Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم کی 97 سالہ والدہ بھی نوٹوں کی تبدیلی کیلئے بینک پہونچ گئیں

وزیراعظم کی 97 سالہ والدہ بھی نوٹوں کی تبدیلی کیلئے بینک پہونچ گئیں

’’لائق بیٹے نے اپنی عمر رسیدہ ماں کو قطار میں کھڑا کردیا ‘‘، کانگریس کا تبصرہ
احمدآباد 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب ملک کے کروڑوں عوام نوٹوں کی تبدیلی کے لئے بینکوں پر کئی گھنٹوں تک طویل قطاروں میں ٹھہرنے کے لئے اپنی مجبوری پر برہم ہیں کہ اس دوران خود وزیراعظم نریندر مودی کی والدہ 97 سالہ ہری با بھی گاندھی نگر میں اپنے گاؤں کے ایک بینک پہونچ گئیں اور دیگر شہریوں کی طرح منسوخ شدہ نوٹوں کو نئے نوٹوں سے تبدیل کروائیں۔ ہری با اپنے چند رشتہ داروں کے ساتھ ایک وہیل چیر کے ذریعہ آج صبح موضع رائیسان کے اورینٹل بینک آف کامرس پہونچیں جہاں وہ 4,500 روپئے کے کرنسی نوٹوں کا تبادلہ کروائیں۔ وہ 500 روپئے کے 9 نوٹوں کے ساتھ وہاں پہونچی تھیں اور ایک فارم کی خانہ پُری کروانے کے بعد رقم کی تبدیلی کے لئے درخواست فارم پر اپنے انگوٹھے کا نشان ثبت کیا۔ ہری با نے 2000 روپئے کا نیا نوٹ وہاں ان کے منتظر اخباری نمائندوں کو دکھایا۔ اخباری نمائندوں نے انھیں گھیر لیا اور ردعمل معلوم کرنے کی کوشش کی۔ ہری با گاندھی نگر کے مضافات رائیسان میں نریندر مودی کے چھوٹے بھائی پنکج کے ساتھ رہتی ہیں۔ مودی نے اس سال 17 ستمبر کو اپنی سالگرہ کے موقع پر وہاں پہونچ کر اپنی ماں کا آشیرواد لیا تھا۔ وزیراعظم کی والدہ بالکل سیدھی سادی زندگی گزارتی ہیں اور چند دن قبل انھوں نے آٹو رکشا سے سفر کرتے ہوئے گاندھی نگر کے سرکاری دواخانہ پہونچ کر معمول کا طبی معائنہ کروایا تھا۔ وزیراعظم کی والدہ کی پرانی نوٹوں کی تبدیلی کیلئے قطار میں کھڑے ہوجانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے ترجمان کپل سبل نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ مجھے بہت رنج ہے۔ کوئی بھی لائق بیٹا کبھی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی 97 سالہ عمر رسیدہ والدہ (ایسی صورتحال کا سامنا کرے) جبکہ وہ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ 56 اِنچ کا سینہ رکھتے ہیں۔ کانگریس قائد راشد علوی نے علیحدہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’پتر دھرم‘‘ نہیں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص خود اپنی ماں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا وہ ملک کے عوام کی دیکھ بھال کیسے کرے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT