Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / وزیراعظم کی غلط بیانی اور خود ستائی

وزیراعظم کی غلط بیانی اور خود ستائی

غضنفر علی خان
وزیراعظم نریندر مودی بڑی تیزی سے ملک کی تاریخ کے ایسے وزیراعظم بنتے جارہے ہیں جن کی تعریف ان کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ۔ وہ اپنے ہر بیرونی دورہ کے موقع پر جہاں جہاں جاتے ہیں شکایت کرتے ہیں کہ پچھلی حکومت نے سب کچھ بگاڑ کر ملیامیٹ کردیا ۔ ان کا یہ دعوی سراسر غلط ہے ۔ ہندوستان نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ابتداء میں کم رفتار اور بعد میں تیز رفتاری سے ترقی کی ۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر آج تک جتنے وزیراعظم رہے انھوں نے گویا کچھ نہیں کیا اور جو کچھ کیا وہ مودی نے کیا ۔ ان کا یہ کہنا حقائق کے مغائر ہے ۔ ہر موقع پر یہ شکایت کہ گذشتہ حکمرانوں نے کچھ بھی نہیں کیا، کھوکھلا دعوی ہے۔ مودی شاید جد وجہد آزادی کی عصری تاریخ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ ہوں گے بھی کیوں انھوں نے اس عظیم تاریخ میں کوئی رول ہی ادا نہیں کیا  ۔اس لئے وہ طفل مکتب بھی نہیں بنے تھے ۔ ملک آزاد ہوا تب زائد از کئی کروڑ کی آبادی تھی ۔ انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ نے معیشت کو تباہ کردیا تھا ۔ ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لئے کوئی بنیادی ڈھانچہ بھی نہیں تھا ۔ ہندوستان کو ایک نئی دنیا آباد کرنی تھی  ۔اس نئی دنیا میں اسکو اپنا مقام بھی حاصل کرنا تھا  ۔اتنا مشکل کام کوئی معمولی حکومت نہیں کرسکتی تھی ۔ اس لئے شاید ملک کی قیادت اور بدلے ہوئے حالات میں گاندھی جی کی قیادت میں نہرو ، ابوالکلام آزاد اور دیگر مخلص لیڈروں کے حوالے قدرت نے ملک کو کیا ۔ اگر اس وقت مخلص اور صاحب نظر قیادت ملک کو نصیب نہ ہوئی ہوتی تو آج نہ جانے ہندوستان کہاں ہوتا ۔ کیا اس حقیقت سے وزیراعظم مودی انکار کرسکتے ہیں کہ آزادی کے وقت ملک ہی کے نہیں براعظم ایشیا، افریقہ کے حالات بھی دگرگوں تھے ۔ کیا اس سچائی سے بھی مودی انکار کریں گے کہ ہماری آزادی کی تحریک نے دنیا کے کئی ممالک میں حصول آزادی کا جذبہ پیدا کیا ۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مودی کی پارٹی بی جے پی کا کوئی دخل نہیں تھا ۔ اس وقت تو اسکا وجود ہی نہیں تھا   ۔آزادی کی تحریک کے دوران بی جے پی کی ذہنیت رکھنے والے لیڈر تھے لیکن ان میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی ہمت نہیں تھی ۔

کیا مودی اس بات کو جھٹلاسکتے ہیں کہ آر ایس ایس اور جن سنگھ ذہن رکھنے والوں نے سزاؤں سے بچنے کے لئے انگریزوں کے ساتھ خفیہ معاہدہ پر جس کو ’’دبکی نامہ‘‘ کہا جانا چاہئے ،دستخط کئے تھے ۔ یہ سب کچھ ہوا اور آج سینہ تان کر وزیراعظم بیرونی ممالک میں یہ پروپگنڈہ کررہے ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے ملک کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ ان کے ایسا کہنے سے ملک کی عزت و توقیر  متاثر ہورہی ہے ۔ ملک کے بارے میں دوسروں کی رائے بگڑتی جارہی ہے ،لیکن وزیراعظم کو اس کی فکر نہیں کہ ان کی باتوں سے ملک و قوم کا امیج کتنا خراب ہورہا ہے وہ تو بس ’آپ میاں مٹھو‘ بنے ہوئے ہیں۔ ان کی غلط بیانی کی انتہا یہ ہے کہ ، وہ دعوی کرتے ہیں کہ بتاؤ لوگو کیا میری حکومت کے دور میں ایک بھی گھوٹالہ ہوا ۔ کیا کوئی اسکینڈل ہوا ۔ جھوٹ کی بھی حد ہوتی ہے ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کا اسکینڈل کچھ کم بڑا تھا ۔ کیا انھوں نے ایک مطلوبہ ملزم کو لندن سے پرتگال جانے کے لئے حکومت برطانیہ سے خط و کتابت نہیں کی تھی ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اس معاملہ میں رقمی فائدہ بھی انہیں ہوا تھا ان کی بیٹی اور شوہر پر بھی رقمی لین دین کا الزام تھا ۔ اسی طرح وسندھرا راجے چیف منسٹر راجستھان کا بھی آئی پی ایل کے سربراہ مودی کے ساتھ معاملت کا اسکینڈل ہے ۔ اس میں بھی وسندھرا راجے کے بیٹے اور بی جے پی کے رکن پارلیمان رقمی لین دین میں مبینہ طور پر ملوث ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر چوہان کا تو بڑا اسکینڈل ہے ویاپم کی نہ تو وزیراعظم نے تحقیقات کروائی اور نہ ان تینوں اسکینڈلس کی صحیح صورتحال کا پتہ چلا ۔ سابقہ حکومتوں پر کرپشن کا الزام لگانے سے پہلے انھوں نے (وزیراعظم) نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھا ۔ انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ Kettle calls the pot black ۔ کیتلی دوسرے برتن سے کہتی ہے کہ تو بہت کالا ہے جبکہ کیتلی تو زیادہ کالی ہوتی ہے ۔ یہی حال وزیراعظم کا ہے ۔ ان کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اول تو یہ کہ وہ بیرونی دورہ کے وقت کیا کہنا اور کیا نہیں کہنا چاہئے اس سے واقف نہیں ہیں ۔وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اپنی شان میں کہتے ہیں ۔ ایک ملک جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اس کے وزیراعظم کو اس طرح کی الزام تراشی زیب نہیں دیتی۔ وزیراعظم مودی بیرونی دوروں کے موقع پر اردو زبان کے مشہور مزاحیہ کردار ’’میاں خوجی یا مرزا ظاہردار بیگ‘‘ بن جاتے ہیں ۔ آج ہندوستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی اور قومی طاقت ہے  ۔اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اس کو مستقل رکنیت ملنے کے امکانات ہیں ۔ اس لئے نہیں کہ مودی وزیراعظم بن گئے ہیں بلکہ اس لئے کہ اپنی آزادی کے بعد ہر محاذ پر اس نے ترقی کی ۔ فی کس آمدنی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ملک میں متوسط طبقہ کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ان کی تو خرید میں اضافہ ہوا ہے ۔ مودی جی کچھ بڑھا کر تقریباً 3سال قبل امریکی قیادت نے موجودہ دور میں قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی معاشی بحران کے لئے ہندوستان کو محض اس لئے ذمہ دار قرار دیا کہ اس ملک کے متوسط طبقہ کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے ۔

ہندوستان اگر آج مضبوط ہے اسکی معیشت خود کفیل ہے تو یہ محض اس لئے ہے کہ سابقہ حکومتوں نے جن میں زیادہ تر وقت کانگریس ہی حکمران رہی ہے ملک کو ترقی دینے کی کامیاب کوشش کی ۔ اس میں آپ یہاں میاں خوجی بن کر یہ دعوی کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے اور نہ ملک کو جو اپنی غیرت اور خودداری کیلئے ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے ۔ اپنا رہین منت قرار دے سکتے ہیں ۔ آپ کی حکومت کے چند ماہ ہی تو ہوئے ہیں اس عرصہ میں آپ کی حکومت نے کونسا تیر مارا ہے ۔ دوروں کے موقع پر معاہدات کا طے پانا ایک معمول کے مطابق ہونے والا عمل ہے ۔ کوئی معاہدہ ایسا نہیں ہوا جو آپ کے دور حکومت میں جس کو آپ کے نام سے موسوم کیا جائے ، معاہدات حکومتوں اور اقوام کے درمیان ہوتے ہیں ۔ افراد کے مابین نہیں ہوتے ۔ لیڈروں کی ملاقاتوں کے وقت رسمی طور پر ایک دوسرے کی تعریف بھی کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔ آپ کے دور میں عام ہندوستانیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ جبکہ ماضی میں کسی وزیراعظم کے دور میں بھی ایسا منفی احساس پیدا نہیں ہوا تھا ۔ شرمندگی اس لئے بھی ہوتی ہے کہ گجرات کے مسلم کش فسادات کے ذمہ دار مودی صاحب آج ہندوستان کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ آج بھی گجرات فسادات کے مقدمات عدالتوں میں زیر دوراں ہیں ۔ یہ سب اس وقت کی باتیں ہیں جن آپ گجرات کے چیف منسٹر تھے ۔ وزیراعظم بننے کے بعد آپ کے تیور تو اور بگڑ گئے ۔ پہلے صرف مسلمانوں سے بغض تھا اب تو ساری ہندوستانی قوم کو آپ شرمسار کررہے ہیں ۔ یہ دورے کس کام ۔کے ان پر کروڑ ہا روپئے خرچ ہورہے ہیں جو کہ ملک کی ترقیاتی اسکیمات میں استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اب تک جتنے دورے ہوئے ان میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کو ’’ناگزیر‘‘ کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن وزیراعظم ہیں کہ ان کا سلسلہ نہیں روک سکتے ۔ یہ کس کی رقم ہے یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے اور کیوں اس بے رحمی سے روپیہ اڑایا جارہا ہے ۔ ایک علحدہ کمیشن اگر تشکیل دیا جائے تو پتہ چلے گا کہ وزیراعظم کے دورہ پر ابھی تک کتنا خرچ ہوا ہے ۔ (ابتدائی  اعداد تو منظر عام پر آچکے ہیں) لیکن تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہوئیں ۔ عالمی لیڈروں سے ملاقاتوں اور بیرونی دوروں کے لئے وزیراعظم مودی عملی طور پر ملک کے ’’مہان وزیراعظم‘‘ بن گئے ہیں جو باہر جا کر صرف سابقہ حکومتوں اور ملک کے تمام عوام کے تعلق سے انتہائی دل آزار باتیں کرتے ہیں ، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان ایک ترقی پذیر معیشت نہیں  بلکہ پسماندہ ملک ہے ۔

TOPPOPULARRECENT