Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ مختلف مسائل کا شکار ، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا مقصد متاثر

وقف بورڈ مختلف مسائل کا شکار ، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا مقصد متاثر

بیرونی افراد کی ملی بھگت سے اہم جائیدادوں کے تحفظ میں ناکامی ، لاء آفیسرس کی قلت
حیدرآباد۔/7اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق ادارہ وقف بورڈ ان دنوں مختلف مسائل کا شکار ہے جس کے باعث اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا مقصد بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ وقف بورڈ میں یوں تو عہدیداروں اور ملازمین کی جانب سے مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایات کوئی نئی بات نہیں لیکن اعلیٰ عہدیداروں کے بعض فیصلوں نے اس طرح کے عناصر کیلئے مزید آزادی فراہم کردی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بیرونی افراد کی مداخلت اور اندرونی افراد کی ملی بھگت کے سبب کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کو ناکامی ہوئی اور آج بھی صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔ حکومت اگرچہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدگی کا بارہا اظہار کرچکی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقف بورڈ کا عملہ اور عہدیدار اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کے سبب کئی اہم اوقافی جائیدادوں کو دوبارہ خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ وقف بورڈ میں اہم عہدوں پر ریٹائرڈ ملازمین کو مامور کیا گیا ہے جبکہ ہر سطح پر اس طرح کے ملازمین اور اقرباء پروری کی کئی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بورڈ میں اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی اور عہدیدار مجاز کے طور پر مقرر کئے گئے عہدیدار سے ماتحت عہدیداروں کا عدم تعاون کارکردگی میں ابتری کی اہم وجہ ہے۔ اہم ذمہ داریوں پر قابل اور اہل افراد کی کمی نے بورڈ کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ڈسپلن شکنی کے الزامات کے تحت مئی میں 4عہدیداروں کو معطل کیا گیا تھا جن کا تعلق اہم شعبہ جات سے تھا ان میں سے دو عہدیدار عدالت کے حکم پر بحال ہوگئے لیکن اعلیٰ عہدیداروں نے ابھی تک انہیں کوئی کام الاٹ نہیں کیا ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں نے ایک معطل شدہ عہدیدار کو سیاسی دباؤ کے تحت بحال کردیا جبکہ ایک عہدیدار کی معطلی ابھی بھی برقرار ہے۔ بورڈ میں پہلے ہی اہل عہدیداروں کی کمی ہے ایسے میں عہدیداروں کی معطلی نے ماتحت عملے میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ریٹائرڈ عہدیداروں کے ساتھ ماتحت عملے کے عدم تعاون کا رویہ بھی کارکردگی ٹھپ ہونے کی اہم وجہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں وقف بورڈ کے ملازمین کی تعداد 91 ہے جبکہ آندھرا میں یہ تعداد 60ہے ان میں مستقل اور عارضی ملازمین شامل ہیں۔ اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کی یکسوئی کے سلسلہ میں چار لاء آفیسرس کے عہدے موجود ہیں لیکن فی الوقت یہ تمام عہدے مخلوعہ ہیں۔ ایک سینئر اسسٹنٹ رتبہ کے ملازم کو لاء آفیسر مقررکیا گیا جو قانونی اُمور میں بورڈ کی مناسب رہنمائی سے قاصر ہے۔ لیگل سیکشن جو کہ جائیدادوں کے تحفظ میں کلیدی رول ادا کرتا ہے اس سیکشن میں اہل افراد کی کمی ہے۔ مقدمات کے جوابی حلفنامے داخل کرنے کیلئے بیرونی افراد کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جس سے اکثر مقدمات میں وقف بورڈ کو ناکامی کا سامنا ہے۔ لیگل سیکشن میں اہل عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں تحت کی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک زیر التواء مقدمات کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ اوقافی اُمور کے سلسلہ میں بورڈ سے رجوع ہونے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ بورڈ میں ہر سطح پر کرپشن عام ہوچکا ہے اور اس بات کا اظہار اوقاف سے متعلق ایوان کی کمیٹی کے ارکان نے بھی کل کے اجلاس میں کیا تھا۔ الغرض وقف بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے ان کی تباہی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقف بورڈ کی تنظیم جدید کرتے ہوئے قابل اور اہل افراد کو تعینات کرے اور ریٹائرڈ افراد اور اقرباء پروری کے چنگل سے بورڈ کو آزاد کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT