Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم مودی کا 4 جولائی سے سہ روزہ دورۂ اسرائیل

وزیراعظم مودی کا 4 جولائی سے سہ روزہ دورۂ اسرائیل

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کیساتھ مودی کا قریبی تال میل اہمیت کا حامل
یروشلم 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) پہلے سے مضبوط باہمی تعلقات کو مزید جہت دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی طے شدہ پروگرام کے مطابق 4 جولائی کو سہ روزہ دورہ پر اسرائیل پہونچیں گے جو اِس یہودی مملکت کو کسی ہندوستانی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہے۔ تل ابیب کے معتبر ذرائع نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ مودی 4 جولائی کو آمد کے بعد اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجامن نیتن یاہو سے اُسی روز شام میں ملاقات کریں گے۔ مودی کے دورہ کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط کے قیام کے 25 سال کی خوشی منانا ہے۔ وہ اسرائیل میں ہندوستانی برادری کو مخاطب کریں گے اور تل ابیب میں اِس ایونٹ کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں جہاں ملک بھر سے لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔ ہندوستانی برادری نے مودی کے کافی انتظار اِس دورے کی تیاری کے سلسلے میں ایک ویب سائٹ شروع کی ہے۔ تقریباً 80 ہزار ہندوستانی یہودی اسرائیل میں رہتے ہیں جن کا 4 مختلف فرقوں سے تعلق ہے۔ اسرائیل میں ہندوستانی یہودی برادری اب بھی ہندوستان کے بعض ثقافتی رواجوں کو برقرار رکھی ہوئی ہے اور اُنھیں اِس پر کافی فخر ہے اور وہ ذکر کرتے ہیں کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگ اتنی بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ نئی دہلی میں اقتدار تک مودی کی رسائی نے اسرائیل میں کافی دلچسپی کا باعث بنی کیوں کہ وہ چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے اپنی میعاد کے دوران تل ابیب کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے معاملہ میں یہاں مقبول ہیں۔ اُنھوں نے اکٹوبر 2006 ء میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا میں وسیع طور پر خصوصیت سے ایک چیز زیربحث رہی ہے اور وہ مودی اور نتن یاہو کے درمیان گہرا تال میل ہے۔ نتن یاہو اکثر مودی کو میرے دوست پکارتے ہیں اور ایک حالیہ ٹوئٹ میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کے ملک کے عوام اِس تاریخی دورے کے بے چینی سے منتظر ہیں۔ دونوں قائدین پہلے ہی بیرونی سرزمین پر اقوام متحدہ سے متعلق ایونٹس کے مواقع پر دو مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ فون پر مسلسل ربط میں رہتے ہیں۔ مودی نے نومبر 2015 ء میں پیرس کی ایک میٹنگ کے موقع پر بتایا تھا کہ نتن یاہو سے اکثر و بیشتر ٹیلیفون پر اُن کی بات چیت ہوتی ہے اور ہم ہر موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT