Monday , September 25 2017
Home / سیاسیات / وزیراعظم کی ’’خاموشی‘‘ پر سی پی آئی ایم اور عمر عبداللہ کی تنقید

وزیراعظم کی ’’خاموشی‘‘ پر سی پی آئی ایم اور عمر عبداللہ کی تنقید

سشما سوراج پر الزامات اور جنگ بندیوں کی خلاف ورزیوں پر خاموشی حیرت انگیز

پڈوچیری؍ سرینگر ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )سی پی آئی ایم نے آج وزیراعظم نریندر مودی کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے خلاف للت مودی تنازعہ کے سلسلے میں اقدامات پر خاموشی کو قابل اعتراض قرار دیا ۔ حالانکہ انھیں برطرف کردینے کے بھی مطالبے کئے گئے ہیں۔ سی پی آئی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن ایم بالا کرشنن رکن اسمبلی نے کہا کہ ملک میں اسکامس اور کرپشن وسیع پیمانے پر سابق کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت میں دیکھا گیا تھا لیکن مرکز میں کانگریس کے 10 سالہ اقتدار سے صرف سرمایہ داروں کو فائدہ ہوا جبکہ غریب اور کمزور طبقات محروم رہے ۔

عالمیانے اور فراخدلانہ پالیسی کے نتیجہ میں ملک غربت کی گہرائی میں پہونچ گیا۔ بالا کرشنن ایک سمینار سے خطاب کررہے تھے جو بائیں بازو کی پارٹیوں نے مشترکہ طورپر کل منعقد کیا تھا جہاں ان پارٹیوں نے متبادل پالیسیوں کیلئے ایک اعلامیہ کا فارمولہ پیش کیا۔ بالا کرشنن نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے دور حکومت جس کے سربراہ نریندر مودی ہیں اب بھی صرف ڈرامہ کررہا ہے ۔ وزیراعظم پہلے سے بیرونی دوروں میں مصروف ہیںاور اُن کا بیشتر وقت بیرون ملک ہی گذرتا ہے ۔ سی پی آئی قائد نے کہا کہ اے آئی این آر سی دور اقتدار عوام کو بیوقوف بنارہا ہے اور اُن سے جھوٹے وعدے کررہا ہے ۔ مودی زیرقیادت حکومت صرف درخواستیں کررہی ہے کہ پڈوچیری کو ریاست کا درجہ دیا جائے لیکن مرکزی زیرانتظام علاقہ کو مرکز کی جانب سے فنڈس فراہم نہیں کئے جارہے ہیں ۔

سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سخت تنقید کی ، حالانکہ ریاست میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں ۔ بنکاک کے دھماکے کے متاثرین کو تعزیت پیش کرنے کا وزیراعظم کے پاس وقت نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن انھوں نے فوری اپنے ٹوئٹر پر بنکاک میں دھماکوں کی مذمت کی لیکن گزشتہ دو دنوں میں خطہ قبضہ سے سرحد پار سے شلباری میں ہلاک ہونے والے افراد سے اظہار ہمدردی میں ایک لفظ بھی اپنی مائیکرو بلاگنگ سائیٹ ٹوئٹر پر تحریر نہیں کیا۔ انھوں نے کہاکہ جبکہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں بم دھماکہ قابل مذمت ہے لیکن وزیراعظم کو خود اپنے عوام کے مہلوکین کے ورثاء سے اظہارہمدردی کرنا چاہئے تھا اور اُن کی امداد کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ انھوں نے کہا کہ بیشک بنکاک کا بم دھماکہ قابل مذمت ہے اور ممکنہ حد تک سخت لب و لہجہ میں اس کی مذمت کی جانی چاہئے لیکن ہمارے اپنے عوام سے ہمدردی یا اُن کی تائید کے بارے میں بھی وزیراعظم کو کچھ نہ کچھ کہنا چاہئے تھا ۔ انھوں نے کہاکہ چھ افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوچکے ہیں جبکہ پاکستانی فوجیوں نے ریاست کے صوبہ جموں میں گزشتہ کئی دن سے اپنی شلباری کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT