Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / وعدے کیا تھے اور ہو کیا رہا

وعدے کیا تھے اور ہو کیا رہا

کے این واصف
ہمارے ایک غیر ملکی دوست نے ہمیں ایک اخبار کا تراشہ میل کیا جو ایک ہندوستانی اخبار میں شائع ہوئی رپورٹ تھی ۔ نئی دہلی سے شائع ہونے والے اخبار کی اس خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں غربت اور مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بھیک مانگنے والوں میں 21 فیصد بھکاری پڑھے لکھے ہیں۔ ہتھیاروں کی دوڑ میں پیش پیش رہنے والے ہندو ستان میں غربت و افلاس عروج پر ہے ۔ روزگار نہ ملنے کے باعث لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ہندوستان کے سرکاری اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بتایا گیا کہ ملک بھر میں 3 لاکھ 72 ہزار افراد بھیک مانگتے ہیں جن میں 75 ہزار افراد پڑھے لکھے ہیں جو بھکاریوں کا 21 فیصد بنتا ہے ۔ان پڑھے لکھے بھکاریوں نے 12 ویں کا امتحان پاس کیا ہوا ہے اور تین ہزار سے زائد ایسے بھکاری ہیں جنہوں نے پروفیشنل ڈپلوما ، گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری لی ہوئی ہے ۔ یہ صورتحال ہندوستانی حکومت کی جانب سے ترقی کے دعوؤں کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے۔ یہ رپورٹ 2011 ء کی مردم شماری کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میں متعدد کے پاس ڈگریاں ہونے کے باوجود ملازمتیں حاصل نہ کرپانے پر مجبوراً وہ بھکاری بن گئے ۔ 45 سالہ دنیش خودآبانی نے بتایا کہ اس نے 12 ویں جماعت پاس کی ہوئی ہے، وہ ایک اسپتال میں وارڈ بوائے تھا مگر اسے صرف 100 روپئے یومیہ ملتے تھے جبکہ وہ بھیک مانگ کر 200 روپئے سے زیادہ کمالیتا ہے ۔ بی کام کے تیسرے سال میں فیل ہونے کے بعد بھیک مانگنے والے 51 سالہ سدھیر بالو لال نے بتایا کہ وہ بھیک سے یومیہ 150 روپئے سے زیادہ کمالیتا ہے ۔ گجرات یونیورسٹی سے ماسٹر آف کامرس کی ڈگری لینے ولے 52 سالہ دیشراتھ پرمار تین بچوں کا باپ ہے ، وہ بیروزگار ہے اور ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے مفت کھانے پر جی رہا ہے۔
غیر ملک سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست کے بھیجے ہوئے پوسٹ کو پڑھ کر ہمیں دکھ ضرور ہوا لیکن ہم نے اپنے ردعمل میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنے دوست کو جواب دیا کہ آپ اس رپورٹ سے یہ اندازہ لگائیے کے ہندوستان میں تعلیم کتنی عام ہے ۔اس طرح ہم نے طنز کے وار کو مزاح کی ڈھال سے روک کر صورتحال کو سنبھال لیا لیکن ہمارے دل میں تشویش یا ایک کھٹک ضرور برقرار رہی کہ ہندوستانی عوام نے 2014 ء کے عام انتخابات میں کس تبدیلی کی حمایت کی کیونکر وہ سبز باغ دکھانے والوں کے جال میں آگئے ۔ دراصل تشہیر ایک ایسا فن ہے جو فالتو شئے کی بھی مارکٹ بناسکتا ہے ۔ بازار میں اسے ہاتھوں ہاتھ بکاسکتا ۔ تشہیر کا یہ پرفریب فن  ہی ہندوستانی عوام کو لے ڈوبا اور یہ تھی ’’اب کی بار مودی سرکار‘‘ کے تحت چلائی گئی پبلسٹی مہم جس میں اپنی تشہیری مہم میں بڑے پر اثر انداز میں عوامی مسائل پیش کئے گئے ۔ اس مہم نے ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کے خوش کن نعرہ دے کر عوام کے ذہنوں کو mesmerized کردیا ۔ یہ اشتہار بازی کا کمال تھا جس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار کی کرسی پر بٹھادیا ۔ پھر ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والی بات بھی الیکشن مہم کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی بی جے پی اپنے مخفی ایجنڈے کی عمل آوری میں سرگرم ہوگئی ۔ یعنی تعلیمی نظام کو بدلنا ، برسوں سے پڑھائی جاری ملکی تاریخ کو مسخ کر کے نصاب تعلیم میں شامل کرنا۔ فرقہ پرستی کو ہوا دینا ، نفرتوں کو پروان چڑھانا، ملک میں اقلیتوں کے اطراف گھیرا تنگ کرنا، کمزور عوام اور پچھڑے طبقات کو کچکنا ۔ یہی سب ان کی ترجیحات بن کر سامنے آ ئیں۔ امن و امان کی بہتری ، ملکی ترقی، یکجہتی ، کسانوں کی زندگی کو خوشیوں سے بھرنا، بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانے اور ہر ہندوستان کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرانا، رشوت خوری کا خاتمہ ، خواتین کا تحفظ ، بچوں کی تعلیم ، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا جیسے انتخابی وعدے سب کے سب کسی سرد خانے کی نذر ہوگئے۔ ملک اور قوم کے عظیم تر مفاد سے لاتعلق ، وحدت و ملک کی سالمیت سے بے پرواہ ، ملک کی خوشحالی اور ترقی سے بے فکر جیسے ذہن رکھنے والے جو آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے ہٹ کر کچھ نہیں سوچتے ان افراد کو پارٹی سے لیکر حکومت کے اہم عہدوں پر بٹھادیا گیا ہے اور اب یہ لوگ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے سوا اور کوئی کام نہیں کر رہے ہیں۔ حد تو یہ ہوگئی کہ اب ملک میں لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے والے اداروں بلکہ ایک حد تک عدل وانصاف دلانے والے اداروں کا کام بھی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے حوالے ہوگیا ہے جو فلاں سینا اورفلاں سینا (فوج) کے نام سے اقلیتوں اور دلتوں کے حق میں پولیس اور عدالت بن گئے ہیں۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیکر بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے گرفتاریاں اور برسر موقع سزائیں دی جارہی ہیں۔ اب سوال ٹی وی چینلس پر انصاف کے شاہوں کی طرح بیٹھے اینکرس سے ہے جو سیاستدانوں کو اپنے اسٹوڈیو کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جواب طلب کرتے ہیں،یہ لوگ ان خود ساختہ سیناؤں کے  ذمہ داروں سے سوال کیوں نہیں کرتے ؟کیا ملک کی پولیس اور عدالتوں سے ان کا یقین اٹھ گیا ہے جو اس قسم کی تنظیمیں قائم کر کے ا قلیتوں اور دلتوں پر ظلم کئے جارہے ہیں ۔ یہی سوال بی جے پی کی حریف سیاسی جماعتوں سے بھی کہ وہ برسر اقتدار جماعت جو ہر محاذ پر عملاً ناکام ہوگئی ہے اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں سے ملک کو خانہ جنگی کی صورتحال کی طرف لے جارہی ہیں سے خصوصاً کانگریس پا رٹی جس نے 2014 ء کے انتخابات میں اپنا اقتدار کھویا ملک دشمنی عناصر کا گریبان کیوں نہیں پکڑتے۔ دادری جیسے واقعات پر صدائے احتجاج کیوں نہیں کرتے ۔ اقلیتوں اور دلتوں پرظلم ڈھانے والے ہاتھوں کو کیوں نہیں پکڑتے۔ اگر کانگریس کو صرف ا پنے ووٹ بینک کی فکر ہے تو کیا ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کی طاقت آپ کیلئے کافی نہیں ہے ۔
اپوزیشن خاموش ہے اور برسر اقتدار جماعت جو چاہے کر رہی ہے اور جیسے چاہے بیانات دے رہی ہے ۔ بی جے پی ایم پیز اور دیگر ذمہدار گندی اور غیر پارلیمانی زبان میں ملک بھر میں بیانات دیتے پھر رہے ہیں ۔حیدرآباد میں بیٹھا بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ جو زہر افشانی کو اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے، نے دو روز قبل ایک بیان ریکارڈ کر کے Youtube پر جاری کیا جس میں اس نے یو پی اور گجرات میں مسلمانوں اور دلتوں پر ہوئے ظلم کو حق بجانب اور درست گردانتے ہوئے گاؤ رکھشا سمیتی کے کارکنوں کو مبارکباد دی۔ اس پر قانون کے محافظوں اور اپوزیشن دونوں ہی کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا۔

پچھلے عام انتخابات میں ٹی وی چینلز پر جو مختلف سماجی اور معاشی موضوعات پرچھوٹے چھوٹے اشتہار دکھائے جاتے تھے اس کے آخر میں بی جے پی سرکار نہیں بلکہ ہمیشہ ’’اب کی بار مودی سرکار‘‘ کہا جاتا تھا ۔ انتخابات ہوئے اور بھرپور اکثریت کے ساتھ مودی سرکار بنی اور واقعی اب یہ بی جے پی سرکار نہیں بلکہ صرف اور صرف ’’مودی سرکار‘‘ ہے اور نریندر مودی اپنے آپ کو آر ایس ایس کا ایک کارکن بتاتے ہیں۔ یعنی سرکار ایک آر ایس ایس کے کارکن کی سرکار ہے جہاں صرف اور صرف مودی کا حکم چلتا ہے ۔ سنتری سے منتری تک کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنی منصب کے دائرہ کار میں خود سے کوئی فیصلہ لے۔ گو کہ ملک میں ایک پارلیمنٹ ہے اور ملک کا دستور جمہوری ہے ۔ جہاں فیصلے اجتماعی ہونے چاہئیں لیکن یہاں اب مودی کے آگے کسی کی کوئی اہمیت نہیں۔ مودی سرکار نے اپنی حکومت کے دو سال مکمل کئے ۔ اس عرصہ میں عوام یا ملک کو کچھ حاصل ہوا ایسا نظر نہیں آتا۔ اب تو بی جے پی صدر امیت شاہ نے یہ بھی کہہ دیا کہ اچھے دن 25 سال بعد آئیں گے ۔ مگر پھر بھی حکومت کے دو سال کی تکمیل پر کامیابی کے جشن منائے گئے ۔ حکومت نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے جرائد میں جو اشتہارات جاری کئے اس پر 35 کروڑ خرچ ہوئے ۔ کہتے ہیں سب سے بڑا جھوٹ وہ ہے جو اپنے آپ سے بولا جائے اور اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کایہ کام برسر اقتدار پارٹی کر رہی ہے اور عوام کواسے تسلیم کرنے کو بھی کہہ رہی ہے اور اپوزیشن ہے کہ چپ سادے بیٹھی ہے ۔ صرف نوجوان اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار اور شاید ان کے کچھ چھوٹے قائدین اپنے جلسوں اور بیانات میں یہ باتیں کہتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک کی تمام حریف جماعتیں ایک ہوکر حکومت کو اس کے انتخابی اشتہارات اور اپنی تقاریر میں کئے گئے وعدے یاد دلاتے۔ حکومت کے خلاف ایک طاقتور مہم تیار کرتے اور پوچھتے کہ تمہارے وعدے کیا تھے اور ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟
[email protected]

TOPPOPULARRECENT