Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / وزیراعظم نریندر مودی اور سال 2019

وزیراعظم نریندر مودی اور سال 2019

دو سال طویل عرصہ  …  مہینوں اور دنوں میںبہت کچھ بدل جاتا ہے
2019 ء بھی وزیراعظم مودی کیلئے اچھا دکھائی دیتا ہے

عاکر پٹیل
’’پیش قیاسی کرنا اور خاص طور پر مستقبل کے تعلق سے بات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ‘‘ یہ دلچسپ جملہ امریکی بیس بال کھلاڑی یوگی بیرا سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اُس کا حقیقی نام تو لارینزو ہے، لیکن اُسے ’یوگی‘ کی عرفیت دی گئی جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بڑی آسانی سے ہندوستانیوں جیسا آلتی پالتی مار کر بیٹھ سکتا ہے۔ ہمیں کوئی یوگی نہیں بننا یا مراقبہ میں بیٹھنا نہیں ، اور 2019ء کے الیکشن کے تعلق سے آج کوئی پیش قیاسی سے دور رہنا ہے۔ تاہم، اس میں تو کچھ قباحت نہیں کہ 2014ء کے اعداد پر نظر ڈالیں، ان کا جائزہ لیں اور تجزیہ کریں کہ 2019ء کیلئے ممکنات کیا ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اترپردیش میں حالیہ کامیابی پر مانا جارہا ہے کہ اس نے 2019ء میں نریندر مودی کی اقتدار پر واپسی کو ناگزیر بنادیا ہے۔اگر واقعی ایسا ہے تو کیا ہونا ضروری ہوگا؟
گزشتہ الیکشن میں ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے عین قبل مودی نے دلچسپ انکشاف کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی ریالیوں کے شرکاء نے انھیں بتایا کہ وہ مکمل اکثریت حاصل کریں گے، جو 1984ء سے ہندوستانی سیاست میں دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ یہ بات درست نکلی اور وہ 543 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ 282 جیت گئے۔ مودی کو عددی طاقت زیادہ تر شمالی ہند کی ریاستوں سے حاصل ہوئی۔ جن مقامات پر وہ نمایاں طور پر غالب رہے، وہ ہیں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں یا اُس کا طاقتور وجود ہے۔ یہ ہیں مودی کی آبائی ریاست گجرات (جہاں وہ 26 میں سے 26 جیتے)، راجستھان (25 میں سے 25)، مدھیہ پردیش (29 میں سے 27)، جھارکھنڈ (14 میں سے 12)، ہماچل پردیش (4 میں سے 4)، ہریانہ (10 میں سے 7)، دہلی (7 میں سے 7) ، چھتیس گڑھ (11 میں سے 10)، اترکھنڈ (5 میں سے 5) اور اترپردیش (80 میں سے 71)۔
شمالی ریاستوں میں بھرپور کامیابی اور اس کے ساتھ شمال مشرق میں چند نشستوں نے مودی کو زائد از 200 تک پہنچا دیا۔ 30 سال میں اس طرح کے اعداد پہلی مرتبہ درج ہوئے۔ اس کے بعد انھیں الیکشن جیتنے کیلئے دیگر حصوں میں بس اوسط پرفارمنس درکار ہوا۔ لہٰذا، اُن کیلئے آسان ترین راہ یہی ہوگی کہ اس طرح دوبارہ کر دکھایا جائے۔تاہم، شمال میں اس مظاہرہ کا اعادہ اُن کیلئے چیلنج رہے گا۔ بعض مقامات جیسے راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات نیز ممکنہ طور پر اترپردیش میں پارٹی 2019ء میں شاید اتنی مضبوط گرفت قائم نہ رکھ پائے گی جتنی موجودہ طور پر ہے۔ کاملیت کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا، اور گجرات، اترکھنڈ، راجستھان اور دہلی میں انھوں نے پہلے ہی بھرپور مظاہرہ پیش کردیا۔ گجرات میں بی جے پی کو اپنے سب سے زیادہ حمایتی ووٹر ’پٹیدار‘ سے بغاوت کا سامنا ہے۔ راجستھان میں سچن پائلٹ کی شکل میں اُسی ریاست کا مضبوط لیڈر موجود ہے۔ پنجاب کی طرح جہاں قابل دیسی قیادت کا وجود رہا، ہر نشست کیلئے کانٹے کا مقابلہ رہے گا۔
مودی کیلئے خوش قسمتی سے دیگر بڑی ریاستوں میں بہتر مظاہرہ پیش کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ عین ممکن ہے وہ اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر مہاراشٹرا (جہاں وہ 48 میں سے 23 جیتے)، بہار (40 میں سے 20)، اُڈیشہ (21 میں سے 1) اور مغربی بنگال (42 میں سے 2 ) میں کچھ بہتر کریں گے۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی نے کانگریس، شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور اُدھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے غالب پارٹی کا موقف حاصل کرلیا ہے۔ اڈیشہ اور مغربی بنگال میں کبھی بی جے پی حکومتیں قائم نہیں ہوئیں۔ تاہم، حالیہ مجالس مقامی چناؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی نے اڈیشہ میں اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس کی جگہ لے لی اور بنگال میں اس نے قدم جمایا ہے۔ کسی حد تک یہ تبدیلی مودی کی مجموعی مقبولیت کے سبب ہے اور اس سے اُن کے امیدواروں کو 2019ء میں فائدہ ہوگا۔ یہ چار ریاستوں میں چونکہ وزیراعظم مودی کیلئے امیدافزاء حالات ہیں، اس لئے پانچ جنوبی ریاستوں کی کلیدی حیثیت بی جے پی کیلئے کسی حد تک گھٹ جاتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی مودی کی پوزیشن خراب نہیں ہے۔ وہ ممکنہ طور پر جنوبی ہند میں اپنے پرفارمنس کی برابری یا اس سے کچھ بہتر ہی کریں گے جہاں موجودہ طور پر بی جے پی کی عددی طاقت کرناٹک میں 28 میں سے 17 سیٹیں، آندھرا پردیش میں 25 میں سے 2 ، کیرالا میں 20 میں سے 0 ، ٹاملناڈو میں 39 میں سے 1 اور تلنگانہ میں 17 میں سے 1 نشست ہے۔ ان میں سے بعض ریاستوں میں بی جے پی کا شکست میں تک محصلہ ووٹ کا تناسب اچھا ہے، مثال کے طور پر کیرالا میں 10%۔ وہاں اس کو مستقل وجود پانے کا بھرپور موقع ہے۔ یہ سب کچھ جزوی طور پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کارکنوں کی وجہ سے ہے (جنھیں مودی مقامی انتخابی کامیابیوں کا جائزہ لیتے وقت ہمیشہ مبارکباد دیتے اور شکریہ کہتے ہیں)۔ برسہابرس تک بے غرض رضاکارنہ کام نے ثمرات پیش کئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کی وجہ کچھ حد تک کانگریس کی فرسودگی بھی ہے، جو اِن تمام ریاستوں میں اپنا مقام کھوچکی ہے۔
ہم میں سے اکثر نے قیاس کیا تھا کہ اٹل بہاری واجپائی 2004ء میں اکثریت جیتیں گے۔ درحقیقت، خود انھیں بھی کامیابی کا اس قدراعتماد رہا کہ انھوں نے انتخابات چھ ماہ قبل کرالئے، لیکن ناکام ہوگئے۔ اس لئے اب سے پورے دو سال میں کیا کچھ ہوگا، اس کی پیش قیاسی کرنا غیردنشمندانہ رہے گا۔ حکومتوں اور سورماؤں نے اس سے بھی بہت کم عرصے میں اپنی مقبولیت کھوئی ہے۔ تاہم، جہاں تک اعداد و شمار کا معاملہ ہے، مودی کے حق میں معلوم ہوتے ہیں۔ ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایسا الیکشن ہے جس میں وہ خود غلطیاں کرلے تو ہار جائے، ورنہ اپوزیشن کے پاس جیت درج کرانے کی قابلیت نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT