Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف اراضی سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو لیز کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے قبول

وقف اراضی سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو لیز کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے قبول

وقف ایکٹ دفعہ 56 کی خلاف ورزی ، وقف بورڈ کو طویل مدتی اراضی لیز دینے کا اختیار نہیں
حیدرآباد۔17 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کی جانب سے عنبرپیٹ میں واقع 2500 مربع گز اوقافی اراضی کو سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو لیز پر دیئے جانے کے معاملے کو سماعت کے لیے قبول کرلیا ہے۔ جسٹس ایم سیتارام مورتی نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود، چیف ایگزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ اور سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو نوٹسیں جاری کی ہیں اور جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ نے رٹ نمبر 9458/2007 داخل کی جسے سماعت کے لیے قبول کرلیا۔ وکلاء رویندرا بھارتی اور سید طارق پاشاہ نے وقف بورڈ کی جانب سے لیز پر دیئے جانے کو وقف قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 56 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ اراضی سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو لیز پر حوالے کی گئی ہے۔ یہ اراضی ماہانہ 15 ہزار روپئے کرایہ پر دی گئی ہے جبکہ وقف ایکٹ کے مطابق اوقافی جائیدادوں کو لیز پر دینے کے لیے اوپن ٹنڈرس طلب کئے جانے چاہئے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ نے 28 جنوری 2017 ء کو احکامات جاری کرتے ہوئے عنبرپیٹ میں واقع جامع مسجد سے متصل 2500 مربع گز اراضی جس پر عثمانیہ ماڈل ہائی اسکول چل رہا ہے، سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کو 30 سال کی مدت کے لیے لیز دے دیا ہے۔ سابق میں یہ اراضی سوسائٹی کو تین سال کی لیز پر دی گئی تھی تاہم بعد میں لیز کی مدت میں 30 سال توسیع کردی گئی۔ وقف بورڈ کو اس قدر طویل مدت کے لیے جائیداد یا اراضی لیز پر دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ حال ہی میں حکومت نے جی او ایم ایس 1 مورخہ 16 جنوری 2017ء جاری کرتے ہوئے 11 اوقافی جائیدادوں کو 30 سالہ لیز پر دینے کے لیے گلوبل ٹنڈرس طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کو استدلال تھا کہ بورڈ نے لیز پر حوالے کرنے کے سلسلہ میں قواعد کی خلاف ورزی کی۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT