Sunday , October 22 2017
Home / سیاسیات / وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں گراوٹ

وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں گراوٹ

فی الفور پارلیمانی انتخابات کی صورت میں 50 نشستوں سے محرومی کا اندیشہ
نئی دہلی 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی ایک سالہ ناقص کارکردگی سے عوام مایوس ہوگئے ہیں اور فی الفور پارلیمانی انتخابات منعقد ہونے کی صورت میں این ڈی اے کو 50 نشستوں سے محروم ہونا پڑے گا جوکہ وزیراعظم کیلئے خطرہ کی گھنٹی تصور کی جارہی ہے۔ عوام نے15  ماہ قبل ان کی پارٹی بی جے پی کو تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار کیا تھا اور یہ توقع وابستہ کی تھی کہ تیز رفتار معاشی ترقی، فراہمی روزگار اور کرپشن اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پائیں گے لیکن اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا اور این ڈی اے حکومت سے عوام کو حاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا۔ اُمید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی آئندہ 4 سال میں اپنے وعدوں کی تکمیل کی کوشش کریں گے۔ انڈیا ٹوڈے گروپ اور سیسرو موڈ آف نیشن کے تازہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ نریندر مودی عوام میں تیزی کے ساتھ اپنی ساکھ کھوتے جارہے ہیں کیوں کہ ان کے اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے کہ وہ کرپشن کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور ویاپم اسکام میں پھنسے ہوئے پارٹی لیڈروں کے تحفظ کیلئے سامنے آگئی ہے۔ جاریہ سال ماہ اپریل میں نریندر مودی حکومت کی کارکردگی پر ایک سروے کروایا گیا تھا اس وقت سے وزیراعظم کی مقبولیت گھٹنا شروع ہوگئی۔ گوکہ 31 فیصد ہندوستانیوں کا یہ خیال ے کہ نریندر مودی انتہائی دیانتدار سیاستداں ہے۔ علاوہ ازیں عوام کو نریندر مودی کی صلاحیتوں پر یہ اعتماد تھا کہ گجرات کے ترقی اور تعمیر کے منصوبہ کو مرکز میں بھی روبہ عمل لائیں گے لیکن وہ گجرات ماڈل اختیار کرنے سے قاصر رہے جس کے نتیجہ میں بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی مقبولیت متاثر ہورہی ہے۔ اور نریندر مودی کی مقبولیت کی آزمائش کیلئے اگر فی الفور پارلیمانی انتخابات منعقد کروائے گئے تو این ڈی اے کو تقریباً 50 نشستوں پر شکست ہوجائیں گی اور اس کا جادوئی ہندسہ 273 سے بھی گھٹ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT