Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی شریک حیات کی فکر کرنے کا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی شریک حیات کی فکر کرنے کا مشورہ

بی سی کمیشن کی تشکیل ڈرامہ ، حکومت کو قیمت چکانی پڑے گی ، خواجہ فخر الدین
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے وزیراعظم نریندر مودی کو پہلے اپنی شریک حیات کے حقوق ادا کرنے کے بعد مسلم خواتین کے حقوق کی فکر کرنے کا مشورہ دیا ۔ بی سی کمیشن کی تشکیل کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی ٹی آر ایس حکومت کو قیمت چکانی پڑے گی ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ اپنے خفیہ ایجنڈے یکساں سیول کوڈ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بی جے پی عملی اقدامات کررہی ہے ۔ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کا سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلف نامہ اور لا کمیشن کا جاری کردہ سوالنامہ منظم سازش کا حصہ ہے ۔جس کو مسلمان ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ شریعت میں مداخلت کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ حق بجانب ہے جس کی سارے مسلمان تائید کرتے ہیں ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی اترپردیش میں کی گئی تقریر میں تین طلاق کو سیاسی مسئلہ نہ بنانے کے تعلق سے دئیے گئے مشورہ کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ اگر خواتین کے حقوق کی وزیراعظم نریندر مودی کو فکر ہے تو وہ پہلے اپنی شریک حیات کے حقوق ادا کریں ۔ اپنی شریک حیات کو قبول نہ کرنے والے وزیراعظم کو مسلم خواتین کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تمام مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین کو بھی شریعت پر مکمل بھروسہ ہے ۔ شریعت میں مداخلت کے خلاف ملک میں مسلمانوں کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج اس کا ثبوت ہے ۔ اپنی شریک حیات سے انصاف نہ کرنے والے نریندر مودی مسلم خواتین کے حقوق پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تشکیل دئیے گئے بی سی کمیشن کو سیاسی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو بی سی کمیشن کا صدر نشین نامزد کرنے کے بجائے سماجی جہد کار کو صدر نشین بنایا گیا ۔ کمیشن کو قانونی اختیارات دینے کے بجائے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کو جو اختیارات ہیں وہ اختیارات سونپتے ہوئے بی سی کمیشن کو سیاسی ادارے میں تبدیل کرتے ہوئے اس کی اہمیت گھٹا دی گئی ہے اور تلنگانہ کی تحریک میں ٹی آر ایس کا ساتھ دینے والوں کو یا دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والوں کو انعام کے طور پر بی سی کمیشن میں نمائندگی دی گئی ہے ۔ سدھیر کمیشن تشکیل دے کر ڈھائی سال ضائع کرنے والے چیف منسٹر نے بی سی کمیشن کی تشکیل کے بعد پھر ایکبار مسلمانوں کو مایوس کیا ہے ۔ جس کی انہیں قیمت چکانی پڑے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT