Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / وزیراعظم مودی کی منافقانہ تقریر … ملک کو بچانے ہرانا ہوگا

وزیراعظم مودی کی منافقانہ تقریر … ملک کو بچانے ہرانا ہوگا

 

منی شنکر ایئر
لفاظی، لفاظی، لفاظی۔ اور مزید لفاظی۔ گزشتہ تین سال سے قوم کو لال قلعہ کی فصیل سے سنائی دینے والے ہم آواز الفاظ اور وضعی اصطلاحوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے جس کے نتیجے میں غلط اطلاع، گمراہ کن باتیں اور بھٹکانے والی گول مول باتوں، آدھے سچ اور سفید جھوٹ کا سامنا ہوا ہے۔ اس بار یوم آزادی بھی کچھ مختلف نہ رہا۔ مودی نے جو کوئی شاعر نہیں، اٹل بہاری واجپائی کی پیروڈی بنانے کی کوشش کی ہے: ’’نہ گالی سے، نا گولی سے، بس گلے ملانے سے‘‘۔ اُن کے اصل الفاظ یوں تھے:
’’ نہ گالی سے سلجھنے والی
نہ گولی سے سمسیا سلجھنے والی ہے…
ہر کشمیری کو گلے لگاکر
سلجھنے والی ہے‘‘
واہ! واہ! اگر یہ کوئی مشاعرہ ہوتا تو داد و تحسین پُرشور ہوتی۔ لیکن قوم تو عمومی طور پر سٹپٹاگئی اور پوچھ رہی ہے کہ کون ہراسانی اور تنگ کرنے پر آمادہ ہے ؟ کون بندوق پر انحصار کررہا ہے؟ کون ’’ہر کشمیری‘‘ کو گلے لگانے سے انکار کررہا ہے؟ کون سوائے مودی؟
وہ ایجنڈہ برائے اتحاد جو جموں و کشمیر میں پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کا موجب بنا، بی جے پی کو ہر کشمیری تک پہنچنے کا پابند بناتا ہے۔ اس لئے مودی کے الفاظ میں نئی بات کچھ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یہ باتیں ٹوٹے ہوئے وعدوں کے طویل سلسلے کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ کافی ’’گالیاں‘‘ ہوئی ہیں، کافی ’’گولیاں‘‘ چلی ہیں، لیکن محبوبہ مفتی کو مایوسی ہے کہ کوئی بھی کوشش ’’ہر کشمیری کو گلے لگانے‘‘ کی نہیں ہوئی (ان میں گیلانی شامل ہیں جن کو میں نے گلے لگایا اور مجھے تکلیف ہوئی کہ ’’غدار‘‘ کہلایا گیا)۔ محبوبہ شروع سے ہی مذاکرات کیلئے زور دیتی آئی ہیںجو حریت کے ساتھ ہونا اہم ہے۔ ہر موڑ پر انھیں ناکام کیا گیا ہے۔ اور یہ کس نے کیا؟ بلاشبہ ، نریندر مودی نے۔ پھر ایک بار خاطی وہی ہے۔
مودی اور اُن کے خاص حمایتی مذاکرات میں رکاوٹ بن کر یہی پوچھتے ہیں کہ بات چیت کس کے ساتھ کریں؟ یقینا، ان کے ساتھ نہیں جو اتفاق کرتے ہیں۔ مذاکرات ان لوگوں کے ساتھ ہونے چاہئیں جو عدم اتفاق کررہے ہیں۔ لہٰذا، ناراض و غیرمطمئن گوشہ ہی ہے جس تک ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو پہنچنا ہے، اور افسوس کہ اس معاملے میں وادی کا ہر فرد ناراض و غیرمطمئن معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بجائے مودی حکومت کی توجہ خصوصیت سے ملٹری حل پر مرکوز رہی ہے: اُن کا صفایا جن کو مودی ’’مٹھی بھر‘‘ علحدگی پسند قرار دیتے ہیں، اور پوری وادی میں پھیلی ناراضگی اور بے چینی کو بالکلیہ نظرانداز کررہے ہیں۔ الفاظ عمل کا نعم البدل نہیں ہوتے ہیں۔ اگر مودی اپنے الفاظ میں مخلص ہیں تو یہ اُن ہی کا کام ہے کہ وادی کی ہر گلی میں جائیں، ہر کشمیری کو اسی طرح گلے لگائیں جسے انھوں نے بیرونی قائدین کیلئے محفوظ رکھا ہوا ہے۔
یہ دعویٰ کرتے ہوئے اعتقاد کے نام پر تشدد کی راہ اس ملک میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ بھارت ’’گاندھی اور بودھ کی سرزمین‘‘ ہے، مودی اس بات کا اضافہ کرنے سے چوک گئے کہ یہ تو ساورکر کی سرزمین بھی ہے جن کو انھوں نے 28 مئی 2016ء (ساورکر کا یوم پیدائش) کو ایک ٹوئٹ میں بھارت کا حقیقی سپوت اور کئی لوگوں (غالباً خود اُن کے بشمول) کیلئے حوصلہ قرار دیا تھا۔ اور اس سے پیوستہ سال اسی موقع پر وہ ساورکر کے سرکش جذبہ اور ہندوستان کی تاریخ میں ان کے حصہ کی یاد مناتے ہوئے ہندوتوا کی علامت کے آگے جھک گئے تھے۔ ساورکر کا ہندوستان کی تاریخ میں رول کچھ یوں پیش کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے خود کو ’’انگریز حکومت کے تئیں وفاداری کا سب سے بڑا حمایتی قرار دیا‘‘، ’’غیرمعمولی سپوت‘‘ جس نے حکومت کی جانب سے بندشوں کو قبول کیا ’’کیونکہ ہندوستان کو چاہنے والا ہر دانا شخص خوشی دلی اور وفاداری سے انگریزوں سے خود ہندوستان کے مفادات میں تعاون کرے گا‘‘ (بحوالہ اُن کی عرضیاں مورخہ 14 نومبر 1913ء اور 30 مارچ 1920ء)۔ اس کے بعد اُن کا دعویٰ ہوا کہ یہ سب عاجزی کے بیانات بس انگریزوں کو چکمہ دینے کی چال تھی کہ ان کو رہا کردیں۔ ’ستیہ‘ کی خاطر کیا کچھ نہ کیا۔ اور اب ’اَہمسا‘ (تشدد) کی بات کرتے ہیں۔

ساورکر نے اپنی تصنیف ’’چھ شاندار عہد‘‘ میں عدم تشدد کو ’’اچھائی کا بھٹکا ہوا تصور‘‘ قرار دیا (صفحہ 168)۔ انھوں نے اشوکا کے ’’عدم تشدد کی طرف پلٹاؤ‘‘ کو ’’قوم دشمن‘‘ اقدام بتایا ہے۔ گولوالکر کی اپنی کتاب ’’خیالات کا جمگھٹ‘‘ میں تحریر ہے، ’’بودھ طبقہ اپنے مادر سماج اور اپنے مادروطن کے تئیں غدار ہوگیا‘‘۔ ڈیوڈ ہرڈیمن نے اپنی کتاب ’’Gandhi in his Times and Ours‘‘ میں ساورکر کی پشپامترا کیلئے تعریف و ستائش کی نشاندہی کی ہے، جو اشوکا کے بہت بعد والے جانشینوں میں سے ہے، جس نے ’’عدم تشدد کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ہندوستانی قوم کے افتخار کو بحال کیا‘‘، نیز یہ کہ ’’اس معاملے سے ساورکر کے خیال کی عکاسی ہوتی ہے کہ عدم تشدد کے حامیوں کو قوم کے کاز میں قتل کردینا ’قومی ذمہ داری‘ ہوتی ہے‘‘۔
ڈاکٹر ونائک چترویدی (جن کا نام ونائک ساورکر سے موسوم ہے) جو ساورکر کی تصانیف کے بلاشبہ سب سے پہلے اور مقدم عصری اسکالر ہیں (وہ موجودہ طور پر ساورکر کے 40,000 غیرمطبوعہ صفحات پر تحقیق کررہے ہیں جو نہرو میموریل میوزیم اینڈ لائبریری میں محفوظ ہیں) اُن کا کہنا ہے: ’’تشدد کو اس میں مرکزیت حاصل ہے جسے ساورکر ’ہندو عمل‘ قرار دیتا ہے۔ ان کی دانست میں تشدد کا اس سے راست ربط ہے جو ہندو ہونے کا مطلب ہوتا ہے۔ تشدد ہندو فکر کا مرکزی حصہ ہے۔ تشدد کی حرکت ہندو ہونے کی تکمیل کی علامت ہے‘‘۔ (بحوالہ لیکچر جو ڈاکٹر چترویدی نے سنٹر فار ڈیولپنگ سوسائٹیز میں 29 مارچ 2017ء کو دیا؛ ان کے لیکچر نوٹس سے ماخوذ ، جو انھوں نے مشفقانہ انداز میں میرے ساتھ بانٹے ہیں)۔
اس پس منظر میں یہ واقعی غیرمعمولی ہے کہ مودی کو گاندھی اور بودھ کا استعمال کرنا چاہئے تھا ، جن دونوں کو ساورکر نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا … خود ساورکر کو ماننے سے انکار کئے بغیر ۔ اس کے برخلاف، مودی اور سنگھ پریوار ساورکر کی وراثت کے وارث ہونے کے خیال میں مزے اُڑا رہے ہیں۔ اسی لئے جب مودی کہتے ہیں جو انھوں نے اِس یوم آزادی کو بھی کہا کہ ’’اعتقاد کے نام پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے‘‘، تو گاؤ رکشک ٹولی اور یوگی ادتیہ ناتھ کی ہندو یووا واہنی کے غنڈے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ لال قلعہ کی فصیل سے جاری سخت وارننگ سے بحفاظت بچ سکتے ہیں اور ساورکر کے فلسفہ کو عمل میں لانے کے اپنے کام میں مشغول ہوسکتے ہیں۔ آخر، کون اعتقاد کے نام پر تشدد برپا کررہا ہے؟ کوئی اور نہیں بلکہ مودی کے سب سے جوشیلے حمایتی۔ اور کون مودی کی موقتی سرزنش کو نظرانداز کررہا ہے؟ قطعیت سے وہی غنڈہ عناصر۔ لہٰذا، جب مودی خود اپنے رکشکوں کو قابو میں نہیں رکھ سکتے، تو 125 کروڑ ہندوستانیوں کو تلقین کرنے کا کیا مطلب ہے جو سرے سے تشدد پر یقین نہیں رکھتے ۔ایسے موقع پر صرف شیکسپیئر کے الفاظ میں تبصرہ کرسکتے ہیں، ’’معالج، خود کا علاج کرو‘‘۔

پھر مودی نے 1942ء کے بارے میں بات کی، یعنی ہندوستان چھوڑو تحریک۔ زیادہ اہم یہ ہے جس کے تعلق سے انھوں نے بات نہیں کی … گاندھی جی کے غیرمعمولی نعرہ انگریز ’’بھارت چھوڑو‘‘ پر ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کے ردعمل کا کریہہ معاملہ۔ ساورکر نے صدر ہندو مہاسبھا کی حیثیت سے اپنے ردعمل میں ’’ہم آہنگ تعاون‘‘ پر زور دیا، جو انھوں نے کہا کہ ’’حب الوطن سرگرمیوں کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، غیرمشروط تعاون سے لے کر سرگرم اور حتیٰ کہ مسلح مزاحمت‘‘۔ نہیں، واضح رہے کہ یہ سامراج حکمرانی کے خلاف ’’مزاحمت‘‘ نہیں بلکہ ’’گاندھی اور کانگریس کے مقابل ’’مزاحمت‘‘ تھی۔ دیگر شخصیت سنگھ پریوار کے ہیرو ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی جو تب مسلم لیگ زیرقیادت مخلوط حکومت بنگال میں وزیر فینانس تھے، انھوں نے ’’ہم آہنگ تعاون‘‘ کی وضاحت اپنے برطانوی آقاؤں کو موسومہ مکتوب مورخہ 26 جولائی 1942ء میں اس طرح کی: ’’کوئی بھی فرد جو جنگ کے دوران عوام کے احساسات کو بھڑکانے کا منصوبہ بنائے اور نتیجتاً داخلی طور پر گڑبڑ یا عدم سلامتی پیدا ہو، اس کی ضرور مزاحمت ہونا چاہئے‘‘۔ یہ ’ہندوستان چھوڑو‘ کی تحریک والے دن سے محض دو ہفتے قبل کی بات ہے۔
پھر بھی مودی کو برطانوی حکمرانی کے گڑھ پر گاندھی جی کے قطعی حملے کا کریڈٹ لینے کی جرأت ہوئی، جسے سنگھ والوں نے بائیکاٹ کرتے ہوئے تخریب کا نشانہ بنایا تھا؛ اور لال قلعہ سے اعلان کیا کہ نیتاجی کی آزاد ہند فوج کو خراج: ’’ہمارا نصب العین ’بھارت چھوڑو‘ تھا اور آج کا نعرہ ’بھارت جوڑو‘ ہے۔‘‘ تاہم، اُن کا حقیقی مقصد بدستور ’’بھارت توڑو‘‘ ہے کیونکہ ٹھیک ساورکر کی طرح انھوں نے اپنے دل میں ساورکر کا وہ اعلان نقش کرلیا ہے جو 1938ء میں ہندو مہاسبھا کے سالانہ سیشن منعقدہ ناگپور میں کیا گیا تھا: ’’ہم ہندوستانی ہیں کیونکہ ہم ہندو ہیں اور برعکس … بھارت کو ضرور ہندو سرزمین ہونا چاہئے، جو ہندوؤں کیلئے محفوظ ہو۔‘‘ ساورکر نے خلاصۂ تقریر میں کہا: ’’اے ہندو قوم! اگر تم زبردست اور شاندار ہندو قوم کے طور پر پھلنا پھولنا چاہتے ہو تو مملکت کو ہندو پرچم تلے قائم کرنا لازمی ہے‘‘۔ کیا یہی طریقہ ہے ’’بھارت جوڑو‘‘ ؟
لال قلعہ سے خطاب سے محض چند روز قبل پارلیمنٹ میں مودی نے سبکدوش ہونے والے نائب صدر پر طنز کیا تھا کہ اب وہ اپنے ’’خاص خیالات‘‘ پر واپسی کیلئے آزاد ہیں۔ اس نے اُن کے نظریاتی بھکت اور آر ایس ایس کے مارگ درشک اندریش کمار کو حوصلہ بخشا اور انھوں نے باوقار محمد حامد انصاری کو ’’ہندوستان چھوڑنے‘‘ کا مشورہ دیتے ہوئے کہہ دیا، ’’انھیں کسی اور ملک کی طرف کوچ کرنا چاہئے جہاں انھیں محسوس ہو کہ وہ محفوظ رہیں گے‘‘۔ کیا اعلیٰ دستوری عہدہ پر فائز معزز شخص کے بارے میں بات کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ کیا یہ ’’بھارت جوڑو‘‘ والا طریقہ ہے؟ اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے تعلق سے رپورٹس پر نظر ڈالیں کہ انھوں نے کیرالا کے ایک سرکاری امدادی اسکول میں قوم پرچم لہرایا اور پھر اپنی ’’حب الوطنی‘‘ کا مظاہرہ اس طرح کیا کہ قومی ترانہ بجانے میں اسکول کی سخت ناکامی پر کچھ احتجاج نہیں کیا۔ یو پی میں مسلم مدرسوں کو ایسی ہی لغزش پر نشانہ بنایا جارہا ہے، لیکن اُن کے ممتاز نظریہ ساز تو قومی ترانہ کے خلاف آر ایس ایس کے دیرینہ موقف کی بدستور تعمیل کررہے ہیں۔ کیا یہی ہے مودی کا ’’نیو انڈیا‘‘ ؟
کب تک یہ منافقت چلتی رہے گی؟ 2019ء کا الیکشن محض حکومت کی تبدیلی کیلئے نہیں ہوگا۔ یہ الیکشن ملک کو بچانے ، اس کی ہم آہنگ روایات کو بچانے، اس کے مخلوط کلچر کو بچانے، اس کی حقیقی شناخت کو بچانے کیلئے ہوگا۔ اُس خیالِ ہندوستان کے تحفظ کیلئے جس نے تحریک آزادی کا حوصلہ بخشا، مودی اور اُن حامیوں کو ضرور شکست دینا چاہئے۔ لہٰذا، گٹھ بندھن کے ساتھ آگے بڑھئے، انشاء اللہ، مہا گٹھ بندھن ہوگا!
( منی شنکر ایئر سابق کانگریس ایم پی، لوک سبھا و راجیہ سبھا ہیں)

Top Stories

TOPPOPULARRECENT