Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وزیر اعظم مودی سے کے سی آر کی ملاقات کے دوران مسلم تحفظات مسئلہ نظر انداز

وزیر اعظم مودی سے کے سی آر کی ملاقات کے دوران مسلم تحفظات مسئلہ نظر انداز

ایس سی طبقہ کی زمرہ بندی کے لیے نمائندگی ، محمد علی شبیر قائد اپوزیشن کونسل کا ردعمل
حیدرآباد۔ 11۔ مئی  ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی وزیراعظم سے ملاقات کے موقع پر مسلم تحفظات کے مسئلہ کو نظرانداز کئے جانے پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی جانب سے وزیراعظم کو ایس سی طبقات کی زمرہ بندی کے بارے میں کی گئی نمائندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کو مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حکومت کی تشکیل کے چار ماہ میں ٹاملناڈو کی طرز پر مسلم تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا

لیکن اب وہ اس مسئلہ کو کسی نہ کسی طرح ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے تحفظات کا وعدہ کیا گیا تھا، اب جبکہ انتخابات کیلئے تین سال باقی ہیں لہذا چیف منسٹر کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عام انتخابات سے عین قبل دوبارہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ حکومت تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں ایس سی طبقات کی جانب سے نئی زمرہ بندی کا مطالبہ کئی برسوں سے کیا جارہا ہے اور چیف منسٹر اس مسئلہ کو وزیراعظم سے رجوع کرتے ہوئے ایس سی طبقات کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے اس بات کی خواہش کی گئی کہ ملک بھر کیلئے نہ سہی کم از کم تلنگانہ میں ایس سی طبقات کی نئی زمرہ بندی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں آنے والے دنوں میں سیاسی اتحاد کا امکان ہے اور دونوں جماعتیں اسی انداز سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت میں چیف منسٹر کی دختر کی شمولیت کا امکان واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے اور دہلی کے سیاسی حلقوں میں اس تعلق سے خبریں عام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر مسلم تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہوتے تو وہ وزیراعظم سے کم از کم اس بات کی خواہش کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں تحفظات مقدمہ کی سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے مخالفت نہ کی جائے ۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کی موثر پیروی میں بھی ٹی آر ایس حکومت سنجیدہ نہیں ہے ۔ مقدمہ کی سماعت کے موقع پر تلنگانہ کے وکلاء کو اکثر غیر حاضر دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ اور گجرات حکومتوں نے بی سی کمیشن کی تشکیل کے بغیر ہی بعض طبقات کو تحفظات کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت بھی اگر چاہتی تو پہلے تحفظات پر عمل آوری کا آغاز کرسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ فوری بی سی کمیشن تشکیل دے اور اس سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے تحفظات کا اعلامیہ جاری کرے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اسمبلی اور کونسل میں اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ کے مسلم تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کرنے کیلئے مرکز پر دباؤ بنایا جائے گا لیکن وزیراعظم سے ملاقات کے دوران مسلم تحفظات کے بجائے درج فہرست اقوام کی زمرہ بندی کے بارے میں شدت سے نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کے سی آر مسلم تحفظات کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف متحدہ طور پر تحریک چلائیں۔ کانگریس پارٹی اس تحریک کا بھرپور ساتھ دے گی۔

TOPPOPULARRECENT