Wednesday , August 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / وقت کو چاہئے اِک اور حسین؄

وقت کو چاہئے اِک اور حسین؄

ابوزاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اگر تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہئے کہ اپنی قوت سے اس کا دفاع کرے۔ اگر قوت و طاقت نہیں ہے تو وعظ و نصیحت سے لوگوں کو اس برائے سے بچنے کی تلقین کرے۔ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو کم از کم اس برائی کو اپنے دل میں غلط سمجھے‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان) اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے شارح مسلم حضرت علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ’’اگر حاکمِ وقت کے ظلم سے رعایا عاجز آجائے تو یہ نیک لوگوں پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس ظالم کو ظلم سے باز رکھنے کی حتی الوسع کوشش کریں۔ اگر پھر بھی وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو عوام الناس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کریں اور اس سے جہاد کریں‘‘۔
پاسبانِ حریت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ حدیث شریف کی عملی تشریح کربلا میں پیش فرمائی۔ عموماً حق کی آواز کو دبانے کے لئے باطل کے شعور ساکت کے سمندر میں تموج آتا ہے، لیکن واقعۂ کربلا اس سے مختلف ہے۔ اس معرکہ میں دونوں ہی طرف مسلمان تھے، فرق صرف اتنا تھا کہ ایک طرف خالص ایمان تھا، جس کی تعلیم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، جب کہ دوسری طرف ایسے مسلمان تھے جن کا مطمح نظر حصول آسائش کے لئے زندگی گزارنا، ظلم و ستم کرنا، رقص و سرود کی محفلیں سجانا، عیاشی و مفاد پرستی سے کام لینا، مصلحت پسندی اور دنیا طلبی تھا۔ دین اسلام کو باطل نظریات سے پاک و محفوظ رکھنے کے لئے حلاوتِ ایمانی سے سرشار چند نفوس قدسیہ پر مشتمل گروہ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں تمام آلاتِ حرب سے لیس گروہِ کثیر سے برسر پیکار ہونے اور جرأت مندانہ اقدام کا فیصلہ کیا، تاکہ حدودِ اسلامی کو پامالی سے بچایا جا سکے۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظالم یزید اور اس کے باطل نظریات اور انانیت کے دہکتے ہوئے انگاروں کو الفت و محبت، اطاعت و فرماں برداری اور خلوص و للہیت کے باغات میں تبدیل کرنے کے لئے اپنے جاں نثاروں اور جاں بازوں کے ساتھ یزید کی مسلح افواج کے ستم کیشوں اور جفا کاریوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور احقاق حق و ابطال باطل کا ایسا روشن باب رقم فرمایا کہ اس نیر اعظم کی ذات والا صفات کی تابانیوں، بانکپن اور نکھار کا بلالحاظ مذہب و قوم ہر کوئی معترف ہو گیا اور واقعۂ کربلا تا قیام قیامت ساری انسانیت کے لئے ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘ جیسا زریں اصول اور ضابطہ بن گیا۔
حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ’’آپ کو اہل بیت میں سب سے محبوب ترین کون ہے؟‘‘۔ آپ نے فرمایا ’’حسن اور حسین‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کرتے کہ ’’میرے بیٹوں کو بلاؤ‘‘۔ پھر آپ اُنھیں چومتے اور اپنے ساتھ لپٹا لیتے (ترمذی شریف) حضرت عبد الرحمن بن ابی نعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’حسن اور حسین میرے گلشن دنیا کے دو پھول ہیں‘‘ (سنن الکبریٰ، مسند احمد بن حنبل) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے مجھ سے محبت کی اس پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں یعنی حسنین کریمین سے بھی محبت کرے‘‘ (صحیح ابن خزیمہ، مسند بزار) الغرض گلشنِ خانوادۂ نبوت کے اس معطر پھول کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ مناقب و فضائل میں گویا مجمع البحرین اور حسن و جمال کا مرقع زیبا ہے۔ یہ وہ خصائص ہیں، جو زبان نبوت سے بیان ہو رہے ہیں، جس کی صداقت و حقانیت پر خلاق دوجہاں نے ’’وما ینطق عن الھوی ان ھو الّا وحی یوحی‘‘ کے مہر ثبت فرما دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT