Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / وقار احمد کے دو ساتھی کانسٹبل قتل مقدمہ میں باعزت بری

وقار احمد کے دو ساتھی کانسٹبل قتل مقدمہ میں باعزت بری

ایس آئی ٹی کو دوسری مرتبہ بھی مایوسی، آلیر فرضی انکاؤنٹر کے بارے میں شبہات کو تقویت
حیدرآباد /31 مئی ( سیاست نیوز ) حیدرآباد پولیس کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی ) کو آج ایک اور مرتبہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت نے وقار احمد کے دو ساتھیوںکو پولیس کانسٹیبل کو قتل کرنے کے کیس میںباعزت بری کردیا ۔ یہ دوسرا کیس ہے کہ جس میں تحریک غبلہ اسلام سے وابستہ ہونے کے الزام میں گرفتار نوجوانوں کی برأت ہوئی ہے ۔ مئی سال 2010 کو اے پی ایس پی سے وابستہ کانسٹیبل یو رمیش کو نامعلوم افراد نے حسینی علم والگا ہوٹل کے روبرو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا جس کے نتیجہ میں ایس آئی ٹی نے ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے جولائی 2010 کو وقار احمد اور اس کے ساتھیوں سید امجد علی عرف سلیمان ، ڈاکٹر حنیف ، ریاض خان ، ذاکر ، محمد عبدالسعید اور دیگر کو تحریک غلبہ اسلام تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔ پولیس نے عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں یہ دعوی کیا تھا کہ وقار احمد اور اس کے ساتھیوں نے 18 مئی سال 2007 کو مکہ مسجد بم دھماکے کے بعد مصلیوں پر کی گئی فائرنگ کا انتقام لینے کی غرض سے بم دھماکہ کی برسی کے موقع پر پولیس ملازمین کو نشانہ بنایا تھا ۔ 7 ویں اڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر کانسٹیبل کے قتل کی سماعت کے دوران 7 اپریل سال 2015 کو وقار احمد اور اس کے چار ساتھیوں کو ضلع نلگنڈہ کے آلیر علاقہ میں فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ اس انکاؤنٹر کے بعد مہلوک نوجوانوں کے والدین نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ پولیس کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے اور کیس میں برأت ہونے کے پیش نظر ان کا فرضی انکاونٹر کردیا گیا ۔ ایس آئی ٹی نے انکاونٹر میں ہلاک ہونے والے پانچ ملزمین کے ناموں کوحذف کردیا تھا جبکہ وقار کے دو ساتھیوں ریاض خان اور محمد عبدالسعید پر مقدمہ چلایا گیا ۔ استغاثہ نے 31 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا اور ان کے بیانات قلمبند کئے گئے تھے ۔ پولیس کی ہر ممکن کوششوں کے باوجود بھی نوجوانوں کے خلاف عائد کئے گئے الزامات ثابت نہ ہوسکے جس کے نتیجہ میں انہیں باعزت بری کردیا گیا ۔ وقار احمد کے دو ساتھیوں کے مقدمے کی پیروی نامپلی کریمنل کورٹ کے سینئیر ایڈوکیٹ محمد مظفر اللہ خان شفاعت اور محمد آصف علی نے کی تھی ۔ واضح رہے کہ ستمبر سال 2016 میں بھی دوسرے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے وقار احمد کے مذکورہ دو ساتھیوں کو ہوم گارڈ کے بالاسوامی کو قتل کرنے کے الزام میں باعزت بری کردیا تھا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT