Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وزیر اعظم کے کل جماعتی اجلاس میں ٹی آر ایس کی نمائندگی

وزیر اعظم کے کل جماعتی اجلاس میں ٹی آر ایس کی نمائندگی

نئی ریاست تلنگانہ کی ضروریات اور ترقی کے لیے امداد کی ضرورت ، جتیندر ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/16فبروری، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلب کردہ کُل جماعتی اجلاس میں ٹی آر ایس کی نمائندگی کی۔ انہوں نے نئی ریاست تلنگانہ کی ضروریات اور ریاست کی ترقی کیلئے درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی امداد کی ضرورت سے اجلاس کو واقف کرایا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جتیندر ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز کے تعاون کی جو درخواست کی تھی اس کے مطابق ہی اجلاس میں انہوں نے تجاویز پیش کیں۔ جتیندر ریڈی نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے مجوزہ بجٹ سیشن کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم نے اجلاس کو بتایا کہ عوامی مفاد سے متعلق بعض اہم بلز کی منظوری ضروری ہے اس کے لئے وہ اپوزیشن کے تعاون کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی اہم مسائل ہوں تو حکومت پارلیمنٹ میں مباحث کیلئے تیار ہے۔ جتیندر ریڈی نے پسماندہ اور خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کیلئے امداد اور تنظیم جدید بل میں تلنگانہ کو دی گئی مراعات سے اجلاس کو واقف کرایا اور مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ وہ ریاست کی ترقی میں دست تعاون دراز کرے۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کو کئی ایک مراعات کا اعلان کیا گیا ہے لیکن مرکزی حکومت نے تاحال اس پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل ہی تلنگانہ سے متعلق مسائل کی یکسوئی کرے۔ جتیندر ریڈی کے مطابق 22فبروری کو دوبارہ کُل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ بعد میں جتیندر ریڈی نے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے مسائل پر بات چیت کی۔ انہوں نے تلنگانہ اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ سے متعلق مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ 18گھنٹے محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے ورنگل لوک سبھا کے ضمنی چناؤ، گریٹر حیدرآباد اور نارائن کھیڑ میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کو حکومت کی کارکردگی پر عوامی اعتماد کا اظہار قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT