Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف اراضی پر مندر کی تعمیر اور چیف منسٹر کے خصوصی پوجا کی مذمت

وقف اراضی پر مندر کی تعمیر اور چیف منسٹر کے خصوصی پوجا کی مذمت

ٹی آر ایس اقلیتی قائدین پر معاملہ کو دبانے کا الزام ، صدر تلنگانہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے بانسواڑہ کے وقف اراضی پر مندر تعمیر کرنے اور چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے خصوصی پوجا کرنے کی سخت مذمت کی ۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی کے علاوہ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کو خاموشی توڑتے ہوئے اوقافی املاک کو تباہی سے بچانے کے لیے آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ روزنامہ سیاست میں نیوز شائع ہونے کے بعد انہوں نے فوری صدر ضلع نظام آباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر سمیر احمد کے علاوہ دوسرے اقلیتی قائدین سے رابطہ پیدا کرتے ہوئے تفصیلات کے ساتھ انہیں 12 اپریل کو حیدرآباد پہونچنے کی ہدایت دے چکے ہیں ۔ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرنے اور اوقافی اراضیات پر موجود ناجائز قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے قیمتی اوقافی جائیدادیں وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا انتخابی منشور کے ذریعہ مسلمانوں سے وعدہ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت اوقافی جائیدادوں پر سے ناجائز قبضے برخاست کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ۔ گذشتہ 22 ماہ کے دوران کئی اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہونچایا گیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی کی قیام گاہ کے بغل میں واقع چیونٹی شاہ مسجد کی وقف اراضی پر پٹہ جات تقسیم کردئیے گئے کانگریس کے احتجاج کے بعد فیصلے سے دستبرداری اختیار کرلی ۔ اس طرح مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی سے متصل وقف اراضی پر گردوارہ کی تعمیر کے لیے احکامات جاری کردئیے گئے کانگریس کے احتجاج کے بعد اس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ پھر ضلع نظام آباد کے اسمبلی حلقہ بانسواڑہ کے موضع تماپور میں واقع درگاہ حضرت مولا علی کی وقف اراضی جس کا سروے نمبر 228/1 کے تحت درج وقف رجسٹرڈ ہے پر تروملا دیواستھانم کے نام سے ایک مندر تعمیر کردی گئی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنے حالیہ دورے نظام آباد کے موقع پر اس مندر میں خصوصی پوجا کی ہے ۔ کانگریس کو مندر تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم وقف اراضی پر مندر تعمیر کرنے پر سخت اعتراض ہے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹی آر ایس کے مقامی اقلیتی قائدین معاملے کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہونچا تو کانگریس کے قائدین بالخصوص اقلیتی قائدین نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کیا لیکن ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین ضمیر فروش اور خوش آمد پسند بن گئے ہیں ۔ انہیں نامزد عہدوں کی فکر ہے آواز اٹھانے پر وزارت سے محروم ہونے یا عہدے نا ملنے کا خوف ہے جس کی وجہ سے تمام اقلیتی قائدین خاموش ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہیں اور حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اوقافی جائیداد وقف بورڈ کے حوالے کردیں ورنہ کانگریس پارٹی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT