Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ’’ وزیراعظم مودی نے پاکستان میں داؤد سے ملاقات کی ‘‘

’’ وزیراعظم مودی نے پاکستان میں داؤد سے ملاقات کی ‘‘

اعظم خان کا دعویٰ ۔ سراسر غلط و بے بنیاد بیان ، وزیر یو پی کو اکھلیش برطرف کردیں، حکومت کا درعمل
لکھنو ؍ نئی دہلی ، 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج سینئر وزیر اترپردیش اعظم خان کے الزام کو ’’جھوٹا اور بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جنھوں نے نئی پستیوں تک پہنچتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کرسمس کے موقع پر پاکستان کو اپنے دورہ کے دوران لاہور میں اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کی قیامگاہ پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے ملاقات کی تھی۔ اعظم خان کے دعوے پر ردعمل میں ایک سرکاری ترجمان نے کہا، ’’صحافت کے گوشے میں ایسے بیانات آئے ہیں کہ ممبئی میں سلسلہ وار دھماکوں کا کلیدی ملزم داؤد ابراہیم بھی وزیراعظم نریندر مودی کی وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ لاہور میں 25 ڈسمبر 2015ء کو منعقدہ ملاقات کے دوران موجود تھا۔ یہ بیانات بے بنیاد، سراسر غلط اور بالکلیہ جھوٹے ہیں‘‘۔ جہاں بی جے پی نے اعظم خان پر لفظی حملے کئے، وہیں ایک کانگریس ترجمان نے تک اسے کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اعظم خان نے یہ دعویٰ کیا ہے: ’’وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ بین الاقوامی قوانین توڑتے ہوئے کیا۔

وہ وہاں داؤد سے بھی ملے۔ چاہیں تو وہ (مودی) تردید کردکھائیں۔ میں ثبوت پیش کروں گا۔ بند دروازوں کے پیچھے وہ سب کون تھے جن سے انھوں نے ملاقات کی؟‘‘ وزیر یوپی نے کہا کہ نواز شریف، اُن کی والدہ، اُن کی اہلیہ اور دختران کے علاوہ داؤد ابراہیم بھی موجود تھا جب مودی نے ان سب سے وزیراعظم پاکستان کی قیامگاہ پر ملاقات کئے جبکہ وہ گزشتہ 25 ڈسمبر کو وہاں گئے تھے۔ بی جے پی کے سدھانشو متل نے چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو سے مطالبہ کیا کہ ریاستی وزیر موصوف کو ’’فوری طور پر‘‘ برطرف کردیں۔ ’’ اگر اکھلیش درست کارروائی پر یقین رکھتے ہیں تو انھیں چاہئے کہ فوری انھیں (اعظم خان کو) فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور قوم کو شرمندہ کرنے کی پاداش میں برطرف کردیں۔ میں حیرت زدہ ہوں۔‘‘ کانگریس ترجمان ٹام وڈکن نے کہا کہ اعظم خان طویل عرصے سے عوامی زندگی میں ہیں اور انھیں ایسا بیان کوئی ثبوت کے بغیر نہیں دینا چاہئے تھا۔ ’’ہمارے کئی شخصیتوں سے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ کہا جائے ہم اس پر یقین کرلیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اعظم خان وہی شخص ہیں جنھوں نے یو پی پولیس سے اُن کا گمشدہ بھینسا ڈھونڈ لانے کیلئے کہا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT