Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / وزیر اعظم نریندر مودی، غنڈوں کے سرغنہ بن گئے

وزیر اعظم نریندر مودی، غنڈوں کے سرغنہ بن گئے

گوہاٹی میں طلباء اور کسانوں کا احتجاج ۔ مخالفین کو قوم دشمن قرار دینے کی مذمت
گوہاٹی ۔/18فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری اور حالات سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت کے طریقہ کی مذمت میں فنکاروں، اساتذہ، طلباء اور کسانوں نے آج آسام کے دارالحکومت میں احتجاجی مارچ نکالا۔ کرشک مکتی سنگرام سمیتی اور طلباء کی مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ مارچ میں شریک احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ جے این یو میں پولیس کی کارروائی اور دہلی کے کورٹ کامپلکس میں پرتشدد واقعات دراصل آر ایس ایس۔ بی جے پی کے گھناؤنے منصوبہ کا ایک حصہ ہے تاکہ مخالفین پر بھی خوف و دہشت طاری کیا جاسکے۔ صدر کے ایم ایس ایس مسٹر اکھیل گوگوئی نے کہا کہ زندگی کے ہر ایک شعبہ میں آر ایس ایس اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام کو کیا پہننا، کھانا اور دیکھنا چاہیئے اس کے حکم کے تابع ہو جوکہ یکسر فاشسٹ رویہ ہے۔ جبکہ اسٹوڈنٹس لیڈر کہنیا احتجاج اور اظہار خیال کی آزادی کی علامت ہے۔ انہوں نے یہ سوال کیا کہ آسام میں مختلف قبائیلوں بشمول بوڈو کے ساتھ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کیلئے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے جوکہ علحدہ ریاست یا آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں آیا مودی حکومت انہیں ( قبائیل ) کو مخالف قوم قرار دینے کی جرأت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ احتجاجی مارچ پاکستان یا قوم دشمن عناصر کی حمایت میں نہیں بلکہ قومیت کے بارے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی نئی تشریح اور تاویل کے خلاف ہے۔ اس موقع پر سابق پرنسپال کاٹن کالج مسٹر ستیاناتھ لہکر نے کہا کہ طلباء کی آواز کچلنے کیلئے پولیس کی کارروائی اور وکلاء کی غنڈہ گردی منصوبہ بند تھی

کیونکہ نوجوان مودی حکومت کو بیدخل کرنے کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں۔ دہلی کی عدالت کے احاطہ میں کہنیا کمار پر دوبارہ کل حملہ کے بعد سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ صورتحال خطرناک ہوگئی ہے کیونکہ آر ایس ایس۔ بی جے پی کا یہ مقصد ہے کہ کوئی احتجاج کی آواز بلند نہ کریں اور اس طرح کی گھناؤنی کارروائیاں جرمنی کے ہٹلر نے قوم پرستی کے نام پر انجام دی تھیں۔ مسٹر لہکر جوکہ فلمساز اور تھیٹر کی ممتاز شخصیت ہیں کہا کہ ملک میں تفرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے تو طلباء کو متحدہ تحریک کی ضرورت ہے جوکہ حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولا کی خودکشی واقعہ کے بعد شروع ہوگئی ہے۔ اس موقع پر گیت کار اور گلوکار مسٹر لوک ناتھ گو سوامی نے ایک گیت پیش کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں بہت خوش ہوں کیونکہ مودی حکومت نے خود جمہوری طاقتوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ فاشٹسٹ حکمرانی کے خلاف متحدہ جدوجہد شروع کردیں۔اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) آسام یونٹ کے سکریٹری مسٹر نرانگ کھوش ناتھ نے کہا کہ جے این یو طلباء پر ظلم و ستم کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے سابق میں فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، حیدرآباد یونیورسٹی، دیگر تعلیمی اداروں میں اس طرح کی صورتحال درپیش رہی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT