Friday , May 26 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم پر انتخابی مہم کو ذات پات اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام

وزیراعظم پر انتخابی مہم کو ذات پات اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام

مسلم رائے دہندوں سے خبردار رہنے کی خواہش ، ایس پی کو ووٹ سے بی جے پی کا فائدہ : مایاوتی

لکھنؤ 21 فروری (سیاست ڈاٹ کام)صدر بی جے پی مایاوتی نے آج یو پی کے مسلم رائے دہندوں کو خبردار کیا کہ سماج وادی پارٹی کی تائید میں دیا ہوا ووٹ نہ صرف ضائع ہوگا بلکہ اس سے راست بی جے پی کو فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے ان کی پارٹی کی تائید میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی اور وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ ذات پات اور فرقہ وارانہ بنیاد پر رائے دہندوں سے ووٹ طلب کررہے ہیں کیونکہ پہلے تین مرحلے کی رائے دہی میں ان کی پارٹی کا مظاہرہ اچھا نہیں رہا ۔ انہوں نے دلت مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے 100 مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔ بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے وزیراعظم کو ’’مسٹر نیگیٹیو دلت مین‘‘ قرار دینے کے ایک دن بعد آج ان پر اور ان کی پارٹی بی جے پی پر الزام عائد کیاکہ وہ اترپردیش کی انتخابی مہم کو ذات پات اور فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ مایاوتی نے اپنے صحافتی بیان میں کہاکہ ’’بی جے پی اور اس کے سرکردہ قائدین جن میں وزیراعظم بھی شامل ہیں، یہ اندازہ کرلینے کے بعد کہ تین مرحلوں کی رائے دہی میں ان کی پارٹی نے ناقص مظاہرہ کیا ہے، اب گزشتہ دو دن سے غلط بیانات جاری کررہے ہیں‘‘۔ مایاوتی نے ’’قبرستان ۔ شمشان گھاٹ‘‘ اور ’’دیوالی و عید‘‘ سے متعلق وزیراعظم مودی کی طرف سے کئے گئے ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے نظریات کا اظہار دراصل انتخابات کو ذات پات اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کے مقصد پر مبنی ہیں۔

وزیراعظم نے اتوار کو فتح پور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر دیہات میں ایک قبرستان اور ایک شمشان گھاٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز عوام کو عید کے ساتھ دیوالی کے موقع پر بھی برقی ملنی چاہئے۔ مایاوتی نے کہاکہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ (مودی) انتخابات کو ذات پات اور فرقہ پرستی کا رنگ دے رہے ہیں۔ کوئی بات کہنے سے قبل اُنھیں (مودی کو) یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ ہریانہ اور مدھیہ پردیش جیسی بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں بھی آیا ایسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں؟‘‘ ۔ مایاوتی نے کہاکہ وزیراعظم کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں کے ہر گاؤں میں شمشان گھاٹ بنائیں پھر اُس کے بعد اترپردیش کی بات کریں۔ مایاوتی نے کہاکہ ’’اس قسم کے غلط بیانات کے ذریعہ بی جے پی جھوٹ کی سیاست پر اُتر آئی ہے۔ سیاست کی سطح کو بی جے پی نے گھٹادیا ہے جو جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے‘‘۔ مایاوتی نے اس یقین کا اظہار کیاکہ اسمبلی انتخابات میں ان کی جماعت بی ایس پی کو کامیابی ملے گی۔ ایس پی ۔ کانگریس اتحاد اور بی جے پی کے درمیان دوسرے مقام کے لئے مقابلہ ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT