Tuesday , May 30 2017
Home / شہر کی خبریں / !وقف بورڈ سے فائیلوں کی جانچ کے نام پر چوری

!وقف بورڈ سے فائیلوں کی جانچ کے نام پر چوری

سی ای او کی عدم موجودگی ،ایک رکن وقف بورڈ حرکت میں آگئے
حیدرآباد۔17 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اہم قدم اٹھائے جائیں گے لیکن بورڈ کے پہلے اجلاس کے ساتھ ہی صورتحال میں سدھار کے بجائے بحران میں شدت پیدا ہوگئی۔ انچارج چیف ایگزیکٹیو آفیسر غوری نے اپنی رخصت کو مزید طویل کرلیا ہے اور سی ای او کی عدم موجودگی میں اہم فائیلوں کو نکالنے اور ان میں مبینہ طور پر الٹ پھیر کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ حکومت نے وقف بورڈ کی قرارداد پر ابھی تک اپنا فیصلہ نہیں لیا اور متعلقہ فائیل چیف منسٹر کے پاس زیر التوا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر وقف بورڈ کی اہم فائیلوں کو جمع کرنے اور ان کا جائزہ لینے کا کام بعض ارکان نے شروع کردیا ہے جبکہ بورڈ کے ارکان کو فائیلوں کا جائزہ لینے یا ان کی یکسوئی کا کوئی اختیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کو ان کے متعلقہ محکمہ مال میں واپس کرنے کی کوششوںکو مقامی جماعت نے تیزکردیا ہے اور انہیں اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر کی تائید حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے خواہش کی کہ وہ اسد اللہ کو متعلقہ محکمہ میں واپسی کے احکامات جاری کردیں۔ محکمہ کے ماتحت عہدیداروں سے اس سلسلہ میں فائل تیار کرتے ہوئے سکریٹری کو روانہ کی گئی لیکن انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے فیصلہ کیئے جانے تک اس فائل کو منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیوں کہ اگر چیف منسٹر اسد اللہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کریں تو پھر انہیں متعلقہ محکمہ میں واپس بھیجنے کے احکامات غلط ہوجائیں گے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے ایک رکن نے صدرنشین کی موجودگی میں تمام متعلقہ سیکشنوں کے انچارج عہدیداروں، ریٹائرڈ ڈپٹی کلکٹرس، ایگزیکٹیو آفیسرس اور ریٹائرڈ عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے ان کے متعلقہ سیکشنوں میں حالیہ عرصہ میں کیئے گئے اہم فیصلوں کی فائلیں طلب کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں کو زبانی ہدایات دی گئیں جبکہ مذکورہ رکن کے پاس طلب کی جانے والی تمام فائلوں کی فہرست موجود تھی۔ اکائونٹس، اسٹابلشمنٹ، تولیت اور دیگر شعبہ جات سے اہم فائلیں اندرون دو یوم پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بورڈ کی موجودہ صورتحال سے عہدیدار اور ملازمین الجھن کا شکار ہیں اور وہ یہ طے نہیں کر پارہے ہیں، کہ وقف رولس کے برخلاف کس طرح کسی رکن کو فائلیں حوالے کی جاسکتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل سے متعلق اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے کیئے گئے تمام فیصلوں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں تاکہ سکریٹری اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے خلاف چارج شیٹ تیار کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ متنازعہ فیصلوں کے سلسلہ میں حکومت کو سکریٹری اقلیتی بہبود کے خلاف بھی رپورٹ پیش کرے گا جنہوں نے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے فائیلوں پر دستخط کی ہے۔ بورڈ میں گزشتہ چار دن سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر موجود نہیں اس کے باعث ہر سطح پر سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات اور ناجائز قابضین کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ مفلوج ہوچکا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو جائیدادوں کو نقصان کا اندیشہ ہے کیوں کہ غیر مجاز قابضین نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے جن میں وقف بورڈ سے متعلقہ فائیلوں کا حصول بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT