Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وزیر اعظم مودی کو دوبئی سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ

وزیر اعظم مودی کو دوبئی سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ

مندر کی تعمیر کے لئے اراضی کی پیشکش پر ایم اے خان کا ردعمل
حیدرآباد /18 اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبئی سے سبق حاصل کرنے اور بشمول بابری مسجد دیگر مساجد کے دعووں سے دست برداری اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ دوبئی ایک مسلم ملک ہے، اس کے باوجود وہاں کے سربراہوں نے ہندوؤں کو اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے لئے اراضی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جب کہ بی جے پی کے ایجنڈا میں رام مندر شامل ہے اور دیگر مساجد پر ہندوتوا طاقتیں دعویداری پیش کرکے ان کو متنازعہ بنا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دوبئی کے اس فیصلہ کے بعد بی جے پی کو رام مندر کے دعویٰ سے دست بردار ہو جانا چاہئے۔ انھوں نے تہران (ایران) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی مندر موجود ہے۔ بیرونی ممالک میں تمام مذاہب کے احترام کا تاثر دینے والے نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد ٹوپی پہننے سے انکار کردیا تھا اور روایت سے انحراف کرتے ہوئے انھوں نے ماہ رمضان میں مسلمانوں کے لئے افطار پارٹی کا اہتمام نہیں کیا اور نہ ہی صدر جمہوریہ کی افطار پارٹی میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد ہندوتوا طاقتوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ مساجد اور گرجا گھروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، جس کا ثبوت لو جہاد، گھرواپسی، تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش اور یوگا وغیرہ سے بھی ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاریہ سال اقلیتی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، علاوہ ازیں نئی نئی شرائط نافذ کرکے اقلیتی طلبہ کو مرکزی اسکالر شپس سے محروم کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی قائدین کی زبان پر کوئی لگام نہیں ہے، وہ صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، جب کہ وزیر اعظم خاموش رہ کر خاطیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں ہندوستانی قائدین کو تنقید کا نشانہ بناکر نریندر مودی سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT