Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / وقت آگیا ہے کہ مغرب ’’عالم اِسلام‘‘ پر غلبہ حاصل کرے

وقت آگیا ہے کہ مغرب ’’عالم اِسلام‘‘ پر غلبہ حاصل کرے

آسٹریلیا کے معزول وزیراعظم ٹونی ایباٹ بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر ، مخالف اسلام ریمارکس کی شدید مذمت
سڈنی۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے معزول سابق وزیراعظم ٹونی ایباٹ نے بھی کم و بیش امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تمام تہذیبیں اور ثقافتیں یکساں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مغرب کو اسلام پر اپنی برتری ثابت کردینا چاہئے۔ ٹونی ایباٹ کو لبرل پارٹی کی بغاوت کے دوران ستمبر میں اقتدار سے بیدخل کردیا گیا تھا تاہم انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو اسلام پر غلبہ حاصل کرلینا چاہئے۔ ایک ایسا مذہب جو خدا کے نام پر قتل و غارت گری کی تعلیم دیتا ہے۔ ٹونی ایباٹ کو ایک کٹر کیتھولک تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آسٹریلیائی عوام سے کہا کہ انہیں اپنے اقدار پر معذرت خواہی کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ ’’سڈنی ڈیلی ٹیلیگراف‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام خود داخلی انتشار کا شکار ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے زہر افشانی میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام (نعوذ باللہ) ایک ایسا مذہب ہے جس کے پاس اختلافات کے لئے خود وضع کردہ کوئی قوانین نہیں ہیں اور نہ ہی انسان کی نجات کیلئے کوئی مشعل راہ۔

اسلام بین المذاہب یا دنیا کے مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والوں کو بھی نہیں مانتا۔ مذہب اسلام میں صرف اسلام کو ہی دنیا کا پہلا اور آخری مذہب تصور کیا جاتا ہے، البتہ یہ خوش بختی کی بات ہے کہ دنیا میں ایسے مسلمان قائدین کی کمی نہیں ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے ’’قتل کردو یا قتل ہوجاؤ‘‘ کے نظریہ سے قطع نظر بدلتے وقت کے ساتھ اسلام کو عصری بنانے پر زور دیتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ٹونی ایباٹ نے سیاست میں داخلے سے قبل مختصر مدت کے لئے پادری کی حیثیت سے تربیت بھی حاصل کی تھی اور کسی زمانے میں ان کو ’’پاگل راہب‘‘ کا لقب بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے آسٹریلیائی عوام سے ایک بار پھر یاد دہانی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اقدار، تہذیب اور روایتوں پر نادم ہونے یا معذرت خواہ ہونے کی ضرورت نہیں جس کی وجہ سے آج ہمارا ملک خوش حال، آزاد اور دیانت دار ہے۔ ٹونی ایباٹ کے بیان نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کی طرح ایک تنازعہ پیدا کردیا ہے اور دنیا کے مختلف سیاسی گوشوں سے اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ لیبر اپوزیشن قائد بل شارٹین نے ٹونیایباٹ کے ریمارکس کو انتہائی نقصان دہ بتایا۔ اشتعال انگیز زبان کے استعمال سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور ملک میں آسٹریلیائی شہریوں کی حفاظت کے لئے سکیورٹی ایجنسیاں جو کوششیں کررہی ہیں، وہ ضائع ہوجائیں گی۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ اگر ردعمل پرتشدد ہوا تو پھر عمل کیا تھا۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT