Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ خود اپنی عمارت میں ناجائز قبضہ کو روکنے سے قاصر

وقف بورڈ خود اپنی عمارت میں ناجائز قبضہ کو روکنے سے قاصر

اقلیتی ادارے کرایہ دار لیکن عملاً قابض ، کرایہ کی عدم ادائیگی ، غیر مجازارت تعمیرات ، حج ہاوز نامپلی وقف عمارت پر سرگرمیاں
حیدرآباد۔ 18۔ اپریل ( سیاست نیوز) حج ہاؤز نامپلی کی عمارت وقف بورڈ کی ملکیت ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا کام کرنے والا یہ ادارہ خود اپنی عمارت میں ناجائز قبضے کو روکنے سے قاصر ہے۔ حج ہاؤز میں موجود اقلیتی ادارے اصولاً وقف بورڈ کے کرایہ دار ہیں لیکن کرایہ کی عدم ادائیگی کے ذریعہ وہ عملاً قابض بن چکے ہیں۔ وقف بورڈ کو شہر اور اضلاع میں اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے ساتھ حج ہاؤز کے قابضین کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ سے اجازت لئے بغیر ہی اقلیتی ادارے من مانی تعمیرات اور توسیع کر رہے ہیں۔ حالانکہ عمارت میں کسی بھی تبدیلی یا تعمیری کام کیلئے وقف بورڈ کی اجازت ضروری ہے۔ گزشتہ دنوں انفارمیشن سنٹر کے نام پر حج ہاؤز کے گراؤنڈ فلور پر ایک حصہ حاصل کرلیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے وقف بورڈ کی اجازت حاصل کئے بغیر انفارمیشن سنٹر کے نام پر عملاً قبضہ کرلیا اور تعمیری کام کا آغاز کیا گیا۔ وقف بورڈ چونکہ عمارت کا مالک ہے ، لہذا کارپوریشن کیلئے ضروری تھا کہ وہ جگہ کیلئے درخواست داخل کرتا لیکن اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کے نتیجہ میں بعض افراد من مانی پر اتر آئیں ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے انفارمیشن سنٹر کی مجوزہ جگہ کا معائنہ کیا اور مقام میں تبدیلی کی ہدایت دی۔ کارپوریشن کی جانب سے یہ انفارمیشن سنٹر قائم کیا جارہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس میں تمام اقلیتی اسکیمات کے بارے میں تفصیلات موجود رہیںگی۔ اس کے علاوہ درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں رہنمائی کی جائے گی۔ کارپوریشن کا یہ اقدام یکطرفہ ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انفارمیشن سنٹر کے سلسلہ میں دیگر اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور اچانک ان سے اسکیمات کی تفصیلات طلب کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن میں حالیہ عرصہ میں وظیفہ کے بعد دوبارہ مامور کئے گئے شخص کو مصروف رکھنے کیلئے یہ سنٹر قائم کیا جارہا ہے ۔ سنٹر کے قیام کیلئے کیبن کی تعمیر اور دیگر کاموں کے سلسلہ میں بھی وقف بورڈ سے اجازت نہیں لی گئی۔ سنٹر کیلئے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ ناموزوں ہے اور عوام کو معلومات کے سلسلہ میں عمارت کے باہر سے کاؤنٹر کے پاس آنا پڑے گا۔ یہ علاقہ گاڑیوںکی پارکنگ کا ہے اور کھلے علاقہ کے سبب دن بھر دھوپ رہتی ہے۔ بارش کے موسم میں ظاہر ہے کہ عوام کو بھگتے ہوئے سنٹر سے رجوع ہونا پڑے گا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خود اس سنٹر کے قیام سے حیرت میں ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس سنٹر کے قیام سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ کسی بھی اسکیم کیلئے عوام راست طور پر متعلقہ ادارہ سے رجوع ہوتے ہیں۔ اسکالرشپ اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کے لئے عوام کو انفارمیشن سنٹر سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ انہیں راست طور پر ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس سے رجوع ہونا پڑے گا۔ حج کمیٹی اردو اکیڈیمی اور وقف بورڈ کی اسکیمات ایسی نہیں انفارمیشن سنٹر سے فائدہ ہو۔ ان اداروں سے متعلق مسائل کیلئے لوگ راست طور پر عہدیداروں سے رجوع ہوتے ہیں۔ ایسے میں انفارمیشن سنٹر کا قیام عوام کیلئے فائدہ مند نہیں ہوسکتا۔ دراصل اقلیتی فینانس کارپوریشن میں سبسیڈی اور لون اسکیم کے بارے میں کئی شکایات ہیں، لہذا کارپوریشن نے انفارمیشن سنٹر کے نام پر گراؤنڈ فلور پر اپنے لئے علحدہ جگہ حاصل کرلی ہے تاکہ بعض افراد کو مصروف رکھا جاسکے۔ اقلیتوں میں اسکیمات سے متعلق تفصیلات انفارمیشن سنٹر یا ہیلپ لائین سے حاصل کرنے کا رجحان نہیں ہے بلکہ راست طور پر متعلقہ دفتر سے رجوع ہوتے ہیں۔ انفارمیشن سنٹر اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں درمیانی افراد کے مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT