Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ جلد تشکیل دینے اور %12 تحفظات کیلئے پہل کی اپیل

وقف بورڈ جلد تشکیل دینے اور %12 تحفظات کیلئے پہل کی اپیل

بجٹ مانیٹرنگ کمیٹی، پرائس کنٹرول بورڈ اور اسکولس مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی تجاویز
حیدرآباد۔15 مارچ (سیاست نیوز) ایلڈرس تھنک ٹینک ، سادات ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے زیراہتمام علیگڑھ کلب ، بشیر باغ گول میز کانفرنس بعنوان ’’ اقلیتوں کے متفرق مسائل کی یکسوئی اور حکومتوں کی ذمہ داریاں‘‘ علیگڑھ کلب میں منعقد ہوا۔ ممتاز جہد کار ڈاکٹر چرنجیوی نے کہا کہ جسٹس سچر کمیٹی رپورٹ کے سبب اقلیتوں کی پسماندگی سے چیف منسٹر صاحب واقف ہونے کے سبب ہی انہوں نے اپنے طور پر 12% تحفظات کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت تشکیل پانے کے بعد عملی اقدامات کے بجائے سدھیر کمیٹی کا قیام غیرضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی تحفطات دینے کی بھی اپیل کی۔ کانگریس قائد جناب خلیق الرحمن نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل کی پذیرائی کیلئے ہم سب کو سیاسی وابستگی سے بلند ہوکر متحدہ جدوجہد کرنی چاہئے۔ انہوں نے وقف بورڈ کی فی الفور تشکیل دینے اور وقف بورڈ میں اقرباء پروری پر کنٹرول کرنے کی اپیل کی۔ مولانا سمیع الرحمن نے گزشتہ 20 ماہ کی مدت میں حکومت کی جانب سے کئی اہم اسکیمس شروع کرنے پر ستائش کی اور کہا کہ اقلیتوں کے تئیں اور اُردو اکیڈیمی، اقلیتی کمیشن اور حج ہاؤز کے نامزد عہدوں کو پُر کرے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں ایک منٹ کی تاخیر سے آنے والے طلبہ کو امتحان میں شرکت سے محروم کرنے پر اظہار ِتاسف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے طلبہ کیلئے علیحدہ امتحانات کیسے منعقد کئے جائیں۔ جناب بھانیکر بنسی ایڈوکیٹ (کرسچین برادری) نے کہا کہ اضلاع کے طلباء کیلئے بہترین علیحدہ ہاسٹلس قائم کئے جائیں اور عیسائی برادری کے نمائندوں کو بھی حکومت کے مختلف اداروں میں نمائندگی دی جائے۔ جناب علی الدین قادری نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی ، پسماندہ اقلیتوں کی خوشحالی سے مربوط ہوتی ہے۔ حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے بجٹ مانیٹرنگ کمیٹی، پرائس کنٹرول بورڈ، اسکول مانیٹرنگکمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔ جناب محمد اظہرالدین (جماعت اسلامی) نے اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کے اہتمام کی تجویز پیش کی تاکہ  سماج میں غیراخلاقی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔ فارم ہاؤز، بار، پب ، لاجس اور کلچرل سنٹرس پر کڑی نظر رکھنے کی تجویز پیش کی ۔ علاوہ ازیں کسی بھی قسم کے جلسہ یا جلوس کو 10 بجے شب کے بعد نکالنے پر پابندی لگانے اور لینڈ گرابرس، رہن سنٹرس پر بھی خاص نظر رکھنے کی تجاویز پیش کیں۔ ڈاکٹر سیادت علی کے شکریہ کے بعد یہ ہمہ مقصدی کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT