Friday , July 28 2017
Home / مضامین / وزیراعظم کا دورہ اسرائیل کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا ؟

وزیراعظم کا دورہ اسرائیل کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا ؟

 

غضنفر علی خان
وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے تمام اعلیٰ اور دیرینہ اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کیا ۔ مسلم دشمن اسرائیل کا دورہ ہندوستان کی اس پالیسی کی مکمل نفی ہے۔ ہماری پالیسی اسرائیل کے تعلق سے انصاف پر مبنی تھی ۔ کسی اور نے نہیں خود قومی رہنما گاندھی جی نے اپنے اخبار ہریجن میں لکھا تھا کہ ’’فلسطین پر فلسطینیوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا انگریزوں کا برطانیہ پر ، فرانسیوں کا فرانس پر ہے، وہ ملک کی آزادی کے بعد کانگریس کی حکومتوں نے فلسطینیوں کے اس حق کی بھر پور تائید کی ۔ سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو فلسطینی رہنما یاسر عرفات اپنی بہن کہا کرتے تھے ۔ اندرا جی سے پہلے جواہر لال نہرو نے بھی فلسطین کی مملکت کی آزادی کی تائید کی تھی ۔ غرض یہ تائید اٹوٹ رہی ۔ اب مودی نے اس تائید کی دھجیاں اڑادیں اور بڑے کروفر کے ساتھ اسرائیل کا دورہ کیا ۔ انہیں (مودی) کو دراصل بیرونی ممالک کے دوروں کا شوقِ فضول ہوگیا ہے ۔ وزیراعظم کو سرخ قالین والے خیرمقدم کی عادت ہوگئی ہے ۔ امریکہ کے دورہ پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انہیں اپنا دوست قرار دیا تو اسرائیل کے دورہ کے موقع پر اسرائیل وزیراعظم نتن یاہو نے بھی انہیں ’’نمستے کہتے ہوئے دوست قرار دیا۔ دراصل نتن یاہو نے ٹرمپ کی نقل کی۔ وہ امریکہ کے ’’بغل بچے‘‘ ہیں اور اپنے آقا کی نقل کو اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن ساری نزاکتوں کو یکسر فراموش کرتے ہوئے وزیراعظم مودی اسرائیل کے دورہ سے بہت خوش ہیں۔ ہماری 70 سالہ پا لیسی یہ تھی کہ ہم کبھی ناجائز طور پر قابض اسرائیل کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں ۔ ہم فلسطینی عوام کو مظلوم سمجھتے ہیں۔

ہم کو یہ معلوم ہے کہ فلسطین کی موجودہ نسل اپنی سرزمین کی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہی ہے اور اس جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا حالات میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے؟ کیا فلسطین کی زمین پر سے یہودیوں کا قبضہ ختم ہوگیا ہے ؟ کیا بے گناہ معصوم فلسطینی بچوں ، بوڑھوں ، خواتین اور مردوں کے قتل عام کا لامتناہی سلسلہ بھی ختم ہوگیا ؟ کیا یہ درست نہیں کہ فلسطینی علاقوں پر آج بھی یہودی مملکت غیر قانونی تعمیرات کر رہی ہے ۔ آخر اسرائیل کے اس ظالمانہ موقف میں وزیراعظم مودی کو کونسی مثبت تبدیلی دکھائی دی کہ انہوں نے اسرائیل کے بچھائے ہوئے سرخ قالین پر نتن یاہو کے ساتھ قدم بہ قدم چل کر اپنی مسرت کا اظہار کیا ۔ حالات اور واقعات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے ۔ فلسطینی مظلوم تھے اور آج بھی ہیں، اسرائیل ظالم تھا اور آج بھی ہے۔ کوئی بات نہیں بدلی تو پھر اچانک یہودی مملکت کے دورہ کی وزیراعظم کو کیوں سوجھی۔ کیوں وہ اس دورہ کے موقع پر مسرت کا اظہار کر رہے تھے ۔ انہیں یہ منفی اعزاز ضرور حاصل ہوا کہ وہ 70 سال کے عرصہ کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے تاریخی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ظالم اسرائیل کا دورہ کیا ۔ اگر ظالم کا ساتھ دینا درست ہے تو پھر وزیراعظم کا یہ دورہ بھی صحیح ہے لیکن مستقبل کا مورخ ان سے ضرور سوال کرے گا کہ کیوں ملک کے وزیراعظم ہونے کے باو جود انہوں نے ایک ناجائز مملکت میں قدم رکھا ۔ انہیں فلسطین پر ہونے والے تشدد اور ظلم کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ اگر اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر سے اپنا ناجائز قبضہ ختم کردیا ہوتا اور بیت المقدس فلسطین کے حوالہ کردیا ہوتا فلسطینی علاقوں میں نئی بستیاں بسانے کا کام روک دیا ہوتا تو وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھی درست ہوتا۔ ان تمام اسباب اور عوامل کی من و عن برقراری کے باوجود مودی کا دورہ بالکل غلط فیصلہ ہے اور رہے گا کیونکہ اسرائیلی مملکت نے اپنی ہٹ دھرمی پانے استبداد ختم نہیں کی بلکہ دن بہ دن اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو پھر وزیراعظم سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ کیوں انہوں نے یہودی مملکت کا دورہ کیا ؟ کیوں اسے ظالم وزیراعظم کی زبان سے خود کو دوست قرار دینا گوارا کیا ۔ مودی کے دورہ اسرائیل نے ہماری آزمودہ 70 سالہ روایات اور ہماری انصاف پسندی پر پانی پھیر دیا ۔ 1990 ء جولائی میں سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے پہلی مرتبہ اسرائیل کو ہندوستان میں سفارتخانہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی لیکن کبھی انہوں نے یا ان کے بعد کسی وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا۔

ہاں یہ بات ضرور کہی جانی چاہئے کہ آنجہانی نرسمہا راؤ نے بھی اسرائیلی سفارتخانہ کے قیام کی ا جازت دے کر ملک کی خارجہ پالیسی سے انحراف کیا تھا لیکن اسرائیل سے ہمدردی کے باوجود آنجہانی راؤ نے بھی کبھی اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ۔ وزیراعظم مودی نے اپنے تعلق سے یہ تاثر خود پیدا کردیا ہے کہ وہ عرب ممالک کو اپنا گہرا اور آزمودہ دوست تسلیم نہیں کرتے ۔ وہ عربوں کو اسرائیل کے برابر سمجھتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں انہوں نے عرب ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کا دورہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ ہندوستان عرب ممالک سے ا پنے دیرینہ تجارتی ثقافتی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے لیکن اسرائیل کا دورہ کر کے خود انہوں نے اپنے تعلق سے اس تاثر کو غلط ثابت کردیا ۔ عرب ممالک سے ہمارے روابط اور تعلقات بہت قدیم اور بہت گہرے ہیں ۔ عالم عرب اور عالم اسلام کو کبھی گوارا نہیں ہوگا کہ ہندوستانی عربو ںکے ساتھ دوستی کا ڈھونگ رچائے، عرب ممالک کو یہ احساس ہورہا ہے کہ انہیں ہندوستان سے دوستی اور تعلقات پر مطمئن نہیں رہنا چاہئے ۔ اسلامی اور عرب ممالک سے ہمارے معاشی تعلقات بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ لاکھوں ہندوستانی باشندے عرب ممالک میں منافع بخش ملازمتیں کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل سے ہمارے نہ تو کبھی معاشی تعلقات تھے اور نہ اس چھوٹے سے ملک میں اتنا دم خم ہے کہ وہ ہندوستانیوں اور دوسرے ممالک کے باشندوں کو روزگار فراہم کرے۔ ان تمام مصلحتوں کو بھول کر محض اپنی انا کی تسکین کیلئے وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ کیا ۔ اسرائیل ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا جبکہ عالم عرب ہمارے لئے زیادہ اہم ہے ۔ اب اگر عرب ممالک جو اسرائیل کے سخت مخالف ہیں، اس ہند۔ اسرائیل دوستی پر اپنا ردعمل دکھائیںاور ہندوستانیوں کو ملازمتوں سے نکال دیں یا ان کو نئی ملازمتیں فراہم نہ کریں تو وزیراعظم مودی کیا کرسکتے ہیں؟ کیا ملک کے عوام کی سہولت اور ضرورت کو سمجھتے ہوئے وہ اسرا ئیل سے اپنے بڑھتے ہوئے تعلقات کو ختم کردیں گے ؟ اور کیا اسرائیل کے مخالف ممالک ان کی بات مان لیں گے ۔ وزیراعظم نے یہ دورہ کر کے کئی مسائل کھڑے کردیئے ہیں۔ عالم عرب کی نظر میں یہ دورہ کھٹک رہا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ سیاسی مصلحت کے تحت وہ اپنا ردعمل فوری ظاہر کرنا نہیں چاہتے یا اس میں احتیاط برت رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مودی کا دورہ ملک کے لئے فیض مند ثابت ہونے کے بجائے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس لئے وزیراعظم کو یہ دورہ نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ ایک اسرائیل کی خوشنودی کی قیمت عالم عرب اور دنیا کے کئی ممالک کی ناراضگی ، ناپسندیدگی کی شکل میں نہیں دی جانی چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتیں اور خاص طور پر کانگریس پارٹی ان کے دورہ کی مخالفت کر رہی ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیاں بھی اسرائیل کو عالم عرب اور فلسطینیوں کو مظلوم سمجھتی ہیں۔ ظالم اور مظلوم کبھی ایک صف میں نہیں کھڑے ہوسکتے۔ ان میں جو فرق ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا ۔ اگر یہ استدلال کیا جائے کہ اسرائیل کی ترقی اور خوشحالی سے متاثر ہوکر یہ دورہ کیا گیا تو بھی غلط ہے ، اس لئے کہ دنیا میں کئی ممالک ہیں جو اسرائیل سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، اسرا ئیل کے ساتھ دہشت پسندی کے خاتمہ کے لئے تعاون کی بات تو ازحد مضحکہ خیز ہے۔ کیوں دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد ملک اس وقت اسرائیل ہے ۔ وزیراعظم نے تشدد کے خلاف لڑنے کیلئے اسرائیل سے جو معاہدہ کیا ہے ، وہ حقائق کی کسوٹی پر اور ماضی و حال میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساتھ ظلم کی روشنی میں بالکلیہ طور پر غلط ہے۔

TOPPOPULARRECENT