Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف اراضی گردوارہ کیلئے مختص، ٹی آر ایس پر الزام

وقف اراضی گردوارہ کیلئے مختص، ٹی آر ایس پر الزام

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے وضاحت پرزور، محمد فخرالدین صدر تلنگانہ اقلیت پی سی سی کا بیان
حیدرآباد ۔ 26 ڈسمبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے منی کنڈہ کی 3 ایکر وقف اراضی گردوارہ کیلئے مختص کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے کا ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی سے مطالبہ کیا۔ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے کہا کہ منی کنڈہ کی ساری اراضی وقف جائیداد ہے۔ اس پر سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کو جو وقف جائیداد پر قائم کی گئی ہے، اس کی 3 ایکر اراضی گردوارہ کو مختص کرتے ہوئے وقف جائیداد کی نہ صرف من مانی حاصل کی ہے بلکہ سپریم کورٹ کو اندھیرے میں رکھا ہے۔ یہ ساری کارروائی محکمہ مال نے کی ہے جس کے وزیر مسٹر محمد محمود علی ہے۔ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے اس معاملے میں ڈپٹی چیف منسٹر کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں قبضہ ہونے والی تمام وقف جائیدادوں پر سے قبضوں کو برخاست کرتے ہوئے وقف جائیدادیں وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم ٹی آر ایس کے دیڑھ سالہ دورحکومت میں قبضہ ہونے والی ایک بھی وقف جائیداد وقف بورڈ کے حوالے نہیں ہوئی ہے الٹا منی کنڈہ کی 3 ایکر وقف اراضی گردوارہ کیلئے مختص کردی گئی ہے۔ وہ ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کریں اور گردوارہ کو حوالے کی گئی وقف اراضی سے فوری دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اس کو وقف بورڈ کے حوالے کردیں۔ اس مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی بھی سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے ڈپارٹمنٹ سے جو غلطی ہوئی ہے اس کو سدھار لیں۔ جس طرح چیونٹی شاہ مسجد سے متعلق وقف اراضی کے مسئلہ پر سدھاری گئی تھی ورنہ مسلمان ٹی آر ایس کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سبق سکھائیں گے اور کانگریس پارٹی ٹی آر ایس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT