Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / وزیراعظم کا ریمارک

وزیراعظم کا ریمارک

دیکھئے کیا ہے اس کی تعبیر
خواب دیکھے تو ہیں ستاروں کے
وزیراعظم کا ریمارک
وزیراعظم نریندر مودی نے کیرالا کا تقابل افریقی ملک صومالیہ سے کرتے ہوئے جو ریمارکس کئے ہیں ایک جمہوری ملک کے سربراہ کے لئے مناسب نہیں سمجھا جارہا ہے۔ حکومت کیرالا نے اس ریمارک کا سخت نوٹ لیا اور چیف منسٹر اومن چنڈی نے وزیراعظم کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا۔ کسی بھی ریاست، ملک کے تعلق سے ریمارک وہاں کے عوام کی توہین کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ کسی ملک کے سربراہ کو دیگر ممالک اور ریاستوں کے تعلق سے تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیرالا اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مرکز کی حکمراں پارٹی بی جے پی کے قائدین ہیں جو سیاسی بے چینی پیدا ہوئی ہے اس کا اثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ پارٹی کے اہم قائدین اپنی پریشانیوں کا اس طرح اظہار کرتے ہیں تو سیاسی گوشوں کی جانب سے تنقید و نکتہ چینی یقینی ہے۔ انتخابات کے موقع پر سوچ اور احساسات کا موسم کبھی یک لخت بدل جائے تو سمجھئے کہ حکمراں قائدین کو شکست کا اندازہ ہورہا ہے۔ کیرالا میں درج فہرست قبائیلیوں میں بچوں کی شرح اموات صومالیہ سے بھی زیادہ ہے۔ وزیراعظم کی اس سوچ کے اثرات عوامی جلسہ پر کس طرح مرتب ہوں گے یہ غور طلب ہے۔ ان کا یہ تاثر نہ تو کوئی اہمیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے کوئی منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن وزیراعظم کی حیثیت سے انھوں نے ایک ریاست کے عوام کے وقار کو ضرب پہونچائی ہے۔ اپوزیشن نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک غیر دانشمندانہ بیان سے ریاست کیرالا کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کہی جارہی ہے۔ کیرالا میں بی جے پی کا کوئی اثر نہیں ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی میں اس نے کوئی کھاتہ نہیں کھولا ہے اور ریاست میں جہاں شرح خواندگی صد فیصد ہونے کا ریکارڈ موجود ہے اِن پڑھے لکھے لوگوں کو افریقی ملک کے عوام سے جوڑنے سے بلاشبہ عوام میں غم و غصہ پیدا ہوگا۔ ساری دنیا میں اہم عہدوں پر فائز شخصیتوں کا بے خیالی میں یا دانستہ طور پر کسی کے خلاف ریمارکس کرنے کے نتائج بھی منفی نکلنے کے ثبوت موجود ہیں۔ وزیراعظم مودی کو کیرالا کے بنیادی مسائل کی یکسوئی کی جانب توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ اگر وہ کیرالا کے عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں تو اس کو جلسہ عام میں پیش کرسکتے تھے۔ مسائل کا حل تلاش کرنا ہی اہم حکمرانوں کی نشانی مانا جاتا ہے مگر بحیثیت قومی حکمراں مودی نے کیرالا کے عوام کے مسائل زدہ زندگی کو طنز کے تیر سے زخمی کرنے کی کوشش کی۔ دیگر ملکوں کے سربراہوں کے بیانات اور تقاریر کو ملاحظہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ دیگر ملکوں کے بارے میں یہ لوگ نکتہ چینی کرتے ہیں مگروزیراعظم مودی نے اپنے ہی ملک کی ایک ریاست کے عوام کی حالت کو صومالیہ کے عوام کے مماثل قرار دیا۔ انھیں ایسا ریمارک نہیں کرنا چاہئے تھا۔ برطانیہ کی ملکہ الزیبتھ نے جب چین کے باشندوں کو نہایت ہی گنوار اور ناشائستہقرار دیا تھا تو اس پر شدید تنقیدیں ہوئی تھیں۔ ان کے بعد وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان اور نائجیریا کو دنیا میں سب سے زیادہ کرپٹ ممالک قرار دیا تھا لیکن مودی نے تو اپنے ہی ملک کی ایک ریاست کی تصویر کو مسخ کرکے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی یہ وہی بتاسکتے ہیں۔ بحیثیت وزیراعظم وہ اپنی ریاست گجرات اور کیرالا کا تقابل نہیں کرسکتے۔ مگر انھوں نے جب ایسا ریمارک کیا ہے تو اپوزیشن اور کیرالا کی حکمراں پارٹی کے لئے ناقابل قبول بن گیا۔ اب وزیراعظم اپنے ریمارکس کو واپس لے کر معذرت خواہی کریں تو کیرالا کے عوام کے وقار کو جو ضرب پہونچائی گئی ہے اس کی تلافی نہیں ہوسکے گی۔ جب آپ کسی ملک کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوتے ہیں تو آپ کو ہر ایک کی عزت و توقیر کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے اور بہت احتیاط سے ناپ طول کے ساتھ اظہار خیال کرنا ہوتا ہے لیکن مودی نے وزیراعظم کے عہدہ کے اعتبار کا پاس و لحاظ نہیں رکھا۔ پی ایم او کے ذمہ داروں نے مودی کو یہ نہیں سکھایا ہے کہ انھیں دہلی سے باہر کس طرح کا رویہ رکھنا چاہئے۔ کیرالا کے پیراوار علاقہ کے بارے میں مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ قبائیلی علاقوں میں بچے کچرے سے غذا تلاش کرتے ہیں اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اگر وزیراعظم اس بیان کی وضاحت کریں گے تو اس میں بھی طنز کا عنصر ہوگا اور ان کی خاموشی پر بھی ان کا ریمارک تعاقب کرتا رہے گا۔ اگر بی جے پی میں مودی کا دبدبا نہ ہوتا تو ان کے لئے کئی چیلنج کھڑے ہوتے۔ فی الحال قومی سیاست کی بے آواز لاٹھی بھی ساکت پڑی ہے۔
بنگلہ دیش کا ماضی دفن کرنے کی کوشش!
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان 1971 ء سے جو تنازعہ تھا اب اس میں شدت پیدا ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دیئے جانے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے۔ مطیع الرحمن کو پھانسی دیئے جانے پر اقوام متحدہ سے لیکر دیگر سربراہان مملکت نے مذمت کی ہے۔ خود بنگلہ دیش میں سکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ 1971 ء کے جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دینے عدالت کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیار کے برعکس بھی کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا ردعمل اور بنگلہ دیش و پاکستان کے علاوہ برصغیر میں اس پھانسی کے خلاف احتجاج تو درج کرنے کے واقعات کے درمیان بنگلہ دیش کی حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کرنے کا الزام بھی ہے۔ بنگلہ دیش کی برسر اقتدار پارٹی عوامی لیگ کو اس پھانسی کی سزا پر تعمیل کرنے کے مستقبل میں کیا سیاسی عواقب و نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس وقت پارٹی نے بنگلہ دیش کے ماضی کو دفن کرنے جنگی جرائم کے مقدمات کی یکسوئی کا عمل تیز کردیا جبکہ بنگلہ دیش کو ماضی کی غلطیوں سے زیادہ مستقبل کی خرابیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش نے جنگ آزادی کے دوران لاکھوں عوام کی قیمتی جانوں کو کھویا تھا۔ پاکستان سے علیحدگی کی یہ جنگ بنگلہ دیش کو آزاد ہونے میں کامیاب تو بنادی تھی لیکن اس کے ہولناک اثرات اب بھی بنگلہ دیش کا تعاقب کرتے نظر آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے 71 سالہ سربراہ مطیع الرحمن نظامی کو 16 مقدمات کا سامنا تھا۔ ان میں نسل کشی، قتل، تشدد اور عصمت ریزی کے الزامات شامل تھے۔ ان کے جرائم کو سنگین بتاکر ہی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے 2010 ء میں جنگی جرائم کا خصوصی ٹریبونل قائم کیا تھا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے متعدد قائدین اور کارکنوں کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے۔ مگر مطیع الرحمن کی پھانسی بنگلہ دیش کے سیاسی مستقبل کے لئے بھیانک موڑ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام اور حکمراں پارٹی نئے مسائل اور نئے تنازعات سے نمٹنے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT