Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈس کی تقسیم کے باوجود رقومات کی حصہ داری میں تاخیر

وقف بورڈس کی تقسیم کے باوجود رقومات کی حصہ داری میں تاخیر

آندھرا پردیش وقف بورڈ مالی بحران کا شکار ، ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی مشکل
حیدرآباد۔ 7 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ و آندھراپردیش میں وقف بورڈ کو تقسیم ہوئے تقریباً 6 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آندھراپردیش وقف بورڈ ابھی تک فنڈس اور رقم میں اپنے حصہ سے محروم ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے فکسڈ ڈپازٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم تقسیم کرنے میں تاخیر کے سبب آندھراپردیش وقف بورڈ مالیاتی بحران کا شکار ہوچکا ہے اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ کمشنر اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایل عبدالقادر نے اس سلسلہ میں تلنگانہ حکام کو بارہا توجہ دلائی ہے لیکن رقم کی تقسیم میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ ستمبر 2015 ء میں مرکزی حکومت نے وقف بورڈ کو دونوں ریاستوں میں تقسیم کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا تھا، اس اعلامیہ میں دونوں وقف بورڈ کے درمیان اثاثہ جات ، فنڈس ، ملازمین اور فائلوں کی تقسیم کیلئے واضح رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے لیکن تلنگانہ کے سکریٹری اقلیتی بہبود رقم کی تقسیم سے متعلق فائل کی منظوری میں تاخیر کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گزٹ میں جن رہنمایانہ خطوط کو شامل کیا گیا، اس کا تعین دونوں ریاستوں کے عہدیداروں نے باہمی طور پر کیا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جو عہدیدار مشاورت میں شامل تھے ، آج وہی دونوں ریاستوں میں عہدوں پر فائز ہے۔ اس کے باوجود آندھراپردیش کے حصہ کی اجرائی میں تاخیر نے کئی شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ گزٹ اعلامیہ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ وقف بورڈ کے 49 کروڑ کے فکسڈ ڈپازٹ میں 40 کروڑ آندھراپردیش کا حصہ ہیں ، جسے فوری طور پر جاری کردیا جائے۔ فکسڈ ڈپازٹ کی رقم معہ سود جاری کرنے کی ہدایت دی گئی لیکن تلنگانہ کی جانب سے اصل رقم اور سود دونوں بھی جاری نہیں کئے گئے۔ اس کے علاوہ کیاش بیالنس ، آمدنی ، وقف فنڈ ، کرایے اور ہنڈی کی رقم کی تقسیم کیلئے بھی گائیڈ لائینس جاری کی گئی تھیں۔ یہ رقومات آندھراپردیش کو 45 فیصد اور تلنگانہ کو 55 فیصد حصہ داری کے ساتھ تقسیم کی جائیں گی۔ اس میں 7 کروڑ 56 لاکھ روپئے جمع ہیں اور آندھراپردیش کا حصہ 4 کروڑ 30 لاکھ بتایا جاتا ہے ۔ آندھراپردیش وقف بورڈ کو متولی اور مجاوروں کو ان کا حصہ ادا کرنے میں دشواری ہورہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کو 23 کروڑ روپئے کی اجرائی پر اعتراض ہے جو آندھراپردیش کے اوقافی اداروں کی رقم ہے جسے حج ہاؤز سے متصل دونوں جانب کی اراضیات کی خریدی میں استعمال کیا گیا تھا ۔ آندھراپردیش میں تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ماہانہ 30 لاکھ روپئے کی ضرورت ہے ، جسے وقف فنڈ اور ہنڈی کی رقم سے مکمل کیا جارہا ہے ۔ حج ہاؤز سے متصل اراضیات کی خریدی اور زیر تعمیر کامپلکس میں درگاہ حضرت اسحاق مدنیؒ کی آمدنی کے 13 کروڑ روپئے شامل ہیں جبکہ باقی 10 کروڑ روپئے 54 دیگر اوقافی اداروں کی رقم ہے۔ اس کے علاوہ تین کروڑ روپئے حج ہاؤز کی تعمیر میں استعمال کئے گئے جو درگاہ حضرت اسحاق مدنی کے ہیں۔ اس طرح درگاہ حضرت اسحاق مدنیؒ کے جملہ 16 کروڑ روپئے آندھراپردیش کو ادا کئے جانے ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ اور اقلیتی بہبودکی جانب سے لاکھ تاخیر کرلی جائے لیکن حکومت ہند کے احکامات کے مطابق انہیں مکمل رقم ادا کرنی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT