Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وظائف کے نئے نظام میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں

وظائف کے نئے نظام میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں

ایوان میں ارکان اسمبلی کے استفسارات پر وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کا جواب
حیدرآباد۔21ڈسمبر (سیاست نیوز) وظائف کے نئے نظام سے ملازمین میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس سلسلہ میں بعض ملازمین کی تنظیموں نے حکومت سے نمائندگی بھی کی ہے لیکن اس نظام کو ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور میں رائج کیا گیا تھا۔ریاستی وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے ایوان اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں شراکت داری نظام وظائف کو ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے مرکزی حکومت کے فیصلہ کے مطابق عملی جامہ پہنایا تھا لیکن اس میں تبدیلی کا حکومت کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ارکان اسمبلی مسٹر سی ایچ ومشی چند ریڈی ‘ ڈاکٹر جی چنا ریڈی ‘ مسٹر ایس اے سمپت کمار کے علاوہ مسٹر ٹی رام موہن ریڈی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال میں حکومت سے استفسار کیا گیا آیا حکومت کی جانب سے قدیم وظیفہ کے طرز کو اختیار کرنے کے متعلق کوئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس پر مسٹر ای راجندرنے بتایا کہ ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ سوال کرنے والے ارکان اسمبلی نے بتایا کہ ملازمین کے مفادات کے تحفظ کیلئے قدیم طریقہ وظائف کو اختیار کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے شراکت داری نظام وظائف کے آغاز کے باوجود اب تک بھی ملک کی کئی ریاستوں میں اس طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس طریقہ کار کو اختیار کرنے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے اسی لئے ریاست تلنگانہ میں بھی قدیم طریقہ کار کو بحال کیا جانا چاہئے ۔ ریاستی وزیر فینانس نے بتایا کہ موجودہ شراکت داری نظام وظائف سے ملازمین کو کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ انہیں فائدہ ہی ہوگا اسی لئے حکومت کی  جانب سے اس ملازمین کو اسی نظام کو قبول کرنے کی صلاح دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس نظام کی برقراری میں ملازمین کو کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن بعض ملازمین میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT