Wednesday , July 26 2017
Home / عرب دنیا / وزیر خارجہ سعودی عرب کا قطر کی شکایات پر غور کا اعلان

وزیر خارجہ سعودی عرب کا قطر کی شکایات پر غور کا اعلان

بائیکاٹ جاری رکھنے کے خلاف انسانی حقوق تنظیموں کا سعودی عرب کو انتباہ

ریاض : 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے جمعہ کے دن کہا کہ قطر کی جانب سے شکایات کی جو فہرست روانہ کی گئی ہے اس پر غور کیا جارہا ہے اور جلد ہی اس کا برسر عام اعلان کردیا جائے گا۔ چار عرب ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ 5 جون سے سفارتی تعلقات یہ کہتے ہوئے منقطع کرلئے تھے کہ وہ اسلام پسند عسکریت پسندوں کی اور ایران کی تائید کررہا ہے جبکہ قطر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے فیصلہ کیا ہے کہ قطر کے افراد اور اہم شخصیات کو سیاہ فہرست میں شامل کرلیا جائے۔ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالد الجبیر نے کہا کہ وہ ان کے مطالبات کے بارے میں کوئی یاددہانی نہیں کریں گے۔ قطر کی تمام شکایات پر غور کیا جارہا ہے اور جو بھی مسائل قابل یسکوئی ہوں گے ان کی یکسوئی کردی جائے گی۔ باقی تین ممالک بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر سے بھی ان شکایات کے بارے میں تبادلہ خیال جاری ہے اور قطعی فیصلہ جلد ہی کیا جائے گا۔کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بائیکاٹ جاری رکھنے کے خلاف سعودی زیر قیادت اتحاد کو انتباہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح ان ممالک کے عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے جن کا بائیکاٹ کیا جارہا ہو۔ حال ہی میں یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اپنے ایک صحافتی بیان میں اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارت قطر کا بائیکاٹ کررہے ہیں اس سے قطر کے خاندان متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر کے خلاف اقدامات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طویل مدتی ہیں اور اس بائیکاٹ کا تسلسل جاری رہے گا لیکن اس کے نتیجہ میں کئی قطرے پیدا ہوں گے۔ بحران کے آغاز میں انسانی حقوق کی اس تنظیم نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں شہریوں اور ان کے حقوق پر اس بائیکاٹ سے مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا تھا جن میں خاندانوں کا انتشار، کام، تعلیم، صحت، نقل و حرکت، قیام وغیرہ پر مرتب ہونے والے اثرات شامل تھے۔ چار ممالک کا قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے فیصلہ کی انسانی حقوق تنظیم نے اپنی رپورٹ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ اس سے کام اور مزدوری کے حقوق ہزاروں ملازمین اور ان کے خاندان متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT