Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم مودی اچانک لاہورپہنچ گئے، نواز شریف سے ملاقات، نواسی کی شادی میں شرکت

وزیراعظم مودی اچانک لاہورپہنچ گئے، نواز شریف سے ملاقات، نواسی کی شادی میں شرکت

The Prime Minister, Shri Narendra Modi meeting the Prime Minister of Pakistan, Mr. Nawaz Sharif, at Lahore, Pakistan on December 25, 2015.

لاہور /25 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے 150 منٹ طویل دورۂ لاہور کے ذریعہ پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو ان کی سالگرہ کی مبارکباد دی اور ان کی نواسی مہرالنساء (مریم نواز شریف کی دختر) کی شادی میں  شرکت کی۔ بات چیت کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے فیصلہ کیا کہ امن کی راہیں تلاش کی جائیں گی، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کا معیار زندگی بہتر ہوسکے۔ انھوں نے شریف خاندان کے ساتھ 80 منٹ گزارے۔ ہندوستانی ذرائع کے بموجب دونوں وزرائے اعظم کی بات چیت کے دوران نواز شریف نے اسے مودی کی خیرسگالی کا اشارہ قرار دیا۔

دونوں نے امن مذاکرات میں پیش رفت سے بھی اتفاق کیا، جو آئندہ ماہ اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔ معتمد خارجہ پاکستان اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ دونوں قائدین کی ملاقات سے امن کے لئے بہتر ماحول پیدا ہوا ہے۔ دونوں نے اپنے روابط میں اضافہ سے اور اچھے پڑوسیوں جیسے تعلقات برقرار رکھنے سے اتفاق کیا۔ مودی کی علامہ اقبال انٹرنیشنل ایرپورٹ پر خصوصی طیارہ کے ذریعہ آمد پر وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے ان کا استقبال کیا اور وطن واپسی پر غیر معمولی خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں وداع بھی کیا۔ نریندر مودی نے بعد ازاں اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ ’’وہ نواز شریف کی خیرسگالی سے شخصی طورپر بے حد متاثر ہوئے۔ انھوں نے نواز شریف کی نواسی مہرالنساء کی شادی میں بھی شرکت کی‘‘۔ قبل ازیں بنکاک میں 6 دسمبر کو مشیرانِ قومی سلامتی ہند و پاک کی بات چیت ہوچکی ہے، جس کے چند دن بعد ہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

لاہور میں وزرائے اعظم کی ملاقات کا امریکہ اور اقوام متحدہ کا خیرمقدم
اقوام متحدہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب معتمد عمومی بانکی مون نے آج وزرائے اعظم ہند و پاک کی اچانک لاہور میں ملاقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی مذاکرات جاری رہیں گے اور دونوں ممالک انھیں مزید مستحکم کریں گے۔ وہ طویل مدت سے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم پر زور دے رہے تھے کہ وہ تعطل کا شکار جامع امن مذاکرات کا احیاء کریں۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکہ نے آج مودی۔ نواز ملاقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں مودی اور نواز شریف کی ملاقات اور بات چیت سے امریکہ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ ہم عرصہ سے کہتے آرہے تھے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ملاقات، بات چیت اور باہمی خوشگوار تعلقات سے پورے علاقہ کو فائدہ پہنچے گا۔ مودی نے اپنے اچانک دورۂ پاکستان کو ڈرامائی رنگ دیتے ہوئے کابل سے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا تھا کہ ’’وہ وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی 66 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرنے کے لئے افغانستان سے وطن واپسی کے دوران پاکستان میں توقف کریں گے‘‘۔

 

مودی کے دورہ لاہور پر ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کا ملاجلا ردعمل

نئی دہلی ۔ 25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ پاکستان پہلے ہی سے منصوبہ بند تھا۔ کانگریس نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنا موقف برعکس کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں نئی پالیسی اختیار کررہی ہے۔ بی جے پی کی حلیف شیوسینا اور وشوا ہندو پریشد نے دورہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستان داؤد ابراہیم، حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کے خلاف کارروائی کرنے کے قابو ہوسکے گا۔ سرینگر میں کشمیری علحدگی پسندوں نے مودی کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا۔ سخت گیر قائد سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ انہیں ہند ۔ پاک تعلقات کی بہتری پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ’’بدبختانہ‘‘ بات ہے کہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی مثبت کوششوں کو بھی منفی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ یہ ایک جرأتمندانہ اقدام ہے اور صرف ایک طاقتور قائد ہی ایسا اقدام کرسکتا ہے۔

وزیرخارجہ سشماسوراج نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک سیاستداں کے نقطہ نظر سے پاکستان کے دورہ کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ پڑوسی ملک سے تعلقات میں سردمہری آ گئی تھی۔ عام آدمی پارٹی نے اظہارحیرت کیا کہ آخر اب ایسی کونسی تبدیلی آ گئی جس کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کا دورہ کرنے پر تیار ہوگئے۔ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر مفتی محمد سعید نے مودی کے اچانک دورہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست سمت میں پیشرفت ہے۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی دوستی ایک اچھا اقدام ہے۔ اگر یہ پیشرفت جاری رہے تو اس کے شاندار نتائج برآمد ہوں گے۔ وشوا ہندو پریشد کے انٹرنیشنل صدر پروین توگاڈیہ نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے دورہ پاکستان سے ہندوستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل ہوجائے گا کیونکہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور ریاست جموں و کشمیر میں دہشت گرد کارروائیاں پڑوسی ملک کی زیرسرپرستی ہی انجام دی جاتی ہیں۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب سدھیندر کلکرنی نے جن کے چہرے پر شیوسینا کارکنوں نے سابق وزیرخارجہ پاکستان خورشید احمد قصوری کی کتاب کے رسم اجراء کی تقریب کا اہتمام کرنے پر سیاہی پوت دی تھی، آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ایک دلیرانہ اقدام کیا ہے۔ وہ اس کا خلوص دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ مودی ۔ شریف کی ملاقات ایک شاندار کامیابی ہے جس سے ہند ۔ پاک تعلقات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ یہ ضروری ہیکہ اس نئی تبدیلی کا دونوں ممالک کے عوام خیرمقدم کریں۔ انہوں نے اپنے بیان میں سابق وزیراعظم واجپائی کی نظم ہم جنگ نہ ہونے دیں گے کا حوالہ بھی دیا۔

TOPPOPULARRECENT