Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / وزیراعظم ہند کی خدمت میں معروضانہ مکتوب

وزیراعظم ہند کی خدمت میں معروضانہ مکتوب

جناب نریندر دامودرداس مودی جی !
آداب !
فیس بک پر آپ کی ایک ویڈیو کلپ سنی ، جس میں آپ نے مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر قلبی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ ’’طلاق ثلاثہ‘‘ پر آپ کی حکومت کے موقف کی وضاحت کی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے اس مسئلہ پر سیاست نہ کرنے کی خواہش کی ۔ مسلم خواتین کی ہمدردی سے متعلق آپ کے جذبات قابل قدر ہیں ، خصوصیت سے ایسے وقت جبکہ ہندوستان کے مسلمان جان و مال ، عزت و آبرو کے تحفظ ، تعلیم و روزگار جیسے بنیادی حقوق سے دانستہ طورپر محروم کئے جارہے ہیں، آپ کا مسلمانوں کے ایک داخلی اور ذیلی مسئلہ پر تشویش کااظہار کرنا لائق تحسین اور ہمت افزاء ہے ۔
یہ عاجز فقہ اسلامی کا ایک ادنیٰ طالبعلم ہے ، اور مسلم کمیونٹی کے عائلی اور گھریلو مسائل کا مختصر سا عملی تجربہ رکھتا ہے ، آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ’’مسئلہ طلاق ثلاثہ‘‘ اسلام کا مکمل نظام طلاق نہیں ہے بلکہ اسلامی نظام طلاق کا ایک حصہ ہے ، جو کامل نظامِ طلاق سے مربوط ہے ، ایک حصہ میں تبدیلی کی جائیگی تو سارے نظامِ طلاق میں خلل ہوگا ۔ اگر واقعی طلاق ثلاثہ کے حکم میں تبدیلی سے مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت مقصود ہے ، تو یہ مقصود حکومت کے اختیار کردہ طریقۂ کار سے قطعاً حاصل ہونے والا نہیں ہے اس لئے کہ شریعت اسلامی میں طلاق دینے کا اختیار شوہر کو حاصل ہے، اگر بیوی شوہر کی جانب سے دی گئی تین طلاق پر عدالت سے رجوع ہو بعد ازاں عدالت سے تین طلاق سے ایک طلاق کا فیصلہ حاصل بھی کرلے تو شوہر اس کو مزید ایک طلاق یا دو طلاق دے سکتا ہے، واضح باد کہ اسلام کا نظریۂ نکاح ہندو تہذیب کی طرح ’’جنم جنم کا ساتھ ‘‘ یا ’’ڈولی آئی ، ڈولا جائیگا‘‘ بالکل نہیں ہے بلکہ وہ عاقد و عاقدہ کے درمیان حسب ارشاد الٰہی ’’وأخذن منکم میثاقاً غلیظا ‘‘ ( سورۃ النساء ۴؍۲۱) ایک دوسرے سے وفاداری ، پیار و محبت ، ایثار و قربانی پر مشتمل ایک مضبوط و پاکیزہ معاہدہ ہے ، جس کے تحت شوہر اور بیوی ، دو تن ایک روح ، دو قالب ایک دل کے مانند مشترکہ مقاصد زندگی کے تحت ، نفع و نقصان سے بالاتر ہوکر ایک نئی زندگی کی شروعات کرتے ہیں ۔

اسلام نے رشتہ نکاح کو حد درجہ استحکام بخشا اور طلاق کو مباح و جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرار دیا ، اس لئے طلاق جیسی مکروہ شئی سے بچنے کیلئے ہرممکنہ تدبیر اختیار کرنے مثلاً صبر و تحمل ، عفو و درگزر ، وعظ و نصیحت ، افہام و تفہیم ، اظہار ناراضگی ، وقتیہ علحدگی ، حسب احوال زجر و تنبیہ کی تلقین کی ۔ جب وہ دونوں باہم اپنے مسائل حل کرنے پر قادر نہ ہوں تو خاندان کے اکابر کو مصالحت و مفاہمت کی ترغیب دی گئی ۔ جب موافقت کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو طلاق کی گنجائش رکھی گئی ،کیونکہ جب مقاصدِ نکاح ہی فوت ہوجائیں تو علحدگی ہی دونوں کے لئے بہتر ہوتی ہے ، تاہم عقد نکاح جس طرح زبانی اقرار سے قائم ہوا تھا اسی طرح زبانی گفتگو سے ٹوٹ جاتا ہے ۔ فرق اس قدر ہے کہ عقد نکاح کے لئے عاقد و عاقدہ کی رضامندی مشروط تھی اور اس کو توڑنا صرف شوہر کے اختیار میں رکھا گیا ، اس کامنشا عورت کے مرتبہ کو گھٹانا نہیں ہے ، بلکہ خاندانی نظام کا استقرار و استحکام پیش نظر ہے ۔ ہر دو کو طلاق کے اختیارات حاصل ہوں تو طلاق کے واقعات کثرت سے واقع ہونے کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں ، جس طرح مغربی ممالک میں عائلی نظام اور خاندانی استحکام کھوکھلا ہوچکا ہے ، قدیم ہندو دھرم میں طلاق کا تصور نہ تھا۔ ہندو ایکٹ کے نفاذ کے ذریعہ ہندو پرسنل لاء میں طلاق اور عقد ثانی کا اختیار دیا گیا پس طلاق کی شرح فیصد ہندو قوم میں مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ مخفی مباد کہ عورت کو بالکل مجبور نہیں چھوڑا گیا ، شوہر سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں علحدگی کے لئے معاوضہ جیسے مہر کی واپسی کے بدل خلع طلب کرنے کا اختیار دیا گیا نیز شوہر بیوی کی خواہش خلع کو قبول نہ کرے تو بیوی کو پولیس سے رجوع ہونے ، ملکی قوانین سے تعاون حاصل کرنے کی اجازت ہے حتی کہ شوہر بیوی کے حقوق ادا نہ کرتا ہو یا بدسلوکی کرتا ہو تو بیوی ملکی قوانین کے ذریعہ شوہر کو حسن سلوک کرنے اور مفوضہ حقوق کو ادا کرنے کا پابند کراسکتی ہے ۔

مزید برآں بعض مخصوص حالات مثلاً شوہر کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو ، یا نان نفقہ ادا نہ کرتا ہو تو مسلمان جج کو یہ حق دیا گیا ہیکہ وہ شوہر کی مرضی حتی کہ اس کی موجودگی کے بغیر نکاح کو ختم کردے۔ علاوہ ازیں طلاق ہی آخری صورت ہو تو شوہر کے لئے حسب ذیل مقررہ طریقہ پر طلاق دینا مسنون قرار دیا گیا ہے کہ وہ بیوی کو پاکی کی حالت میں جس میں وہ اُس سے قربت نہ کیا ہو صرف ایک طلاق دے ، دوسری طلاق نہ دے یہاں تک کہ عورت کی عدت ( حاملہ کے لئے وضع حمل، غیرحاملہ کیلئے تین حیض) مکمل ہوجائے تو دونوں میں رشتہ ختم ہوجاتا ہے ۔ بعد ازاں وہ دونوں زندگی اپنی مرضی سے گزارسکتے ہیں۔ یہی طلاق دینے کا سب سے بہتر طریقہ ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں کو اندرونِ مدت (Separation Period) جذبات کو قابو پانے ، اپنی غلطیوں کو سدھارنے ، سنجیدگی سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور مستقبل کا صحیح فیصلہ کرلینے کا اختیار رہتا ہے ، اور جب شوہر اپنی طلاق کو واپس لے لیتا ہے تو ان دونوں میں نکاح بدستور باقی رہتا ہے اور شوہر کو آئندہ صرف دو طلاق کا حق رہے گا ۔ خدانخواستہ دوبارہ طلاق کی نوبت آئے تو اسی طریقہ پر طلاق دینے کا حکم ہے تاکہ مقررہ وقت میں دوبارہ اپنے فیصلہ پر غور و فکر کرے ، رائے و مشورے حاصل کرنے اور صحیح نتیجہ پر پہنچنے کا موقعہ رہے ۔

طلاق کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو اس کی پاکی کی حالت میں جس میں قربت نہ ہو ایک طلاق دی جائے ، پھر دوسری پاکی کی حالت میں جس میں قربت نہ ہو دوسری طلاق دی جائے گی اور تیسری پاکی کی حالت میں اسی طرح تیسری طلاق دی جائے ، اس کو طلاقِ حسن کہتے ہیں ۔ اس میں بھی تیسری طلاق دینے سے قبل تک رجوع کرنے کا موقعہ رہتا ہے ۔واضح رہے کہ بعثتِ نبویؐ سے قبل تعداد ازدواج کی نہ کوئی حد تھی اور نہ طلاق کا کوئی حساب تھا ، ایک مرد کے تحت چالیس چالیس پچاس پچاس بیویاں ہوتیں ، یہی باعث فخر تھا وہیں طلاق کی کوئی حد نہ تھی بیسیوں مرتبہ طلاق دینے کے بعد ان کو رجوع کرنا عام رواج تھا ۔ یہودی اور عیسائی مردوں کو ان کی مذہبی کتابوں کے مطابق تاحال بلا تحدید ان گنت شادی کرنے کی اجازت ہے ، جب اسلام آیا تو اس نے عورتوں کو باضابطہ قانونی حقوق عطا کئے اور تعدادِ ازدواج کو لامحدود سے گھٹاکر بیک وقت چار تک شادی کرنے کی عدل و انصاف کرسکنے کی شرط پر اجازت دی اور انھیں عدل و انصاف نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو صرف ایک نکاح پر اکتفاء کرنے کا حکم دیا (سورۃ النساء ۴؍۳) اسی طرح طلاق کے سلسلہ میں تمام تر تہذیبی و معاشری غیرمتوازن رسوم و رواج کو یکلخت ختم کیا اور طلاق کی تعداد پر پابندی لگادی اور اس کو تین طلاق تک محدود کردیا ۔ دو طلاق تک رجوع کرنے کا اختیار دیا ۔
سلسلہ مذہبی سپلیمنٹ کے صفحہ (2) پر  …
سلسلہ مذہبی سپلیمنٹ کے صفحہ اول سے …
متذکرہ بالا تفصیلات سے واضح ہے کہ اسلام نے طلاق کے معاملہ میں میاں بیوی بطور خاص شوہر کو غور و فکر کرنے ، نظرثانی کرنے ، اپنی غلطیوں کو سدھارنے کابھرپور موقعہ دیا ۔تیسری طلاق تک نوبت پہنچتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ دونوں کسی صورت میں ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ اس نے اعلان فرمادیا ’’فان طلقھافلا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ‘‘ اگر کسی نے تیسری بار بھی طلاق دیدی تو دونوں میں رشتہ زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا اب وہ دونوں کبھی شادی کے بندھن میں نہیں آسکتے ۔ الا یہ کہ اگر وہ عورت بعد ختمِ عدت کسی دوسرے شخص سے عقد صحیح کرے اور وہ دونوں بحیثیت میاں بیوی ازدواجی تعلقات رکھیں بعد ازاں ان میں نباہ نہ ہوا ہو اور شوہر طلاق دیدے یا بیوی خلع لے لے یا شوہر انتقال کرجائے یا ان میں حاکم اسلام کے ذریعہ فسخ ہوجائے اور اس کی عدت ختم ہوجائے تو وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہوسکتی ہے ۔
یہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کافیصلہ ہے ، متذکرہ آیت کے اختتام پر اعلان کردیا گیا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے حدود ہیں ، اس سے تجاوز کرنے کا کسی کو حق نہیں ، اس میں تبدیلی قانون الٰہی میں تبدیلی ہے ۔ واضح رہے کہ قرآن مجید اور حدیث شریف سے راست استفادہ خواص کے لئے بھی دشوار ہے اس لئے اہلسنت والجماعت نے شرعی قوانین کی تشریح و توضیح کے لئے چار امام حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ، حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ پر اعتماد کیا ہے ۔ یہ چاروں امام باتفاق آراء فیصلہ دے چکے کہ کوئی شخص طلاق کے متذکرہ طریقے کے علاوہ ایک ساتھ تین طلاق دیدے یا ناپاکی کی حالت میں طلاق دے یا پاکی کی حالت میں بیوی سے قربت کے بعد طلاق دے تو ہر صورت میں طلاق واقع ہوجائیگی ، اگرچہ طلاق دینے والا گنہگار ہوگا اس کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے ۔ شیعہ حضرات میں ’’زیدیہ‘‘ ایک فرقہ ہے جو بیک وقت تین طلاق سے ایک طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہے ۔ شیعہ کا ایک دوسرا فرقہ ’’امامیہ‘‘ کے مطابق طلاق بدعت یعنی مسنون طریقے سے ہٹ کر دی گئی طلاق سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔اہلسنت والجماعت کے پاس صدیوں سے اس پر عمل رہا، متعدد احادیث شریفہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تین طلاق کو تین نافذ فرمایا ، صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے۔ چھ صدیوں بعد شیخ ابن تیمیہ نے اہلسنت والجماعت کے متفقہ مسئلہ کی مخالفت کی ، اہلسنت والجماعت کے نزدیک شیخ ابن تیمیہ کا درجہ امام یا مجتہد کا نہیں ، انھوں نے قرآنی آیات کی تشریح و تاویل میں جمہور اہلسنت والجماعت سے اختلاف کیا ، ان کی بعض غلط تعبیرات اُمت میں افتراق و انتشار کا سبب بنی ، حتی کہ ان کے نظریۂ جہاد کی غیرواجبی تعبیر نے اُمت کے ایک طبقہ کو گمراہ کردیا۔ اگر وزیراعظم اس مسئلہ کی یکسوئی میں واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ اسلام کے نظام طلاق میں تبدیلی کا خیال ترک کردیں البتہ جس طرح انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو قوم میں جو پیٹ میں بچی کو ختم کرتا ہے وہ جیل جائیگا اسی طرح اگر کوئی مسلمان شریعت کے مطابق طلاق نہ دیکر فون اُٹھائے اور ایک ساتھ تین طلاق دیدے اس کو بھی جیل میں جانا چاہئے ۔ بلاشبہ وہ سزا کا شرعی مستحق ہے۔  فقط والسلام

TOPPOPULARRECENT