Monday , August 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / وقت پر امتحانات اور داخلوں میں تاخیر سے مشکلات

وقت پر امتحانات اور داخلوں میں تاخیر سے مشکلات

کریم نگر 4 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حکومت کا صحیح وقت پر امتحانات منعقد نہ کرکے کونسلنگ میں تاخیر جبکہ تعلیمی سال ختم ہونے کو ہے داخلہ دیا جانا ڈپلوما اِن ایجوکیشن (ڈی ایڈ) میں داخلہ لینے والے سبھی امیدواروں میں پریشانی بے چینی پیدا ہورہی ہے۔ جون میں شروع ہونے والی کلاسیس مارچ میں شروع کئے جانے کی وجہ سے ایک تعلیمی سال بے کار ہوگا۔ اس تعلق سے ڈی ایڈ امیدوار اُلجھن کا شکار ہورہے ہیں۔ 2017-2015 ء تعلیمی سال کے لئے 2015 ء میں انٹرنس منعقد کیا گیا اور داخلے اب شروع کئے جارہے ہیں جبکہ 2018 ء نصاب پورا ہورہا ہے۔ 2016-14 تعلیمی سال میں کونسلنگ تاخیر سے ہوئی تھی لیکن 2015 ء جنوری 27 کو کلاسیس کا آغاز ہوا تھا۔ اب ایک اور ماہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ ایک طرف امیدوار دوسری طرف لکچررس کا کہنا ہے کہ حکومت ہمیشہ کب انٹرنس مقرر کرے گی اور کب کونسلنگ کرے گی اور داخلہ کب ہوگا کوئی نہیں جانتا کہ ایک کیا کریں کیا نہ کریں۔ سوچ بچار تجسس کا معاملہ ہے۔ اس کی وجہ سے ایک سال ضائع نہ طلبہ ڈگری میں شرکت کررہے ہیں۔ 11 سے ڈگری سالانہ امتحانات ہیں۔ ایسے میں ڈی ایڈ سرٹیفکٹ کی جانچ کی جارہی ہے۔ اس لئے ٹی سی ضروری ہے۔ ڈگری کالج سے ٹی سی لی جارہی ہے۔ ٹی سی میں ڈس کنٹینیو (ادھوری) تحریر کئے جانے سے ادھر ڈگری پہلے سال کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ ادھر ڈی ایڈ میں داخلہ نہیں ہوسکتا، حالت پیدا ہورہی ہے، امیدوار طلباء پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ اسکالرشپ کے لئے درخواست گذاروں کو تاحال اسکالرشپ نہیں مل پانے سے پرنسپل لانگ میمو جاری نہیں کررہے ہیں۔ شاٹ میمو کی کونسلنگ میں منظوری نہیں ہے۔ اسی وجہ سے طلبہ پریشان ہیں کہ کیا کریں کیا نہ کریں۔ گو مگو حالت میں ہیں۔ بعض فیس داخل کرکے میمو حاصل کرلے رہے ہیں۔ حکومت ڈی ایڈ امیدواروں کے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہے۔ امیدواروں کے والدین کافی برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ حکومت کی تساہلی سے تعلیمی سال کے ساتھ مالی نقصان ہورہا ہے۔ طلباء کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ وقت پر ڈی ایڈ داخلہ امتحان رکھا جائے اور کلاسیس کا آغاز کرے۔ والدین کا مطالبہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT