی وزیراعظم تھریسا کی نظر اس وقت تاجر اور دولت مند طبقہ پر مرکوز ہوچکی ہے جو برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ اس لئے انھوں نے اپنے یوروپی یونین سے باہر پہلے دورۂ ہند کے موقع پر اعلان کیا کہ برطانیہ دولت مند ہندوستانی تاجروں کی برطانیہ آمد کو آسان بنائے گا جس سے برطانوی ویزا قواعد میں البتہ کچھ نرمی کرنے کی توقع پیدا ہوگئی ہے ۔ ہزاروں ہندوستانی ورک ویزا کے ذریعہ رجسٹرڈ ٹرایولرز اسکیم کا حصہ بن کر برطانیہ کی سرحدوں کے اندر تیزی سے سفر کرنے کی سہولت سے استفادہ کرسکیں گے لیکن ہندوستانی طلباء کو ویزا دینے کے لئے جو شرائط رکھے گئے ہیں اس سے ان طلباء کی تعداد گھٹ چکی ہے ۔ ای امیگریشن پالیسی نے ہند۔ برطانیہ کے درمیان اختلافات کو گہرا کردیا تھا ۔ وزیراعظم کی حیثیت سے تھریسا نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران بھی ویزا پالیسی پر اپنے سخت موقف کو واضح کردیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنی برطانی ہم منصب سے برطانوی ویزا قواعد میں نرمی کیلئے زور دیتے۔ تھریسا کا یہ دورہ اپنے ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کے ایک حصہ کے طورپر سمجھا جائے گا کیونکہ انھوں نے زیادہ تر ہندوستانی سرمایہ کاروں پر توجہ دی ہے ۔ ہندوستانی کمپنیوں نے برطانیہ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے ۔ یوروپی یونین کے دیگر رکن ممالک سے زیادہ اب تک برطانیہ کو ہی اہم منزل متصور کیا جاتا تھا مگر گزشتہ برسوں کے ساتھ برطانیہ کی ویزا پالیسوں میں سختی لانے سے خاص کر گزشتہ ہفتہ ایمگریشن کی نئی تبدیلیوں نے ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس کے سفرکو مشکل بنادیا ہے۔ بلاشبہ برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دیرینہ ہیں اور تجارتی تعلقات بھی ماضی میں فروغ حاصل کرچکے تھے مگر حالیہ برسوں میں تجارتی سطح پر دونوں ملکوں کی رفتار سست ہوگئی ۔ سال 2011-2012 میں دونوں ممالک کے درمیان 15.7 بلین امریکی ڈالر کی تجارت ہوئی تھی اس میں اب ایک بلین کی کمی آئی ہے ۔ دوزیراعظم تھریسا کو اپنے اندرونی ملک مسائل سے نمٹنے کیلئے خصوصی توجہ دینی پڑرہی ہے خاص کر یوروپی یونین سے علحدگی کے بعد برطانیہ نے ہرشعبہ اور ہر اُمور کو احتیاط سے لینا شروع کیا ہے ۔ عمومی طورپر برطانوی سیاستداں اور تاجر طبقہ تجارتی اغراض و مقاصدمیں اپنی بالادستی کو ہی ترجیح دیتا ہے ۔ ہندوستان کی جانب اس کی دوستی بھی اپنی پالیسیوں کے تابع ہوتی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں بھی برطانوی وزیراعظم نے اپنی پالیسیوں کو واضح کردیا ۔ جہاں تک دہشت گردی اور مجرموں پر قابو پانے کا سوال ہے دونوں ملکوں نے پنے مضبو ط مشترکہ موقف کا اعادہ کیا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا جہاں تک سوال ہے اس میں بہت جلد تبدیلیاں آئیں گی اور وجئے ملیا ، للت مودی اور کرسٹن مائیکل کو ہندوستان میں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔ دونوں ملکوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ مفرور ملزمین اور مجرمین کو قانون سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ غیرمعمولی طورپر حوالگی درخواستوں کی یکسوئی کرلی جائے گی ۔ ہندوستان نے 57 مشتبہ افراد کے ناموں کی فہرست پیش کی ہے اور برطانیہ نے ہندوستان سے درخواست ہے کہ اس کو مطلوب 17 مجرمین کو اس کے حوالے کردیں۔ ہند۔ برطانیہ ڈیفنس معاہدوں میں فوج سے فوج کے تعاون کو اہمیت حاصل ہے ۔ دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان فوجی مشقوں ، ٹریننگ ، ماہرین سے متعلق موضوعات کاتبادلہ ریسرچ و ٹکنالوجی کے علاوہ دفاعی ساز و سامان کی تیاری بھی اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں جانب سیول نیوکلیر ریسرچ پروگرام پر توجہ دینے سے اتفاق کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ نیوکلیر سلامتی کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT