Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ سے رمضان پیاکیج کپڑوں کے سرقہ کی شکایت جھوٹی ثابت

وقف بورڈ سے رمضان پیاکیج کپڑوں کے سرقہ کی شکایت جھوٹی ثابت

ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تحقیقات پر ملبوسات دستیاب
حیدرآباد۔ 19مئی (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں آج اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور حکومت کے مشیر اے کے خان نے گزشتہ سال رمضان المبارک کے کپڑوں کے پیکیجس کے سرقہ کے سلسلہ میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ اس سلسلہ میں گزشتہ سال رمضان پیکیج کے تقسیم کے انچارج عہدیدار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور جیسے ہی ایف آئی آر درج کرنے کا مرحلہ قریب آیا، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے سازش کو بھانپ لیا اور خود اسٹور روم میں معائنے کے لیے پہنچ گئے۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ رمضان کے کپڑوں کے چار بنڈل غائب ہونے کی جو شکایت کی گئی تھی وہ جھوٹی ثابت ہوئی اور تمام بنڈل محفوظ ہیں۔ اس طرح محکمہ مال کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں وقف بورڈ سے علیحدہ کرنے کی سازش ناکام ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رول ادا کرنے والے محکمہ مال کے ریٹائرڈ ایمپلائز کو عارضی طور پر ایگزیکٹیو آفیسرس کی حیثیت سے تقرر کیا گیا ہے۔ یہ عہدیدار اہم اوقافی جائیدادوں کا سروے کرتے ہوئے ریونیو ریکارڈ حاصل کررہے ہیں اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کارکردگی کے مخالفین جن کا تعلق وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات سے ہے نے وقف مافیا سے ملی بھگت کے ذریعہ سازش تیار کی اور ایگزیکٹیو آفیسر شریف خان کو نشانہ بنانے کی تیاری کرلی۔ شریف خان گزشتہ سال رمضان پیکیج کی تقسیم کے انچارج تھے اور انہوں نے باقی کپڑوں کو اسٹور روم میں محفوظ کردیا تھا۔ ایماندار ریٹائرڈ ایمپلائز کو وقف بورڈ سے بھگانے کے سازشی افراد نے ڈپٹی چیف منسٹر اور حکومت کے مشیر کو شکایت کی کہ گزشتہ سال کے بچ جانے والے چار بنڈل غائب ہوچکے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں فوری ایف آئی آر درج کیا جائے اور گزشتہ سال تقسیم کے انچارج کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی وقف بورڈ میں سنسنی دوڑ گئی اور ریٹائرڈ ملازمین الجھن کا شکار ہوگئے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے شریف خان کو طلب کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کی جس پر انہوں نے بتایا کہ بچ جانے والے چار بنڈل انہوں نے اسٹور روم میں محفوظ کردیئے تھے اور کس طرح غائب ہوئے ہیں وہ لا علم ہیں۔ مذکورہ عہدیدار کی کارکردگی سے واقف منان فاروقی نے سازش کو بھانپ لیا اور خود اسٹور روم کے معائنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی وہ اسٹور روم پہنچے انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چار بنڈل محفوظ ہیں۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اطمینان کی سانس لی اور شریف خان کی ایمان داری کی ستائش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کپڑے ضلع ورنگل کے لیے مختص تھے لیکن وہاں کے رکن اسمبلی نے اسے ورنگل پہنچانے کی شرط رکھی جس کے باعث یہ بنڈل حیدرآباد میں ہی رہ گئے۔ منان فاروقی نے فوری ایک مکتوب ڈپٹی چیف منسٹر اور مشیر اقلیتی امور کو روانہ کرتے ہوئے واقف کروایا کہ تمام بنڈل محفوظ ہیں اور انہوں نے شخصی طور پر ان کا معائنہ کیا ہے۔ اس طرح اعلی سطح پر کی گئی شکایت جھوٹی ثابت ہوئی۔ کردار کشی کی اس سازش سے دلبرداشتہ ہوکر محکمہ مال کے ریٹائرڈ ملازمین نے وقف بورڈ میں خدمات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے انہیں یقین دلایا کہ مستقبل میں اس طرح کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی شکایت کرنے والوں کی نشاندہی کی جارہی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے پراجکٹ سیکشن سے میڈیا کو یہ شکایت کی گئی اور اسے ڈپٹی چیف منسٹر اور حکومت کے مشیر تک پہنچایا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT