Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / وسط مسافتی میزائل کا 2020تک ہندوستان کو حصول

وسط مسافتی میزائل کا 2020تک ہندوستان کو حصول

فوج کی فضائی طاقت میں اضافہ ‘ دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم کا معاہدہ
نئی دہلی ۔ 27اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) برسوں کے انتظار کے بعد ہندوستانی فوج کو آخر کار ایک ترقی یافتہ وسط مسافتی زمین سے فضاء میںوار کرنے والا میزائل سسٹم 2020ء تک دستیاب ہوجائے گا جو بین البراعظمی میزائلس کو مار گرانے کے قابل ہوگا ۔ لڑاکا جٹ طیاروں سے اور تقریباً 70کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ہیلی کاپٹرس پر حملے کرسکے گا ۔ میزائل سسٹم دفاعی تحقیق تنظیم ( ڈی آر ڈی او) کے تعاون اور اسرائیلی ایرواسپیس انڈسٹریز کے تعاون سے تیار کیا جائے گا ۔ یہ دشمن کے بین البراعظمی میزائلس ‘ طیاروں ‘ ہیلی کاپٹرس ‘ ڈرون طیاروں ‘ نگرانکار طیاروں اور آواکس طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھے گا ۔ موجودہ نظام ہندوستانی فضائیہ اور بحریہ میں تعینات کیا جائے گا ۔ ڈی آر ڈی او نے اس سلسلہ میں 17ہزار کروڑ روپئے مالیتی معاہدہ کیاہے ۔ یہ طویل فاصلاتی زمین سے فضاء میں وار کرنے والے ایل آر ایس اے ایم میزائل کی تازہ ترین شکل ہوگی جو بحریہ میں تعینات کی جائے گی ۔ اس کا دائرہ کار 70کلومیٹر تک ہوگا ۔ اس میں 40 وار کرنے والے شعبے ہوں گے اور تقریباً 200میزائلس نصب کئے جاسکیں گے ۔ فوج کے فضائی دفاع کا یہ نظام سدابہار ہوگا ۔ 360 درجہ کے متحرک زمینی تھیٹر کے ذریعہ اس کا دفاعی نظام فضائی دفاع اہم علاقوں میں وسیع تر افراد کا مقابلہ کرنے کیلئے تعینات کیا جائے گا ۔ میزائل سسٹم کا پہلا نمونہ آئندہ تین سال میں تیار ہوجائے گا ۔ فوج حکومت پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ فضائی حملے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے اور موجودہ صیانتی چیلنجس کا سامنا کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی جائے ۔ ماہ مئی میں فوج نے کامیابی کے ساتھ برہموز زمینی حملے کے کریز میزائل کا جزائر انڈومان نکوبار سے تجربہ کیا تھا ۔ ہندوستانی فوج پہلی بار دنیا کی ایسی زمینی فوج بن جائے گی جس نے 2007ء میں برہموز میزائل تعینات کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT