Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم کے دور ہ کے دو ران جھارکھنڈ میں تشدد اور بند

وزیراعظم کے دور ہ کے دو ران جھارکھنڈ میں تشدد اور بند

JAMSHEDPUR, APR 24 (UNI):- Prime Minister Narendra Modi interacting with the people, at the Panchayati Raj Sammelan marking Panchayati Raj Day and concluding session of Gram Uday se Bharat Uday programme, in Jamshedpur, Jharkhand on Monday. UNI PHOTO-103U

جمشید پور میں پولیس کی چوکسی ، حکومت کی نئی علاقائی پالیسی کے خلاف احتجاج
جمشید پور ۔ /24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ کے دوران جھارکھنڈ بند کے ساتھ تشدد کے واقعات ہوئے ۔ بعض علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں ۔ ریاستی حکومت کی نئی علاقائی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے ایک روزہ بند کی اپیل کی تھی ۔ بند کے مشتبہ حامیوں نے ضلع ہنگھم مشرقی میں ایک بس اور ایک واٹر ٹینکر کو آگ لگادی ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ سے قبل تشدد بھڑک گیا ۔ وزیراعظم جمشید پور میں جے آر ڈی ٹاٹا اسپورٹس کامپلکس میں قومی پنچایت راج دیوس تقریب سے خطاب کے لئے یہاں پہونچے ۔ یہاں سے 20 کیلو میٹر دور موسی بونی بلاک آئس کے قریب کھڑی کی گئی ایک بس کو جس میں دیہی علاقوں سے بی جے پی ورکرس کو لایا گیا تھا آگ لگادی گئی ۔ بند کے مشتبہ حامیوں نے صبح کی اولین ساعتوں میں تشدد برپا کیا ۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اجیت ویمل نے کہا کہ مشتبہ بند حامیوں نے ایک واٹر ٹینکر کو بھی آگ لگائی تاہم ضلع پولیس فورس کو وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ وزیراعظم کے جلسہ کے مقام کے قریب جلتی بس کی آگ کو بجھادیا گیا ہے ۔ بند کے حامیوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں ۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مقام پر پہونچ گئے اور پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

 

خشک سالی تشویشناک، پانی کی بچت اجتماعی ذمہ داری
مانسون کے بہتر ہونے کی توقع ، وزیراعظم مودی کا خطاب
نئی دہلی ۔ /19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے مختلف حصوں میں خشک سالی کی صورتحال کو تشوشیناک قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ پانی کی بچت کے لئے بڑے پیمانہ پر ’’اجتماعی کوشش‘‘ شروع کرنی ہوگی ۔ آئندہ مہینوں میں ایم ایف آر ای جی اے کے تحت پانی کے ذخیرہ کی مہم شروع کی جائے گی ۔ انہوں نے این سی سی جیسی سرکاری نوجوانوں کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلہ میں تعاون کریں ۔ این سی سی ، این ایس ایس ، بھارت اسکاٹس اور گائیڈس ، انڈین ریڈکراس سوسائیٹی اور این وائی کے ایس کے بشمول سرکاری نوجوانوں کی تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان گروپس کے درمیان تعاون عمل اور ساجھے داری کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ پانی کی بچت کے تعلق سے ان کی تقریر اس لحاظ سے اہم ہے کیوں کہ ملک کے مختلف حصوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ مودی نے نوجوانوں کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ پانی کی بچت کے لئے تحریک شروع کریں ۔ وہ نوجوانوں کی تنظیموں کے نمائندوں کی حیثیت سے سماج میں اپنے رول اور کارکردگی کو اجاگر کریں ۔ وزیراعظم نے اس خصوص میں کئی دیگر مشورے بھی دیئے ۔ انہوں نے سوچھتا (صاف ستھرائی) کے مشن کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کے اندر تازہ قومی جذبہ پیدا ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے شروع کردہ مشن اندرا دھنوش کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک بھر میں بچوں کو ٹیکہ لگانے کی مہم سے صحت عام میں بہتری آئے گی ۔ انہوں نے ان تنظیموں کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ سوشیل میڈیا پر بھی سرگرم ہوجائیں اور بڑے پیمانے پر عوام سے اپیل کرتے ہوئے نوجوانوں سے رابطہ قائم رکھیں ۔ وزیراعظم اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں بھی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے پانی کی بچت پر زور دیا۔
اور خشک سالی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ۔ انہوں نے گنگا اور جمنا ندیوں کی صفائی کیلئے جاری کوششوں کا بھی تذکرہ کیا اور توقع ظاہر کی کہ اس صفائی مہم سے کچھ دنوں بعد بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔ انہوں نے پروگرام کے دوران کئی دیگر مسائل کو بھی پیش کیا اور تعلیم کے تعلق سے کہا کہ طلباء کو بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ اسکولوں میں داخلوں کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئیے ۔ اپنی 30 منٹ کی تقریر کے دوران مودی نے پکوان گیاس سبسیڈی کو ترک کردینے کی اپیل کے بہتر ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تک ایک کروڑ خاندانوں نے سبسیڈی کو ترک کردیا ہے ۔ وزیراعظم نے خشک سالی سے نمٹنے اور پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کے بارے میں بتایا کہ حکومت اپنا کام بہتر انداز کرے گی ۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ عوام بھی اپنے طور پر پانی کی بچت کیلئے کوششیں کرتے ہیں ۔ کئی  مواضعات میں اس تعلق سے بیداری مہم بھی شروع کی گئی ہے ۔ بعض مقامات پر پانی کی قدر سب سے زیادہ پائی جاتی ہے یہ ایک حساس مسئلہ ہے لہذا پانی کی بچت پر اولین توجہ دی جانی چاہئیے ۔ انہوں نے موسمی پیش قیاسی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سال مانسون بہتر ہوگا اور بارش 106 فیصد سے 110 فیصد تک ہوگی ۔ اس سال بارش کا موسم عوام کے اندر ایک نئی بیداری پیدا کرے گا اور عوام از خود پانی کی بچت پر توجہ دیں گے ۔ اچھی بارش سے عوام کے اندر اطمینان تو پیدا ہوجائے گا اس کے ساتھ ان کے لئے ایک موقع بھی ملے گا کہ وہ آنے والے دنوں کیلئے پانی کو سنبھال کر رکھیں ۔ پانی کی بچت کیلئے ہر دیہی علاقے میں مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ رکھا جانا چاہئیے ۔
ایک موضع کا پانی اس موضع تک ہی محدود ہونا چاہئیے ۔ اگر ہم بارش کے پانی کو جمع کرنے کو یقینی بنائیں تو پانی کی قلت دور ہوگی ۔ پانی کی بچت صرف اجتماعی کوششوں کے ذریعہ ممکن ہوسکتی ہے ۔ اس وقت ہمیں پانی کی قلت کے سنگین بحران کا سامنا ہے ۔ مانسون سے قبل ہمیں تیاری کرنی ہوگی ۔
پانی کی بچت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے جائے مقام پوربندر میں

TOPPOPULARRECENT