Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم سے ملاقات انتہائی مثبت : محبوبہ مفتی

وزیراعظم سے ملاقات انتہائی مثبت : محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر کی ریاستی پارٹیوں نے محبوبہ مفتی ۔وزیراعظم ملاقات کی تفصیلات طلب کیں
نئی دہلی 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کے بارے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعطل ختم ہوگیا ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور بعدازاں اسے ’’انتہائی مثبت‘‘ اور ’’اچھی‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی عوام سے متعلق مسائل کی یکسوئی کرلی گئی ہے۔ محبوبہ مفتی بذریعہ کار وزیراعظم کی قیامگاہ پر آج صبح پہونچیں۔ تین دن قبل پی ڈی پی اور بی جے پی کے روابط خاتمہ کے قریب پہونچ گئے تھے۔ بی جے پی کے مذاکرات کار اعلیٰ رام مادھو نے اعلان کیا تھا کہ اُن کی پارٹی اپنے سابق حلیف پی ڈی پی کے کوئی نئے مطالبات قبول نہیں کرے گی۔ محبوبہ مفتی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نئی دہلی میں کہاکہ گزشتہ دو تا تین ماہ سے زیادہ عرصہ سے ریاست میں تشکیل حکومت کے بارے میں جو تعطل جاری تھا، آج ختم ہوگیا ہے۔ وہ مطمئن ہوگئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا تعطل ختم ہوچکا ہے جبکہ آپ نے ملک کے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے تو یقینی طور پر جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش تمام مسائل کی یکسوئی ہوگئی ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ وہ سری نگر واپس جارہی ہیں جہاں جمعرات کے دن پارٹی کے ارکان اسمبلی کا ایک اجلاس طلب کریں گی۔ انھیں پارٹی ارکان اسمبلی نے فیصلہ کا اختیار دے دیا ہے۔ تاہم وہ دوبارہ اجلاس طلب کررہی ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔

ریاست میں تشکیل حکومت کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ وہ ارکان اسمبلی سے بات چیت کے بعد ہی اخباری نمائندوں کے سامنے اعلان کریں گی۔ دریں اثناء جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کے سلسلہ میں جاری تعطل کا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاتمہ ہوگیا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر کی نیشنل پینتھرس پارٹی پارٹی نے محبوبہ مفتی سے سوال کیا ہے کہ صرف اُن کی تسلی کافی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ریاستی عوام کو مطمئن کرسکیں گی۔ صدرنشین جے کے این پی پی ہرش دیو سنگھ نے کہاکہ وہ ریاست کے عوام کو کیسے مطمئن کریں گی جنھیں دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک انتظار کرنا پڑا ہے۔ وہ ریاستی عوام سے یہ کیسے کہہ سکیں گی کہ اُن کے جو مطالبات تھے، اُنھیں بی جے پی کی قیادت نے تسلیم کرلیا ہے یا نہیں کیا ہے۔ ایسی صورت میں اُن کے مطمئن ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ افواہیں ہیں کہ ارکان کی خرید و فروخت عمل میں آئی ہے، ایسی صورتحال میں پی ڈی پی کی صدر کو اپنا موقف واضح کردینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT