Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وزیراعظم نے یوپی میں دیڑھ ماہ انتخابی مہم چلائی

وزیراعظم نے یوپی میں دیڑھ ماہ انتخابی مہم چلائی

انتظامی اُمور کو پس پشت ڈال دیا گیا ، ملک میں مودی لہر نہیں ، سی پی آئی
حیدرآباد 14 مارچ (پی ٹی آئی) سی پی آئی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے آج کہاکہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں مخالف حکومت رجحان کے سبب حکمراں جماعتوں کو شکست ہوئی ہے تاہم اُنھوں نے اعتراف کیاکہ بی جے پی اب کانگریس کا متبادل ایک بااثر قومی پارٹی بن چکی ہے۔ اُنھوں نے یہ دعویٰ مسترد کردیا کہ اترپردیش میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی ناقابل شکست شخصیت بن چکے ہیں۔ اُنھوں نے اِس بات کو بھی تسلیم نہیں کیاکہ 2019 ء میں بی جے پی دوبارہ اقتدار پر واپس آئے گی۔ سدھاکر ریڈی نے کہاکہ اگر مودی ناقابل شکست ہیں تو پھر پنجاب میں وہ اثرانداز کیوں نہیں ہوپائے۔ اُنھوں نے کہاکہ منی پور اور گوا میں بھی پارٹی نے ناقص مظاہرہ کیا ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں مخالف حکومت رجحان کا غلبہ رہا اور اِس کی وجہ سے حکمراں جماعت کو شکست ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ اشیائے مایحتاج کی قیمتوں میں اضافہ، بی جے پی کے انتخابی نعروں کو پورا کرنے میں ناکامی، روزگار کے مواقع فراہم نہ کرنے اور عوام کو پیش آرہی مشکلات کے سبب مودی کا سحر تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ اگر مودی کا اثر برقرار رہتا تو پھر اُنھیں یوپی میں 45 دن تک انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ملک کے کسی بھی وزیراعظم نے اب تک انتظامی اُمور کو ترک کرتے ہوئے دیڑھ ماہ تک انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT