Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

اترپردیش میں مودی ٹرمپ کارڈ
پنجاب نے دیا کانگریس کو آکسیجن

رشیدالدین
پانچ ریاستوں کے انتخابات جو بی جے پی اور نریندر مودی کیلئے کسی سیمی فائنل سے کم نہیں تھے، تمام سیاسی پنڈتوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نے بی جے پی کی لڑکھڑاتی اننگز کو سنبھالا اور سیاسی کھیل کی پچ پر ڈٹے رہے۔ اپوزیشن کے نوجوان بولرس بھی اس جوڑی کو توڑنے میں ناکام ہوگئے۔ آخر کار چناوی نتائج بی جے پی کے حق میں رہے اور میان آف دی میچ کا اعزاز نریندر مودی کے حق میں گیا۔ مودی اور امیت شاہ نے جس طرح انتخابی مہم کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی تھی ، اس پر داخلی طور پر نکتہ چینی بھی کی گئی لیکن اس جوڑی نے پارٹی کے کئی تجربہ کار اور نوجوان قائدین کو نظرانداز کرتے ہوئے جس انداز میں کامیابی دلائی ، اس سے سنگھ پریوار اور پارٹی دونوں میں ان کا مقام بلند ہوگیا۔ اترپردیش میں اقتدار میں واپسی کا خواب تو پورا ہوا ، ساتھ میں اتراکھنڈ اور منی پور میں کانگریس کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ۔ گوا میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوگئی لیکن اتراکھنڈ میں اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ پنجاب میں شکست بی جے پی کی نہیں بلکہ شرومنی اکالی دل کی ہوئی ہے ۔ اترپردیش کی اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ دہلی کے اقتدار کا راستہ جس ریاست سے ہوکر گزرتا ہے ، وزیراعظم اسی ریاست سے لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 2019 ء میں دوبارہ اقتدار پر واپسی کیلئے اسی راستہ کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ گجرات کے اپنے ساتھی اور وزیر باتدبیر امیت شاہ کو بھی سیاسی بازیگری کے میدان میں اتارا گیا ۔ خاص بات یہ رہی کہ چیف منسٹر کے چہرے کے بغیر بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ اکھلیش یادو اور مایاوتی چیف منسٹر کے مضبوط دعویدار تھے۔  2014 لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش میں بی جے پی نے 80 میں 72 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 3 سال بعد بھی اترپردیش میں مودی لہر برقرار ہے اور 4 ریاستوں میں بہتر مظاہرہ کا کریڈٹ نریندر مودی کے سر جاتا ہے ۔ مودی نے پارٹی کی کامیابی کیلئے طرح طرح کے حربوں کا استعمال کیا اور اس کا اثر مذہب کی بنیاد پر ووٹ کی تقسیم پر کس حد تک پڑا ، یہ علحدہ بحث کا موضوع ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مودی کی شکل میں بی جے پی کا ٹرمپ کارڈ چل گیا۔ ایسے وقت جبکہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں گجرات ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں انتخابات قریب ہیں، پانچ ریاستوں کے نتائج نے بی جے پی کیڈر کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے ۔ انتخابی نتائج سے واضح ہوگیا کہ رائے دہندوں کے مسائل ، ترجیحات اور پسند، ناپسند تبدیل ہوچکی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور مبصرین بھی عوام کے ذہن کو پڑھنے میں ناکام ہوگئے۔ نوٹ بندی اور بینک کی قطاروں میں ہوئی اموات کو اپوزیشن نے خوب اچھالا لیکن ملک کے ہر شہری پر اثر انداز ہونے والے  مسئلہ  کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے نوٹ بندی کے فیصلہ کی عوام نے تائید کی ہے۔ بی جے پی خود بھی کس فیصلہ کے امکانی اثرات کے بارے میں اندیشوں کا شکار تھی لیکن مودی کی لفاظی اور الفاظ کی جادوگری نے جیسے اس تکلیف کو بھلادیا ہو۔

اترپردیش میں سماج وادی پریوار کے جھگڑے کا اثر نتائج پر دیکھا گیا ۔ عوام نے کرسی اور اقتدار کے لئے باپ ، بیٹے اور چچا میں رسہ کشی کی سزا دی ہے۔ جس طرح سیاسی جماعتوں اور قائدین میں اقدار، اصول اور ضوابط باقی نہیں رہے، کچھ یہی حال رائے دہندوں کا ہوچکا ہے ۔ دیگر ریاستوں میں کمزور مظاہرہ کے باوجود پنجاب میں کانگریس کی کامیابی حوصلہ افزاء ہے۔ پہلی مرتبہ مقابلہ کرتے ہوئے عام آدمی کے  مظاہرہ کو متاثرکن کہا جائے گا۔ شرومنی اکالی دل کے 10 سالہ اقتدار سے عوام کی ناراضگی کا سیلاب بی جے پی کو بھی بہا لے گیا۔ گوا  اور پنجاب میں شکست کے باوجود اتراکھنڈ اور اترپردیش میں کامیابی اہمیت رکھتی ہے اور پنجاب میں شکست کا کوئی خاص غم نہیں ہوگا۔ تمام ریاستوں کی مہم میں نریندر مودی بی جے پی واحد چہرہ تھے اور انہوں نے پارٹی کے کئی اسٹار کیمپینرس کو گھر میں بٹھاکر یہ پیام دیا کہ عمر کے اس حصہ میں بھی وہ سیاسی ہیرو ہیں۔ نوٹ بندی جیسے سنگین اور حساس مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن مودی نے یہ کر دکھایا۔ انتخابی مرحلہ کے درمیانی حصہ میں مودی کے تیور بدل گئے اور انہوں نے رائے دہندوں سے معلق اسمبلی کے حق میں رائے نہ دینے کی اپیل کی۔ اکھلیش یادو خاندانی جھگڑے کے نقصانات کو شائد بھانپ چکے تھے ، لہذا انہوں نے کانگریس کے ہاتھ کا سہارا لیا لیکن یہ ہاتھ ان کی سیکل کی رفتار میں اضافہ کرنے سے قاصر رہا۔ کانگریس پہلے ہی اترپردیش میں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے ، ایسے میں سماج وادی کا ساتھ  اس کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کیلئے بہار کی طرز پر عظیم تر اتحاد کی کوشش کی جاسکتی تھی لیکن یہاں کی نام نہاد سیکولر جماعتوں کو کرسی عزیز تھی۔ لالو پرساد نے بہار میں بی جے پی کے خواب کو بکھیرتے ہوئے حقیقی سیکولرازم کا ثبوت دیا تھا ۔ ایسے وقت جبکہ جارحانہ فرقہ پرست ذہنیت کے ہاتھوں بی جے پی کی ڈور آچکی ہے ۔ 2019 ء میں اگر مقابلہ کرنا ہو تو ابھی سے سیکولر جماعتوں کو اتحاد کے امکانات تلاش کرنے ہوں گے ورنہ یہ منفی اور نفرت پر مبنی رجحان مذہبی رواداری ، ایکتا اور سالمیت کیلئے خطرہ بن سکتا ہے ۔ بی جے پی کو اسمبلی چناؤ میں کامیابی اس لئے بھی ضروری تھی کیونکہ صدر جمہوریہ کا انتخاب قریب ہے۔ اسمبلیوں میں اکثریت نہ  ہو تو اپوزیشن اپنا امیدوار کھڑا کرسکتی ہے۔ راجیہ سبھا میں اکثریت کیلئے یہ کامیابی اہم رول ادا کرے گی۔ راجیہ سبھا میں بلز کی منطوری میں حکومت کو اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا ہے اور اسمبلی کی کامیابی سے راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوسکتی ہے ۔

اترپردیش میں بی جے پی کیلئے کامیابی آسان نہیں تھی۔ انتخابی مہم کے ابتدائی تین مرحلوں تک بھی سماج وادی پارٹی کا پلڑا بھاری تھا لیکن امکانی شکست کو محسوس کرتے ہوئے بی جے پی اپنے روایتی ایجنڈہ پر واپس آگئی اور انتخابی مہم کو نفرت پر مبنی بنانے کا آغاز خود وزیراعظم نے کیا۔ سابق میں اٹل بہاری واجپائی کی وزارت عظمی کے دور میں بھی اسمبلی انتخابات ہوئے لیکن واجپائی نے مہم کی سطح کو اس حد تک نہیں گرایا جوکہ نریندر مودی نے کیا ہے ۔ مودی اپنی تقاریر اور جملوں سے وزیراعظم نہیں بلکہ وارڈ سطح کے لیڈر دکھائی دے رہے تھے ۔ مودی نے نفرت کے پرچارکوں کے بریگیڈ کو میدان میں اتار دیا ۔ پھر کیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں دوڑ شروع ہوگئی۔ مودی نے قبرستان ، شمشان ، عید ، دیوالی ، رمضان اور ہولی جیسے جملوں سے مذہب کی بنیاد پر عوام کو بانٹنے کی شروعات کی تو  ان کے شاگرد کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ شاگردوں نے تو مودی کو پیچھے چھوڑ دیا اور مسلم میتوں کو جلانے اور برقعہ پر پابندی جیسے بیانات سے ماحول کو آلودہ کردیا ۔ صرف زبانی زہر کافی نظر نہیں آیا تو آخری مرحلہ کے پولنگ سے عین قبل لکھنو میں اسلامک اسٹیٹ کے مبینہ دہشت گرد کے انکاؤنٹر کا ’’ڈرامہ‘‘کیا گیا۔ ہم اس لئے ڈرامہ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ انکاؤنٹر اور مہلوک نوجوان پر الزامات کے بارے میں مختلف شبہات کا اظہار ہورہا ہے ۔ پولیس نے داعش سے روابط کی تردید کی۔ ایک شخص پر قابو پانے 12 گھنٹے کی کارروائی از خود کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ جب کبھی بی جے پی کو سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے تو دہشت گردی اس کا پسندیدہ موضوع ہے۔ سوال یہ ہے کہ رائے دہی سے قبل ہی اس مبینہ دہشت گرد نے سر کیوں اٹھایا؟ اگر واقعی دہشت گرد ہے تو اس نے اب تک کتنی کارروائیاں انجام دی ہیں؟ دہشت گردی کی آڑ میں ملک کے دیگر علاقوں سے کئی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔  آخری مرحلہ کی رائے دہی کو بی جے پی کے حق میں موڑنے اور مذہبی اساس پر تقسیم کیلئے الیکٹرانک میڈیا اور مودی نواز میڈیا نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ چیانلس کے اینکرس مسلم نوجوانوں کا نام لیکر دہشت گرد کہہ رہے تھے جبکہ ازروئے قانون الزامات ثابت ہونے تک کوئی بھی شخص ملزم ہوتا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان بھی ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوئے مسلم نوجوانوں کے داعش سے تعلقات کی تصدیق کی۔

الیکٹرانک میڈیا کے اینکرس کی زبانیں اس وقت کیوں گنگ تھیں جب بھوپال میں پاکستانی انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو ملک کے دفاعی راز فروخت کرنے والے بی جے پی کارکن گرفتار کئے گئے۔ ان کا نام کسی اینکر کی زبان پر  نہیں تھا اور  غیر اہم طریقے سے خبر کو پیش کیا گیا۔ شیوراج سنگھ چوہان اُس وقت ٹی وی پر نہیں آئے کیونکہ اصل ملزم کی ان کے ساتھ تصاویر ہیں اور وہ بی جے پی آئی ٹی سیل سے وابستہ رہ چکا ہے ۔ بات جب مسلمان کی آتی ہے تو سارے ایک ہوجاتے ہیں۔ ہمارا مقصد دہشت گرد سرگرمیوں کی تائید نہیں بلکہ مختلف گوشوں سے اٹھنے والے شبہات کو پیش کرنا ہے ۔ شیوراج سنگھ چوہان کی ریاست میں حال ہی میں مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کا ایک مسئلہ ابھی تک تازہ ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی شبہات ظاہر کئے ہیں۔ الغرض قبرستان سے انکاؤنٹر تک بی جے پی نے اپنے روایتی ووٹ بینک کو متحرک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد مودی امریکی صدر ٹرمپ کی طرح بے قابو ہیں اور انڈین ٹرمپ آنے والے دنوں میں کئی سخت گیر فیصلے کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ رام مندر ، یکساں سیول کوڈ اور شریعت میں مداخلت جیسے مسائل کو ہوا دی جائے۔ انتخابی نتائج پر جگجیت سنگھ کی غزل کا یہ شعر یاد آگیا  ؎
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے

TOPPOPULARRECENT