Thursday , September 21 2017
Home / سیاسیات / وزیراعظم پر تضاد بیانی اور ماحول زہریلا کرنے کا کانگریس کا الزام

وزیراعظم پر تضاد بیانی اور ماحول زہریلا کرنے کا کانگریس کا الزام

زدوکوب کے ذریعہ اموات پر اپوزیشن کا ہنگامہ ، مویشیوں کی تباہی اور کسانوں کی خودکشیوں کا حوالہ

نئی دہلی۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج حکومت پر زدوکوب کے ذریعہ اموات کا الزام عائد کیا جبکہ کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسا ماحول پیدا کررہے ہیں اور اس مسئلہ پر تضاد بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائد کپل سبل نے راجیہ سبھا میں زدوکوب کے ذریعہ اموات کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم گاؤ رکھشکوں کو صبر و تحمل پر مجبور کرنے کیلئے کچھ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے عناصر ملوث ہیں۔ وہ زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں، اقلیتوں اور دلتوں پر ملک گیر سطح پر مبینہ مظالم کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے موضوع پر خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل سے صورتحال زہریلی ہوگئی ہے۔ سال 2017ء میں قتل کے اعظم ترین واقعات پیش آئے۔ مویشیوں پر امتناع کے چمڑے کی صنعت اور دیگر صنعتوں جیسے صابن سازی اور شیمپو سازی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تشدد اور دلسوز مناظر کی وجہ سے بکھر اور دہل کر رہ گئے ہیں جو انہوں نے سماجی میڈیا اور ٹوئٹر پر دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مناظر گزشتہ 50 سال میں کبھی نہیں دیکھے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کے پیچھے کونسے جذبات ہیں۔ 97% تشدد 2017ء میں کیوں ہوا ہے۔ وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نریندر مودی ایسے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے 8 اکتوبر 2015ء، 6 اگست 2016ء اور 29 جون 2017ء کی مودی کی تقاریر کا حوالہ دیا۔ سبل نے کہا کہ ان تقریروں میں سے ایک میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ بعض لوگ رات کے وقت جرائم میں ملوث ہیں اور دن کے وقت وہ گاؤ رکھشک بن جاتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ وزیراعظم ہی ہیں جو رات میں مختلف اور دن میں مختلف ہوتے ہیں۔ وزیراعظم ہی ایسا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مہاتما گاندھی کے اقوال دہرانے کا نہیں بلکہ ان کے جذبہ اور روح پر عمل آوری کی ضرورت ہے۔ سبل نے کہا کہ وی ایچ پی میں گاؤ رکھشکوں کی ایک مقدس فوج قائم کرنے کا اعلان کیا اور تاحال 2,700 افراد بھرتی کرلئے۔ بجرنگ دل انہیں تربیت دے رہی ہے۔ وزیراعظم کیوں نہیں کہتے کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل غیرسماجی ہیں۔ انہیں ہر سمت سے سیاسی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔ہندوتوا کے نظریہ نے دہشت گردی کا ماحول تخلیق کیا ہے۔ آج جعلی اور حقیقی ہندو کے درمیان جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو ان غنڈوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے جو امن کو تباہ کرنے اور قومی یکجہتی کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کانگریس قائد نے الزام عائد کیا کہ حکومت، گائیوں کا تحفظ بھی نہیں کرسکتی۔ ہریانہ میں 50 گائیں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئی ہیں۔ جے ڈی (یو) کے شرد یادو نے کہا کہ زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے واقعات طالبان اور افغان افراد کی ہلاکتوں سے زیادہ مہلک ہیں۔ مذہب ، سیاست پر غالب آچکا ہے۔ داخلی تضادات پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ، افغانستان اور شام کا حوالہ دیا اور کہا کہ بی جے پی زیراقتدار ریاستیں زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کے زیادہ واقعات کا مشاہدہ کررہی ہیں۔ ایسے واقعات جھارکھنڈ کے 14، یوپی کے 11، ہریانہ کے 9، راجستھان کے 5، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات میں سے ہر ایک کے چار اضلاع میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قوانین کچل دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے خواہش کی کہ ہندوستان کے اقلیتی طبقہ کے اصلاحی اقدامات کرنے کا حکومت نے ایک ایسے وقت فیصلہ کیا ہے جبکہ حکومت موت اور زندگی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انہیں مشتعل نہیں کرتا۔ یہ ڈرامہ بندکیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف مویشی تباہ کئے جارہے ہیں، دوسری طرف 12,000 کاشت کاروں خودکشی کرچکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT